21 رمضان کے موقع پر:

انيس رمضان سن چاليس ہجري کا دن تاريخ بشريت کا وہ سياہ ترين دن تھا جب خانہ خدا، مسجد کوفہ ميں خدا کي برگزيدہ ترين ہستي سر پرسحروقت ابن ملعجم نامي شخص نے ضربت لگائي، اس وقت اہل مسجد نے ندائے ہاتف غيبي سني “تھدمت و اللہ ارکان اللہ ھد?ي، و انطمست اعلام التّق?ي، و انفصمت العرو? الوثق?ي، قُتل ابن عمّ المصطف?ي، قُتل الوصيّ المجتب?ي، قُتل عليّ المرتض?ي، قَتَلہ اشقي الْاشقياء” کہ “خدا کي قسم ارکان ِ ھدايت منہدم ہوگئے، علمِ نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کر ديا گيا، نشانِ تقو?ي کو مٹا ديا گيا، عرو? الوثق?ي کو کاٹ ڈالا گيا، رسول خدا (ص) کے چچازاد کو شھيد کر ديا گيا? سيد الاوصياء علي المرتضي (ع) کو شھيد کر ديا گيا? انہيں اشقي الاشقياء نے شھيد کيا?”
مسجد ميں موجود اصحاب، محبان اور ديگر نمازيوں نے جب اپنے غم کا اظہار کرنا چاہا تو آپ نے لوگوں سے فرمايا : “ھذا وعدنا اللہ و رسولہ” کہ يہ وہي کچھ ہے جس کا اللہ اور اسکے رسول (ص) نے مجھ سے وعدہ کيا تھا? اورامام حسن مجتب?ي عليہ السلام سے نماز فجر تمام کرنے کو کہا، چاھنے والوں نے آپکو شديد زخمي حالت ميں گھر پہنچايا گيا? گھر کے قريب پہنچ کر آپ نے اپنے اصحاب کو واپس لوٹ جانے کو کہا، تاکہ اھل حرم کے اہ ونالہ کي اوازيں نامحرموں تک نہ پہونچنے پائيں ?
کافي مقدارميں خون بہہ جانے اورپورے جسم مبارک ميں زہر کي اثر نے آپ پرنقاہت طاري کردي، طبيب کي تشخيص نے اپ کو اخري وصيتوں کي درخواست کي ، حضرت نے علم امامت امام حسن مجتب?ي عليہ السلام کے حوالے کئے اور باقي اولاد کو انکے متعلقہ امور پر وصييتيں فرمائيں? آپ نے فرمايا:
“اے ميرے فرزندان حسن و حسين (ع)! ميں آپ کو خوف خدا کي تلقين اوردنيا کي طلب سے منع کرتا ہوں?”
پھر فرمايا:
“اے بيٹا حسن! ميں تمہيں اس چيز کي وصيت کرتا ہوں جس کي مجھے رسول اللہ (ص) نے کي تھي اور وہ يہ کہ جب امت تم سے مخالفت پر آمادہ ہو جائے تو گوشہ نشيني اختيار کر لينا، آخرت کے واسطے گريہ و فغاں کرنا اور دنيا کو اپنا مقصود قرار نہ دينا اور نہ ہي اسکي تلاش ميں دوڑ دھوپ کرنا، نماز کو اول وقت ميں ادا کرنا اور زکو?? کو بروقت اسکے مستحقين تک پہنچا دينا، مشتبہ امورپرخاموش ہوجانا اور غضب کے موقع پرعدل و ميانہ روي سے کام لينا، اپنے ہمسايوں سے اچھا سلوک کرنا اور اور مہمانوں کي عزت کرنا?
مصيبت کے ستائے ہوئے لوگوں پر رحم کرنا، صلہ رحم کرنا اورغرباء و مساکين کي دلجوئي کرنا، ان کے ساتھ نشست وبرخواست رکھنا، تواضع و انکساري اختيار کرنا کہ افضل عبادت ہے، اپني آرزوؤں اوراميدوں کو کم اورموت کو کثرت سے ياد رکھنا، ميں تمہيں حکم ديتا ہوں کہ ظاہر اور باطن دونوں طريقوں سے خدا سے ڈرتے رہنا، بغير غور و فکر کے بات نہ کرنا اور کام ميں جلدي نہ کرنا، البتہ کار آخرت ميں عجلت اختيار کرنا اور دنيا کے معاملہ ميں تاخير اور صرف نظر کرنا، مقامات تہمت اور بد گمانيوں کي محافل سے بھي دوررہنا، کيونکہ برا ہمنشين اپنے ساتھي کو ضرورنقصان پہنچاتا ہے?”
پھر فرمايا،
“اے ميرے فرزند! خدا کے لئے کام کرنا اور فحش و بيہودہ گوئي سے پرہيز کرنا اور اپني زبان سے صرف اچھي چيزوں کا حکم دينا اور بري چيزوں سے منع کرنا، برادران ديني کے ساتھ خدا کي وجہ سے دوستي و برادري رکھنا اور اچھے شخص کے ساتھ اسکي اچھائي کي وجہ سے دوستي رکھنا اور فاسقوں کے ساتھ نرمي برتنا کہ وہ دين کو نقصان نہ پہنچائيں، تاہم انہيں دل ميں دشمن سمجھنا اور اپنے کردار کو ان کے کردار سے الگ رکھنا، تاکہ تم ان جيسے نہ ہو جاؤ، گزر گاہ پر نہ بيٹھنا اور بيوقوفوں اور جہلا سے مت الجھنا، گزر اوقات ميں ميانہ روي اختيار کرنا اور اپني عبادت ميں بھي اعتدال رکھنا اور وہ عبادت انتخاب کرنا جس پرہميشہ قائم رکھ سکو?”
مزيد ارشاد فرمايا،
“کوئي غذا اس وقت تک نہ کھانا جب تک اس کھانے ميں سے کچھ صدقہ نہ دے دو، تم پرروزہ رکھنا لازم ہے کہ بدن کي زکو?? اور آتش جہنم کے لئے سپر ہے ، اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا اور اس سے ڈرتے رہنا کہ ياد خدا سے غافل نہ کر دے، دشمن سے پہلو تہي کرنا، ذکر خدا کي محفلوں ميں ضرور جانا اوردعا زيادہ کيا کرنا?”
مذکورہ بالا وصيت نامہ، فصاحت و بلاغت کا ايک سمندر ہے جو بظاہر اپني اولاد کو مخاطب کر کے ھم چاھنے والوں کيلئے حضرت نے فرمايا تاکہ ہم اس ضابطہ حيات کے تحت اپني اپني زندگي گزاريں، ہماري ذمہ داري ہے کہ ہم اس بلاغت کے سمندر مين غوطہ ور ہوں اور حکمت و دانش کے وہ موتي چنيں جو ہمارے مولانے ہمارے لئے تحفتا چھوڑے ہيں?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے