19 ويں رمضان کے موقع پر:

ہمارے آئمہ معصومين عليہ السلام کي سيرت اور سنت، حقيقي اسلام کي عملي صورت ہے جو انکي زندگيوں ميں واضح نظر آتي ہے قرآن ميں بيان ہوئے علمي اصولوں کي يہ عملي تفسير ہيں جس طرح ہم قرآن کے باطن اور حقيقت حتي ظاھر تک بھي رسائي پيدا نہيں کرپاتے اس طر ح ہم اپنے آئمہ معصومين کي سيرت و سنت سے بھي کما حقہ آشنا نہيں ہوتے? يہاں اس مختصر تحرير ميں ہم کو شش کريں گے اپني عام زندگي ميں دوسروں سے ميل جول کے سلسلے ميںامام المتقين امير المومنين علي عليہ السلام کي سير ت کے گوہر بار اصولو ں کا جائزہ قرآني بيانات کي روشني ميں پيش کريں ?
قرآن کريم ميں لوگو ں سے ميل جو ل کے سلسلے ميں مختلف احکام بيان ہو ئے ہيں جنھيں مجموعي طور پر ہم تين طر ح کے روابط ميں خلاصہ کرسکتے ہيں (1)
1? سب کے ساتھ محبت آميز اور پر خلوص رابطہ، حتي نادان دشمنوں کے ساتھ
2?دشمنان دين کے ساتھ سخت اور دو ٹوک سلوک
3?منحرف اور گناہ کار دوستوں کے ساتھ سخت رويہ
قرآن کريم ميں ان بيان کيئے گئے ان کلي اور عمومي اصولوں کي روشني ميںذيل ميں ہم سيرت امام علي عليہ السلام پر نگا ہ کريں تو؛
?نہج البلاغہ ميں امير المومنين امام علي عليہ السلام مومنو ں کے ساتھ با محبت رويہ اپنا تے ہيں اور انہيںبھي سختي اور بدسلو کي سے پر ہيز کرنے کو کہتے ہيں ?
1? سع النا س بو جھک و مجلسک و حکمک و اياک والغضب فانہ طيرة من الشيطان (2)
لوگوں کے ساتھ اٹھنے بيٹھنے، حکم و قضاوت کے دوران ہشاش چہرے کے ساتھ رابطہ قائم کريں اور غصے اور سختي سے پرہيز کريں کيونکہ يہ شيطان کا پھينکا ايک تير ہے (شگوفہ ہے )
2?الحدہ ضر ب من الجنون لا ن صاحبھايندم فان لم يندم فجنونہ مستحکم (3)
غصہ ايک قسم کا جنو ن اور پاگل پن ہے کيو نکہ غصيلے شخص کو ندامت کا اظہا ر کرنا پڑتا ہے اور اگر نادم نہ ہو تو يہ دليل ہے اس بات کي اسکا جنون آخري مراحل ميں ہے ?
اس طرح اپنے ان اصحاب سے کہ جنھو ں نے دشمن کے سامنے سستي کا مظاھرہ کيا تھا فرماتے ہيں :
يا اشبا ہ الرجال و لا رجال، حلوم الاطفال و عقول ربات الحجال قاتلکم اللہ لقد ملاتم قلبي قيحا و شختم صدري غيظا
اے مردوں کے مشکل و صورت والے نا مردو !تمھاري عقليں بچوں کي سي، اورتمھاري سمجھ حجلہ نشين عورتوں کي مانند ہے ? اللہ تمہيں ہلاک کرے، مير ے دل کو پيپ سے بھر ديا ہے اور مير ے سينے کو غيظ و غضب سے چھلکا ديا ہے جبکہ اپنے خالص اور مومن اصحاب کے بارے ميں فرمايا
انتم الا نصارعلي الحق، والا خوان في الدين و الجنن يو م الباس و البطانتہ دون النا س (4)
تم حق کے قائم کرنے ميں مير ناصر و مددگار ہو اور دين ميں ايک دوسرے کے بھائي، اور سختيو ں ميں مير ي سپر ہو، اور تمام لو گوں کو چھوڑ کرتم ہي مير ے راز دار ہو ?
دشمن دين عمر و عاص جب شام ميں امام علي عليہ السلام کي خلافت کے مقابلے ميں معاويہ کے حق ميں ديليل کے طور پر امام عليہ السلام کو مزاحيہ اور شوخ طبيعت اور معاويہ کو باوقار شخصيت ثابت کرنے ميں لگاہوا تھا تو امام عليہ السلام نے اسے سختي سے جھٹلايا اور فرمايا ?
عجبا لا بن النابغة يز عم لا ھل الشام ان في دعابتہ (5)
حيرت ہے ناپا ک اور گندي عورت کے بيٹے پر، مير ے بارے ميں اہل شام سے يہ کہتا پھر تا ہے کہ مجھ ميں مسخرہ پن پايا جاتا ہے ?
معاند اور دشمن دين افراد کے ساتھ ايسي سخت اور کرخت روش کے مقابلے ميں دوسروں سے امام عليہ السلام انتہا درجے کي روا داري سے پش آتے حتي بسا اوقات تغا فل کا راستہ اپنا تے ? تغا فل سے مراد يہ ہے کہ انسان کسي چيز کے بارے ميں جانتا ہواور آگاہ ہو ليکن کسي مصلحت کے تحت اپنے آپ کو غافل اور بے خبر ظاہر کرے اور اس طرح سامنے والے سے معاملہ کرے کہ وہ سمجھے جيسے اسے مو ضو ع کے بارے ميں کچھ علم ہي نہيں ہے ?ايک دن اميرالمومنين عليہ السلام نے کوفہ ميں کچھ خوارج کو اپنے بارے ميں نا ز يبا اور نا شائستہ باتيں کرتے ہوئے سنا ليکن ان کے قريب سے بڑے وقا ر اور شرافت سے گزر گئے اور فرمايا وہ ميرے بارے ميں بات نہيں کر رہے ?
تغافل کے بارے ميں اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا :
اشرف اخلا ق الکريم “کثرة تغافلہ عما يعلم “(6)
باکرم شخص کا عالي ترين اخلاق يہ ہے کہ جو کچھ جانتا ہو اس کے بارے ميں تغافل کرے ?اسي طرح فرمايا :”من يتغا فل عن کثير من الا مور تنغضت عيشة”(7)
جوکوئي بھي اکثر امور ميں تغافل نہ کرے اپنے آرام و سکون کو برباد کر دے گا ?
البتہ ايک چيز مد نظر رکھني چاہيے تغافل اور غفلت ميں بہت بڑا فرق ہے ?غفلت ايک نا پسند صفت ہے جس سے بڑي سختي سے منع کيا گيا ہے ?غفلت ايک قسم کي بے توجہي سستي اور مستي ہے جو انسان کو يا د خدا سے دورکر ديتي ہے اور انسان کو انحراف و سقوط کے دہانے پر لا کھڑا کرتي ہے ?
امام عليہ السلام اس بارے ميں فرماتے ہيں :
الغفلة ا ضر الا عداء : غفلت سب سے زيادہ نقصان دہ دشمنوں ميں سے ہے ?
الغفلة شيمة النو? کي :غفلت احمق اور بے وقوفوں کي صفت ہے
الغفلة ضلا لة :غفلت ايک قسم کي گمراہي ہے ?
پس غفلت ايک نا پسند صفت جبکہ تغافل کسي مصلحت کي خاطر جانتے بوجھتے نظر انداز کرنے کا نا م ہے ?اور انساني معاشرے ميں تعلقات کو بہتر انداز ميں استوار رکھنے اور نفرتوں اور کدور توں اور دوسروں کي عزت نفس کے تحفظ کا ذريعہ ہے?
اس لئے مولا کائنا ت امام علي عليہ السلا م نے فرمايا:
“نصف العاقل احتمال و نصفہ تغا فل “(8)
آدھي عقلمندي ہشياري اور آدھي نظر اندازي (تغافل )ہے
تغافل يا نظر انداز کرنا حلم سے بڑا نزديک ہے بلکہ حلم کي اقسام ميں سے ايک قسم ہے اور بغير حلم تغافل نصيب نہيں ہو تا يہي وجہ ہے امام علي عليہ السلا م نے ارشاد فرمايا :
لا حلم کا لتغافل(9)
تغافل (چشمہ پوشي، نظر اندازي )جيسا کوئي حلم نہيں ?
اس سلسلے ميں پيغمبر اکرم صل اللہ عليہ وآلہ وسلم کا اس کوڑا کرکٹ پھينکنے والي بڑھيا کے ساتھ برتائو اور امام حسن مجتبي عليہ السلا م کا شامي مرد کے ساتھ اور انکا نتيجہ يہاں ذکر کرنے کي ضرورت نہيں کہ قارئين کئي ان خوبصورت واقعات کو سن چکے ہوں گے ?جو ہمارے لئے عملي زندگي ميں بڑے عبرت آموز درس کي حيثيت رکھتے ہيں ?
يہا ں امام علي عليہ السلام کے سياسي روابط اور سياسي سيرت کسے متعلق چنداقوال کا مطالعہ کرتے ہيں ?امام عليہ السلام کے پانچ سالہ خلافت کے دور ميں ان کا لو گوں کے ساتھ جو سياسي تعلق برقرار تھا، اس ميں ان کي سياست کا محور لو گو ں کے ساتھ ان کا اسلامي عادلانہ سلوک اورتمام تدابيراور حکمت عملي کا اسلامي شريعت کي حدود ميں محدود ہونا تھا? يہ طريقہ کار ان کي عملي سيرت کے ساتھ ساتھ ان کے تمام خطبات اور مکتوبات ميں بھي واضح ہے?
امام علي عليہ اسلام کيلئے خلافت اور حکومت ھدف نہ تھا بلکہ اسلام کي حفاظت اور اسلامي سياست کے اجراء کا ايک وسيلہ تھا ?جسکا اظہار مکتوب نمبر 62ميں امام علي عليہ السلام نے کچھ اس انداز سے کيا فرماتے ہيں :
“حتي رايت راجعة الناس قدر جعت عن الا سلام ???علي اعظم من فوت ولا يتکم???”
يہاں تک کہ ميں نے ديکھا کہ مر تد ہونے والے اسلام سے مرتد ہو کر محمد صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دين کو مٹا ڈالنے کي دعوت دے رہے ہيں ?اب ميں ڈرا کر اگر کوئي رخنہ يا خرابي ديکھتے ہوئے ميں اسلام اور اہل اسلام کي مدد نہ کروں گا تو ميرے ليئے اس سے بڑھ کر مصيبت ہو گي جتني يہ مصيبت کہ تمھاري يہ حکومت ميرے ہاتھ سے چلي جائے جو تھوڑے دنوں کا اثاثہ ہے ?
امام علي عليہ السلام کي سياست اور معاويہ کي سياست کا فرق يہ تھاکہ معاويہ کاموں کي اصلاح کے نام پر حتي اگر خلاف اسلام ہي کيوں نہ ہو ہر چيز کا استعمال کرتا ليکن امام علي عليہ السلام اسلام کي حدود سے باہر نہ نکلتے ?
حکومت بھي امام علي عليہ السلام نے اسي بنياد پر ہاتھ لي تھي :
“وما اخذ اللہ علي العلما ء ا لا يقا رو ا علي کظة ظا لم ولا سغب مظلوم لا لقيت حبلھا علي غاربھا ?(10)
اور وہ عہدنہ ہو تا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کي شکم پري اور مظلوم کي بھوک پر سکون و قرار سے نہ بيٹھيں تو ميں خلافت کي باگ دوڑ اسي کے کندھے پر ڈال ديتا ?
يا جيسے ايک اورمقام پر اس طرح فرماتے ہيں کہ اگر ميرے پيش نظر حق کا قيام اور باطل کا مٹانا نہ ہوتو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے يہ جو تا مجھے کہيں زيادہ عزيز ہے (11)
ساتھ ہي حکومت ہاتھ ميں لينے کے بعد امام عليہ السلام نے کبھي اس حکومت کي باگ دوڑ اپنے ہاتھ ميں رکھنے کيلئے کوئي غير شرعي راستہ يا مکرو فريب کا راستہ نہيں اپنايا ?اور فرمايا :
“ولولا کرا ہية الغدر لکنت من ادھي الناس (12)
اور اگر مجھے عياري اور غداري سے نفرت نہ ہوتي تو ميں سب لوگوں سے زيادہ ہو شيار و زيرک ہوتا ليکن ساتھ ہي دوسروں کي چالاکيوں اور مکاريوں سے غافل نہيں تھے جيساکہ فرمايا :
“واللہ ما استغفل بالمکيدہ “خدا کي قسم ! مجھے ہتھکنڈوں سے غفلت ميں نہيں ڈالا جا سکتا ?
جو مومن کي نشانيوں ميں سے ہے اسي لئے امام علي عليہ السلام نے سياسي عقل کو دين کي پيروي اس کے احترام کي حفاظت کا درجہ دے رکھا تھا اور سياست کو خداوند متعال کي عبوديت اور رضا الہي کے حصول کا ذريعہ سمجھتے تھے ?جبکہ معاويہ اپني ظالمانہ رقابت ميں خلاف عقل اعمال انجام ديتا ?اور غافل لوگ معاويہ کو امام علي عليہ السلام سے زيادہ سياستدان سمجھتے جبکہ حقيقت يہ ہے ان لوگو ں کو عقل کي حقيقت کاصحيح علم نہ تھا اسي وجہ سے صحيح عقل والے يا عاقل کي بھي پہچان نہ تھي ?
امام صادق عليہ اسلام سے کسي نے سوال کيا کہ عقل کيا ہے ؟
امام نے فرمايا :”العقل ما عبد بہ الر حمن و اکتب بہ الجنان “ عقل يہ ہے کہ اس کے ذريعے خداي رحمان کي عباد ت کي جائے اور بہشت حاصل کي جائے
پوچھا گيا؛ پس عقل معاويہ کيا تھي ؟
آپ نے فرمايا:”تلک النکر ا ء، تلک الشيطنة وھي شبية با لعقل وليست بالعقل (13)
وہ دھوکہ ہے، شيطانيت ہے اور ظاہراً عقل سے مشا بہت رکھتي ہے، ليکن عقل نہيں ہے ?
جس طرح اما م علي عليہ السلام نے سياست ميں کسي نا شروع اور غلط وسيلہ کو استعمال نہ کيا تھا اسي طرح دھوکہ باز اور منحرف افراد کو بھي کبھي اپنا ساتھي يا ياور و مددگا ر نہ بنا يا? اور انہيں سختي سے اپنے سے دور کرتے اور قول باري تعالي کے مطابق کبھي منحرف افراد کو اپنے اعلي? اھداف کيلئے استعمال نہ کيا :
سورہ کہف آيہ 5 : “وما کنت متخذ المضلين عضدا “؛ گمراہوں کو اپنا بازو اور معاون قرار نہيں دوں گا ”
جس طرح جھوٹ جو ايک کھلي اور اشکار ا گمراہي اور انحراف ہے اس کے بارے ميں ہے کہ مزاح ميں بھي جھوٹ نہيں بولنا چاہيے کيونکہ ابتدائي چھوٹا انحراف آگے چل کر ايک بڑے انحراف اور برائي کا راستہ کھولتا ہے ?
يہي وجہ ہے کسي بھي چھوٹي برائي اور انحرافي وسيلے کو پا ک اور الوھي اھداف کيلئے استعمال کرنے سے بچنا چاہيے، کيونکہ گمراہي اور ضلالت حتي چھوٹي سطح پر بھي الوھي ھدف تک انسان کو سالم و کامل نہيں پہنچا سکتي ?
آج اگر ہم عمر کے ابتدائي حصے ميں اپنے آپ کو ان چھوٹي گمراہيوں اور انحرافات سے نہ بچاسکيں اور دوستي، انا اور ضد کے ہاتھوں منحرف افراد کے ساتھ لولگا ئے بيٹھے رہيں توکل اپني عملي زندگي ميں حق کا ساتھ دينے ميں بڑي مشکلات کا شکار ہو جائيںگے?بڑا واضح ہے، جس طرح امام علي عليہ السلام نے اپنے پاک ھدف کيلئے غلط وسيلہ تو کياغلط اور منحرف افراد کو بھي اپنا ہمنوا بنانا پسند نہ فرمايا تھا، تو کياعلي عليہ السلام کا بيٹا ظہور کے وقت منحرف اور گمراہ افراد ياان کا ساتھ دينے والو ں کو اپنے لشکر ميں شامل کرنا پسند فرمائيں گے ؟ خداوند متعال سے دست بستہ دعا گو ہيں کہ ہم سب کو ہر قسم کي برائي اور گمراھي سے نجات دے اور اگر ناخواستہ اس راستہ پر چل کھڑے ہوں تو ہميں پلٹنے کي تو فيق عنايت فرما اور انہي چندا صولو ں پر جو ہميں سمجھ آرہے ہيںپوري تند دھي سے عمل کرنے کي تو فيق دے ?اور لوگو ں سے اس طرح رويہ اختيا ر کرنے کے قابل ہو ں کہ امام علي عليہ السلام کے اس فرمان کا مصداق بن پائيں جو امام عليہ السلام نے بستر شہادت پر اپنے فرزند ان کيلئے وصيت ميں ارشاد فرمايا :
“يابني عاشوا الناس عشرة ان غبتم حنو ا اليکم وان فقدتم بکو ا عليکم “(13)
اے ميرے بيٹو !لوگوں کے ساتھ اس طرح زندگي بسر کر و کہ اگر ان سے دور ہو تو تمہاري ملاقات کے مشتاق ہو ں اور اگر اسي دنيا سے چلے جا ئو تو تمہا ري جدائي ميں گريہ کريں ?
…………
حوالے :
1 : سورہ حجرات، فتح 29/، انعام53/، نحل 125/، توبہ 73 ، آل عمران 109/، مسدرا، ھود 18/، رعد 24/ بقرہ 104، 222، 83، فرقان 43
2 : نہج البلاغہ، خمکتوب76
3 : نہج البلاغہ حکمت200
4: نہج البلاغہ خطبہ 28
5 : نہج البلاغہ خطبہ116
6 : نہج البلاغہ خطبہ92
7 : غرر الحکم، ج 2، ص 515 ، بحارالا نور ج 36، ص 289
8 : غر ر الحکم
9 : ميزان الحکمہ ج 7، ص 268
10 : خطبہ 3 نھج البلاغہ
11 : خطبہ 33
12 : خطبہ 198
13: اصول کافي ج 1، ص 11، باب لعقل و الجمل ج 3?
14 : بحارالا نوار، ج 32، ص 235
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے