آيت الله سبحاني:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله جعفر سبحاني نے اپني سلسلہ وار تفسير کي نشست ميں جو مدرسہ حجتيہ قم ميں طلاب وافاضل حوزہ کي موجود ميں منعقد ہوئي يہ بيان کرتے ہوئے کہ «انزلناه» ميں ضمير«ه» قران کي طرف پلٹتي ہے کہا : ايت کا ظاھر بيان کرتا ہے کہ قران قلب پيغمبراسلام(ص) پرايک بارشب قدر ميں نازل ہوا?
اس مرجع تقليد نے يہ کہتے ہوئے کہ قران ميں ايتيں موجود ہيں جو قران کے دفعي ہونے سے مختلف ہيں کہا : سوره فرقان و اسراء ميں دو ايتيں موجود ہيں جو قران کے تدريجي نزول پر دلالت کرتي ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : مفسرين نے اس سوال کے جواب ميں کہا ہے کہ قران کا دو نزول ہے، ايک بار قران شب قدر ميں دفعتا نازل ہوا اور پھر پيغمبر اسلام(ص) کي مدت رسالت ميں تدريجي طور سے نازل ہوا، اور اس ميں کوئي ھرج بھي نہيں کہ قران کا دو نزول ہو ?
قران کريم کے اس نامور مفسر نے قران کے دفعي اور تدريجي نزول کي تائيد مي کہا : قران کا دفعي نزول اس لئے تھا کہ پيغمبر اسلام(ص) قران کے تمام معارف سے اشنا ہوسکيں اور قران کا تدريجي نزول اس لئے تھا کہ پيغمبراسلام(ص) کا خدا اور عالم وحي سے رابطہ قائم رہے ?
حضرت آيت الله سبحاني نے قران کے دفعي اور تدريجي نزول کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : علامہ طباطبائي نے تفسير الميزان ميں اس نظريہ کو تسليم کرتے ہوئے اس کي دليل ميں بيان کيا ہے کہ قران ميں کلمہ «انزلنا» اس کے دفعي نزول اور کلمہ «نزلنا» اس کے تدريجي نزول پر دلالت کرتا ہے ?
اس مرجع تقليد نے يہ کہتے ہوئے کہ زمان اور مکان کي بذاتہ کوئي حيثيت نہيں ہوتي مگر خداوند متعال نے قران ميں کہا کہ شب قدرھزار راتوں سے افضل ہے تاکيد کي : زمان اورمکان حالات اور حوادث کے اعتبار سے با حيثيت ہوتے ہيں، جيسے کہ شب قدر قران کے نزول کي بناء پر بافضليت اور سرزمين کربلا وجود امام حسين(ع) کي بناء پر با اھميت ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے