
حضرت موسي کليم اللہ نے مزيد عرض کيا خدايا! مجھے صراط سے گزرنے کا اجازت نامہ دے، آواز آئي يہ بھي اس کے لئے ہے جو شب قدر ميں مسکينوں اور بے چاروں کي مدد کرے، پھر عرض کيا خدايا! مجھے جنت کے درختوں اور ميووں کي طلب ہے ''آواز آئي يہ بھي اس کے لئے ہے جو شب قدر ميںتسبيح ميں مشغول ہو،حضرت موسي نے کہا :خدايا آگ سے نجات چاہتا ہوں ،آوازآئي : يہ بھي اس کے لئے ہے جو شب قدر استغفار کرے ?
پيغمبر اکرم نے ايک دوسرے مقام پر شب قدر کي فضيلت کے بارے ميں فرمايا : جو بھي شب قدر کا اہتمام کرے اور روز آخرت پر ايمان اور اعتقاد رکھتا ہو خدا وند اس کے گناہوں کو بخش دے گا?
اور فرمايا: اس رات شياطين زنجيروں ميں اسير ہوتے ہيں اور کسي کو تکليف نہيں پہنچا سکتے اور اس رات کسي جادوگر کا جادو ،فاسد کا فساد اثر نہيں کر سکتا ?
ابن عباس نے پيغمبر گرامي سے اس طرح کي روايت نقل کي ہے کہ آ نحضرت نے فر مايا : جب شب قدر ہو تي ہے فرشتے جو سدرة المنتہي کے مقام پر ہوتے ہيں روح اور جبرائيل کے ہمراہ نازل ہوتے ہيں جبرائيل جبکہ ان کے ساتھ کئي پر چم ہو تے ہيں ان ميں سے ايک پر چم ميري قبر پر، ايک بيت المقدس پر، ايک مسجد الحرام کي چھت پر اور ايک طور سينا پر نصب کرتے ہيں اور کوئي مومن مرد اور عورت باقي نہيں رہتي مگر يہ کہ فرشتے اسے سلام کرتے ہيں سوائے شراب خور،سور کا گوشت کھانے والے کے اور وہ جو زعفران سے اپنے آپ کو آ لودہ کرے ?
ايک اور حديث ميں آ يا ہے کہ اس رات ميں بيداري اور عمل ان ہزار راتوں سے بہتر ہے کہ جن ميں شب قدر اور ماہ رمضان کے روزے نہ ہوں اور اس کي وجہ يہ ہے کہ بعض اوقات دوسرے اوقات سے زيادہ با فضيلت ہو تے ہيں کيو نکہ اس ميں خير اور نفع ہو تا ہے پس چونکہ خدا وند نے شب قدر ميں بہت زيادہ خير رکھي ہے لہ?ذا ہزار مہينے سے کہ، جن ميں شب قدر والي خير و برکت نہ ہو،يہ رات بہتر ہے?
علامہ طباطبائي تفسيرالميزان ميں فرماتے ہيں جيسا کہ مفسرين نے تفسير کي ہے ہزار راتوں سے بہتر ہونے کا مطلب يہ ہے کہ اس رات ميں عبادت کي زيادہ فضيلت ہے اور قرآن کي غرض بھي يہي ہے اور قرآن کے ساتھ بھي يہي معني مناسب ہے چونکہ قرآن کي غايت اور توجہ اس ميں ہے کہ لو گوں کو عبادت کے ذريعہ زندہ اور خدا سے نزديک کرے اور اس رات عبادت کرتے ہوئے شب گزارنا دوسري ہزار راتوں کي عبادت سے بہتر ہے ?
امام جعفر صادق نے شب قدر احياء کرنے والوں کے بارے ميں فرمايا: مبارک ہو اس کے رکوع اور سجدہ کرنے والوں پر، اور انہيں جو اپنے گزشتہ گناہوں کو ياد کرتے ہيں اور روتے ہيں ،مجھے اميد ہے کہ ايسے لوگ بارگاہ ربوبيت سے نا اميد نہيں ہو ںگے?
اسي طرح امام صادق نے رسول خدا کي زباني فرمايا : خدا نے دنوں ميں جمعہ کو انتخاب کيا اور مہينوں ميں ماہ رمضان کو اور راتوں ميں شب قدر کو ?
شب قدر وہ شب ہے جس شب ميں کلام خدا، قرآن کريم حضرت محمد مصطفي پر نازل ہوا اور خدا نے اس رات کو مبارک قرار ديا? اس رات ميں فرشتے روح اور جبرائيل کے ساتھ جوق در جوق زمين پر نازل ہوتے ہيں اور مومنين و مومنات پر سلام ودرود بھيجتے ہيں ?
شب قدر ميں کون سے امور مقدر ہوتے ہيں ؟
اس سوال کے جواب ميں کہ اس رات کا نام '' شب قدر ،، کيوں ہے اور اس شب ميں کون سے امور مقدر ہوتے ہيں بہت کچھ کہا گيا ہے من جملہ يہ کہ : 1? شب قدر کو شب قدر کا نام اس لئے ديا گيا ہے کہ بندوں کے تمام سال کے سارے مقدّرات اس رات مقدر ہوتے ہيں اس معني کي گواہ سورہ دخان کي آيت ہے جس ميں آيا ہے کہ: '' انا انزلنا ہ في ليلة مبارکة اناکنا منذرين فيھا يفرق کل امر حکيم''(دخان43)'' ہم نے اس کتاب مبين کو ايک پر برکت رات ميں نازل کيا ہے اور ہم ہميشہ ہي انداز کرتے رہے ہيں اس رات ميں پر امر خداوند عالم کي حکمت کے مطابق تنظيم و تعين ہوتاہے''
يہ بيان متعدد روايات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتي ہيں کہ اسي رات ميں انسان کے ايک سال کے مقدورات کي تعيين ہوتي ہے اور رزق ، عمريں اور دوسرے امور اسي مبارک رات ميں تقسيم اور بيان کئے جاتے ہيں ? البتہ يہ چيز انسان کے ارادہ اور مسئلہ اختيار کے ساتھ کسي قسم کا تضاد نہيں رکھتي کيونکہ فرشتوں کے ذريعے تقدير الہي لوگوں کي شائستگيوں اور لياقتوں اوران کے ايمان اور تقوي اور نيت اعمال کي پاکيزگي کے ہو تي ہے يعني ہر شخص کے لئے وہي کچھ مقدر کرتے ہيں جو اس کے لائق ہے يا دوسرے لفظوں ميں اس کے مقدمات خود اسي کي طرف سے فراہم ہوتے ہيں اور يہ امر نہ صرف يہ کہ اختيار کے ساتھ منافات نہيں رکھتا ? بلکہ يہ اس پر ايک تاکيد ہے?
2? بعض نے يہ کہا ہے کہ اس رات کو اس وجہ سے شب قدر کہا جاتاہے کہ يہ ايک عظيم قدر و شرافت کي حامل ہے?
3? بعض نے يہ کہا ہے کہ اس کي وجہ يہ ہے کہ قرآن اپني پوري قدر و منزلت کے ساتھ ، قدر و منزلت والے رسول پر اور صاحب قدر و منزلت فرشتے کے ذريعے اس ميں نازل ہوا ہے ?
4? بعض نے يہ کہا ہے کہ ايک ايسي رات ہے جس ميں قرآن کا نازل ہونا مقدر ہوا ہے?
5? يا يہ بيان ہوا ہے کہ جو شخص اس رات کو بيدار رہے تو صاحب قدر و مقام و منزلت ہو جاتا ہے ?
6? يا يہ کہا گيا کہ تقدير کے معني تنگ ہونے کے ہيں، اس رات ميں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہيں کہ ان کے لئے زمين تنگ ہو جاتي ہے '' و من قدر عليہ رزقہ'' [?]
ان تمام تفاسير کا '' ليلة القدر''کے وسيع مفہوم ميں جمع ہونا پورے طور ے پر ممکن ہے اگر چہ پہلي تفسيرزيادہ مناسب اور زيادہ مشہور ہے ?
شب قدر ميں قرآن سر پر کيوں رکھتے ہيں ؟
ايک دوسرا سوال کہ اس شب ميں ہم قرآن سر پر کيوں رکھتے ہيں ؟ اس سلسلے ميں ائمہ معصومين عليھم السلام سے متعدد روايات وارد ہوئي ہيں جن ميں ہميں حکم ديا گيا ہے کہ شب قدر ميں قرآن سر پر رکھيں اور قرآن و ائمہ سے متوسل ہوکے خداوند متعال سے اس صدقے ميں اپني حاجتيں طلب کريں.
شب قدر ايسي مبارک شب ہے کہ جس ميں قرآن نازل ہوا ہے اور ايسي شب ہے کہ جس ميں ہماري زندگي کا سالانہ پروگرام مقدّر اورمرتب کيا جاتا ہے اور ہم بھي اپنے عمل سے اس پرواگرم ميں شريک ہيں بہترين عمل اس شب ميں يہ ہے کہ انسان قرآن کا مطالعہ اور اس ميں غور فکر کرے اور دعا مناجات کرے اور يہ بات واضح ہے کہ دعا ميں حضرت حق کے محضر ميں اس کے بہترين اور مقرّبين بندوں اور اس کے دوستوں کو شفيع قرار دينا چاہيے اس سے بہتر کيا ہو سکتاہے کہ ہم قرآن کي پناہ لے کر خدا کے محضر ميں قدم رکھيں اور قرآن و عترت سے متوسل ہو جائيں ?
قرآن سر پر رکھنا اور قرآن و اہل بيت کو وسيلہ قرار دينا يہ سب ان کي عظمت ،جو خداوند عالم کے نزديک ہے ،کي وجہ سے ہے اور ہمارا تواضع ثقلين کے مقابلے ميں ہے در واقع ثقلين کے مقابلے ميں ادب کرنا خدا کے مقابلے ميں ادب کرنے کے برابر ہے اور يہي بندگي کے حدود کي رعايت کرنے کا نام ہے اور يہ عمل ہم نے خود ائمہ معصومين سے سيکھا ہے ?
مرحوم آ يت اللہ ميرزاجواد ملکي تبريزي، حضرت امام خميني (رہ) کے عرفان کے استاد اس سلسلے ميں فرماتے ہيں :
قرآن سر پر ليتے وقت چار نيتيں دل ميں کرو ?
1? مغز قرآن کي وساطت سے قوي ہوجائے ?
2? انسان کي عقل قرآن اور علوم قرآن سے کامل ہوجائے ?
3? عقل قرآن اور اس کي عظمت کے آگے خاضع ہو جائے ?
4? نور عقل نور قرآن کے ساتھ مخلوط ہو جائے ?
در حقيقت ہم اس عمل سے ثابت کرتے ہيں کہ ہماري فکر اور عقل بلکہ ہمارا پورا وجود قرآن کے زير سايہ ہے اور کتاب خدا کے ذريعہ سے ہي ہم خدا کي جانب رخ کرتے ہيں ?
???????????????????
حوالے :
1 : طلاق ايت 7
2 : تفسير نمونہ ،ج 27،ص 187
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے