09 August 2012 - 23:52
خبر کا کوڈ: 4433
فونت
تحرير: حجت الاسلام ساجد علي نقوي
رسا نيوزايجنسي - دور حاضر ميں حضرت علي(ع) کے تصور اسلام کو اجاگر کرنے کي ضرورت ہے، جس اسلامي تصور کي بنياد پر حضرت (ع) نے انفرادي اور اجتماعي زندگي ميں انتہائي اہم، حساس اور دور رس اقدامات کئے اور زندگي کے سياسي، معاشي، معاشرتي اور عمومي اخلاق ميدانوں ميں جو نقوش چھوڑے ہيں، ان کے گہرے مطالعے کي ضرورت ہے تاکہ امير المومنين (ع) کے اقدامات کي روشني ميں گھمبير معاشرتي مسائل کا عصري تقاضوں کے مطابق حل نکالا جاسکے ?
سيد ساجد علي نقوي

جب ہم امير المومنين حضرت علي ابن ابي طالب (ع) کي شہادت کي وجوہات کا جائزہ ليتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امير المومنين (ع) کي ذات اور جسم سے دشمني نہيں تھي بلکہ ان کي فکر اور اصلاحات سے عدوات تھي جو کہ علي ابن ابي طالب (ع) نے سياسي، معاشي اور معاشرتي ميدانوں ميں کي تھيں? لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امير المومنين (ع) کي شہادت ايک شخص يا فرد کي نہيں ايک سوچ، فکر اور نظريئے کي شہادت ہے? آج ہم اگر عادلانہ نظام کي بات کرتے ہيں تو ہمارے سامنے حضرت علي (ع) کي عادلانہ حکومت کے بے شمار نمونے موجود ہيں? امامت کے لئے منصوب ہونے کے باوجود آپ (ع) نے حکمراني عوام کے بے پناہ اصرار پر قبول فرمائي? عوام کا اصرار آپ (ع) کي بے پناہ عوامي مقبوليت اور عوامي اعتماد کي دليل ہے اور يہي جمہوريت کي اصل روح ہے? وہ ايک ہي وقت ميں الہي اور جمہوري عہدے کا حامل ہونے کي وجہ سے اپنا منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے? ليکن عاجزي کا ايک انداز ان کے اپنے فرمان ميں ہے کہ ’’ ميں امير المومنين (ع) کہلانے کا حق دار نہيں بن سکتا جب تک ميں عوام کے دکھ درد ميں برابر کا شريک نہ بن سکوں ‘‘ يہي وجہ ہے کہ برسر اقتدار آنے کے بعد انہوں نے کوئي امتيازي رويہ نہيں اپنايا اور کسي قسم کي مراعات کي رسم نہيں ڈالي بلکہ ميرٹ اور شفافيت کے رہنما اصول پيش کئے?

علوي سياست کا يہ امتياز رہا ہے کہ امير المومنين (ع) نے حکومت کا حصول کبھي ہدف نہيں سمجھا بلکہ اپنے اصلي اور اعل?ي ہدف تک پہنچنے کا ذريعہ قرار ديا? اس حوالے سے آپ کا ايک معروف قول ہے کہ ’’ ميرے نزديک حکومت ايک پھٹے پرانے جوتے سے بھي کم تر حيثيت رکھتي ہے مگر اس صورت ميں جب اس کے ذريعے کسي حق کو قائم کرسکوں اور کسي باطل کا خاتمہ کرسکوں ‘‘ ذاتي نوعيت کے مسائل پر گفتگو کے لئے بيت المال کے چراغ کو ہٹاکر حضرت علي (ع) کا اپنے گھر سے چراغ منگوانا حکمرانوں کے لئے ايک روشن مثال ہے کہ ذاتي ضروريات پر قومي امانت کو صرف کرنا جائز نہيں ہے? يہ فرامين حکمرانوں کے لئے روشن مثاليں ہيں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپني ذات پر قوم کو ترجيح ديتے ہيں اور انصاف کا قيام کسي مصلحت کے بغير کرتے ہيں? اسي طرح حضرت علي (ع) کي طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس کے حوالے سے ارسال کردہ ہدايات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہيں?

آپ (ع) نے اپني حکمراني ميں عدل کے قيام کي بھرپور کوشش کي اس کا ثبوت يہ ہے کہ قومي خزانے سے ہر شخص کو مساوي مواقع فراہم کرنے کا اصول سختي سے متعارف کرايا? لوٹي ہوئي قومي دولت کو ہر صورت ميں واپس کرنے کے احتسابي عمل کي بنياد رکھي? قومي خزانے اور بيت المال کو اس انداز ميں صرف کيا کہ ہر شخص بلاامتياز اس سے استفادہ کرسکے? انہوں نے کسي کو لوٹ مار کرنے اور بدعنواني کي اجازت نہ دي اس سلسلہ ميں آپ کا مشہور فرمان ہے کہ ’’ اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لوٹي ہوئي قومي دولت کئي ہاتھوں تک منتقل ہوچکي ہے تو اس کو تب بھي واپس قومي خزانے ميں پلٹا دوں گا ‘‘? امير المومنين (ع) نے بيت المال سے اپنے بھائي کو حصہ دينے کے بعد اپنے بھتيجوں کے خشک چہروں کو ديکھنے کے باوجود بقيہ مال قومي خانے ميں پلٹا کر اقرباء پروري کو پاؤں تلے روندنے کي اعلي? مثال قائم کي? آئين و قانون کي پابندي نہ کرنے والے عمال حکومت کو برطرف کرنا اس بات کي روشن دليل ہے کہ آپ کو اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور طويل دينے کي فکر نہ تھي بلکہ آئين و قانون کي بالادستي آپ کا مطمع نظر تھا?

امير المومنين (ع) کي ذات مجموعہ کمالات تھي? ان کي فضيلت اور خصوصيات پر قرآني آيات اور احاديث پيغمبر گرامي قدر (ص) اتني زيادہ ہيں کہ ان کا احاطہ نہيں کيا جاسکتا? قرآني تعليمات اور سنت رسول (ص) کي عملي تعبير کا مشاہدہ آپ (ع) کي سيرت عاليہ ميں کيا جاسکتا ہے? آپ (ع) انساني اخلاق اور فضائل و کمالات ميں انسان کامل تھے، لہذا ان کي زندگي کا ہر پہلو کمال کے متلاشي انسانوں کے لئے چراغ راہ ہے? چنانچہ قرآن اور سنت پر ايمان رکھنے والوں کو يہ دونوں چيزيں سيرت علي (ع) ميں تلاش کرني چاہيں کيونکہ پيغمبر گرامي قدر (ص) اپنے اس فرمان ميں فيصلہ فرماچکے ہيں کہ ’’ علي (ع) قرآن کے ساتھ ہيں اور قرآن علي (ع) کے ساتھ ہے، علي (ع) حق کے ساتھ ہيں اور حق علي (ع) کے ساتھ ہے، علي (ع) خلوت و جلوت ميں ميرے ساتھ رہے?‘‘

دور حاضر ميں حضرت علي (ع) کے تصور اسلام کو اجاگر کرنے کي ضرورت ہے، جس تصور اسلام کي بنياد پر آپ (ع) نے انفرادي اور اجتماعي زندگي ميں انتہائي اہم، حساس اور دور رس اقدامات کئے اور زندگي کے سياسي، معاشي، معاشرتي اور عمومي اخلاق ميدانوں ميں جو نقوش چھوڑے ہيں، ان کے گہرے مطالعے کي ضرورت ہے تاکہ امير المومنين (ع) کے اقدامات کي روشني ميں گھمبير معاشرتي مسائل کا عصري تقاضوں کے مطابق حل نکالا جاسکے? حضرت علي (ع) کو يہ امتياز حاصل ہے کہ ان کي سيرت کے ہر پہلو سے ہر انسان استفادہ کرسکتا ہے? ايک عام مزدور سے لے کر ايک بااختيار حکمران تک کے تمام نمونے آپ (ع) کي حيات طيبہ ميں نظر آتے ہيں جبکہ ذاتي زندگي ميں ايک فرمانبردار بيٹے، وفادار بھائي، ذمہ دار شوہر اور قابل تقليد باپ کي حيثيت سے آپ کا عمل ہمارے لئے نمونہ عمل ہے? لہذا ہميں اپني انفرادي اور اجتماعي زندگي ميں امير المومنين (ع) کي سيرت اقدس سے استفادہ کرنا چاہيے اور اسے ہي نمونہ قرار دے کر اپني دنياوي و اخروي نجات کا سامان پيدا کرنا چاہيے?

قبلہ اول کي بازيابي کيلئے مسلمانان عالم کو متحد ہونے کي ضرورتجموں و کشمير اتحادالمسلمين کے سرپرست اعلي? اور عالمي مجلس اھلبيت (ع) کے رکن حجت الاسلام و المسلمين مولانا محمد عباس انصاري نے يوم قدس کي مناسبت سے اپنے پيغام ميں کہا ہے کہ قبلہ اول بيت المقدس کي بازيابي کيلئے عالم اسلام کو متحد ہوکر ايک منظم تحريک چلانے کے سوا کوئي چارہ نہيں کيونکہ غاصب اسرائيل جس طرح طاقت کے بل پر مظلوم فلسطين عوام کا قتل عام کر رہا ہے اور بيت المقدس کي بے حرمتي کا کوئي بھي موقعہ ضائع نہيں کر رہا ہے?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬