08 August 2012 - 18:36
خبر کا کوڈ: 4424
فونت
سيد اشھد حسين نقوي:
شيخ عباس قمي مفاتيح الجنان ميں تحرير کرتے ہيں کہ شب قدر وہ شب ہے جس کي فضيلت وعظمت کا کوئي شب مقابلہ نہيں کرسکتي اور اس شب کے اعمال ھزار راتوں کے اعمال سے بہتر ہيں ، اس شب ميں انسانوں کے مقدرات معين کئے جاتے ہيں ، ملائکہ اور روح جو اعظم ملائک ہيں خدا کے حکم سے زمين پر اتے ہيں اورامام عصر ارواحنا فداہ کي خدمت ميں حاضر ہوتے ہيں، اوراس رات لوگوں مقدرات امام (ع) کي خدمت ميں پيش کرتے ہيں ?
شب قدر

تفکراورمعرفت :
 
اس شب بندہ تفکراورمعرفت خدا حاصل کرے کيوں کہ تفکراورمعرفت بندے کي خدا سے قربت کا پہلا قدم ہے، انسان فرصت کو غنيمت سمجھتے ہوئے اپنے افکار اور اعمال کے اشتباہات سے واقفيت حاصل کرے، گناہوں کے نہ کرے کا ارادہ کرے، اپني اصلاح، دل کو شناحت اور معرفت کے لئے آمادہ کرے کيوں کہ خدا کي معرفت سب سے بڑي معرفت ہے جس سے دل نوارني ہو جاتا ہے، حقيقي معرفت انسان کو بندگي کے اعلي? مراتب تک پہنچا کرخلافت الہي کا وارث بنا ديتي ہے، البتہ اپني معرفت اس حقيقي معرفت کا پيش خيمہ ہے جيسا کہ حديث ميں بھي آيا ہے '' من عرف نفسھ فقد عرف ربھ '' يعني جس نے خود کو پہچانا اس نے خدا کو پہچان ليا ? (?)

اصلاح نفس اور توبہ:
 
اصلاح نفس کا دوسرا قدم توبہ ہے، علماء اورعارفوں نے توبہ کو اس شب کے بہترين اعمال ميں شمار کيا ہے، توبہ کے سلسلے ميں ايت اللہ شہيد مطہري فرماتے ہيں: عبادت توبہ کے بغيرقبول نہيں ہوتي پہلے توبہ ضروري ہے، پہلے خود پاک وصاف ہوجائيں، پھرپاک و پاکيزہ جگہ ميں وارد ہوں ، ہم بغير توبہ کے روزے رکھتے ہيں ! بغير توبہ کے نمازيں پڑھتے ہيں بغير توبہ کے حج بجالاتے ہيں ! بغير توبہ کے قرآن پڑھتے ہيں ! بغير توبہ کے ذکرخدا کرتے ہيں ذکرخدا کي مجلسوں ميں شريک ہوتے ہيں ! خدا کي قسم اگر توبہ ذريعہ نفسوں کي طھارت کرکے ايک دن يا ايک شب نماز پڑھيں تو ايک دن يا رات کي عبادت آپ کو دس سال آگے بڑھائے گي اور قرب پروردگار ملے گا ?

امام علي عليہ السلام فرماتے ہيں توبہ کے چھ رکن ہيں :

1? اپني گناہوں پر پشيمان ہونا?

2? دوبارہ گناہوں کے نہ کرنے کا ارادہ ?

3? حقوق الناس ادا کرنا?

4? حقوق الہي? ادا کرنا ?

5? حرام رزق سے بدن پرچڑھا گوشت، پگھل کر رزق حلال سے نيا گوشت بدن پرچڑھے ?

6? جسے بدن نے گناہوں کا مزہ چکھا ويسے ہي اطاعت کا مزہ چکھے، اس وقت خدا اپنے محبوب بندوں ميں سے قرار ديگا ? (?)

دعا:
 
اس شب کے ديگر اعمال ميں سے دعا کو شمار کيا جاتا ہے، جب بندہ گمراہي و ضلالت کے راستے چھوڑ کے ہدايت اور نور کے راستے پرچل پڑا، اس کي حيات کا کارواں اپنے خدا کي جانب رواں دواں ہوا، دعاوں اور فريادوں سے خدا سے رابطہ قائم کرے، دعا کے حقيقي معني بھي يہي ہيں کہ انسان اپنے دل کا حال بيان کرکے در واقع خدا سے ارتباط پيدا کرے ?
 
شبوں کے  عام اعمال :

اس شب کے مختلف اعمال ہيں کچھ اس رات سے مخصوص اور کچھ تينوں شبوں ميں مشترک ہيں ، مشترک اعمال ميں سے اول : غسل ہے، علامہ مجلسي فرماتے ہيں کہ غروب کے قريب غسل کرے اور نماز اسي غسل سے پڑھے ، البتہ توجہ رہے کہ جو مراجع غسل مستحب کے بعد نماز کے لئے وضو ضروري جانتے ہيں ان کے مقلدين کو نماز کيلئے وضو بھي کرنا ہوگا ? دوم : دورکعت نماز شب قدر ہے، کہ دونوں رکعتوں ميں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ توحيد( قل ھو اللہ ) پڑھے ، نماز تمام کرنے کے بعد ستر بار " استغفراللہ واتوب اليہ " پڑھے، چوتھے : زيارت امام حسين عليہ السلام بجالائے کيوں کہ روايت ہے کہ شب قدر ميں اسمان ھفتم سے ندا دي جاتي ہے جس نے بھي امام حسين(ع) کي زيارت کي خدا نے اس کي گناہوں کو بخش ديا، پانچويں : پوري رات بيدار رہے اور گناہ پروردگار نہ کرے، جيسا کہ روايتوں ميں ايا ہے کہ جو کوئي بھي شب قدر ميں بيدار رہيگا خداوند متعال اس کي گناہوں کو بخش دے گا ولو اس کي گناہيں ستاروں کے مانند اور پہاڑوں کي طرح عظيم ہوں ، چھٹھے : سورکعت نماز ادا کرے، اور کتابوں ميں لکھے بقيہ اعمال انجام دے ?
انيسويں شب کے مخصوص اعمال :

انيسويں شب کے مخصوص اعمال ميں ايک يہ ہے کہ سو مرتبہ " استغفراللہ ربي واتوب اليہ " پڑھے اور سو مرتبہ " اللھم العن قتل? اميرالمومنين " پڑھے ? ?

?????????????????????????
حوالے :

?? نہج البلاغہ، حکمت 417
?? شب قدر، اسٹوڈينٹس کے جوابات
?- مفاتيح الجنان ص 457
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬