12 August 2012 - 00:32
خبر کا کوڈ: 4440
فونت
سيد ساجد علي نقوي:
رسا نيوزايجنسي – حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے شھادت امام علي عليہ السلام کے موقع پر ارسال کردہ پيغام ميں تاکيد کي علي عليہ السلام کي شہادت کسي فرد کي نہيں بلکہ ايک فکراورنظريہ کي شہادت ہے ?
سيد ساجد علي نقوي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفريہ پاکستان حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے يوم شھادت امام علي عليہ السلام پر خصوصي پيغام ارسال کيا ?
اس پيغام کي تفصيل يہ ہے :

امير المومنين حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام کي ذات مجموعہ کمالات تھي، ان کي فضيلت اور خصوصيات پر قرآني آيات اور احاديث پيغمبر اتني زيادہ ہيں کہ ان کا احاطہ نہيں کيا جاسکتا?

قرآني تعليمات اور سنت رسول کي عملي تعبير کا مشاہدہ آپ کي سيرت عاليہ ميں کيا جاسکتا ہے، آپ انساني اخلاق اور فضائل و کمالات ميں انسان کامل تھے لہذا ان کي زندگي کا ہر پہلو کمال کے متلاشي انسانوں کے لئے چراغ راہ ہے، چنانچہ قرآن اور سنت پر ايمان رکھنے والوں کو يہ دونوں چيزيں سيرت علي ميں تلاش کرني چاہيں کيونکہ پيغمبر گرامي قدر اپنے اس فرمان ميں فيصلہ فرماچکے ہيں کہ ''علي قرآن کے ساتھ ہيں اور قرآن علي کے ساتھ ہے" علي حق کے ساتھ ہے اور حق علي کے ساتھ ہے" علي خلوت و جلوت ميں ميرے ساتھ رہے''

علوي سياست کا يہ امتياز رہا ہے کہ امير المومنين نے حکومت کا حصول کبھي ہدف نہيں سمجھا بلکہ اپنے اصلي اور اعلي ہدف تک پہنچنے کا ذريعہ قرار ديا، اس سلسلے ميں آپ کا معروف قول ہے کہ ''ميرے نزديک حکومت ايک پھٹے پرانے جوتے سے بھي کم تر حيثيت رکھتي ہے مگر اس صورت ميں جب اس کے ذريعے کسي حق کو قائم کرسکوں اور کسي باطل کا خاتمہ کرسکوں'' ?

امام علي عليہ السلام نے قومي خزانے سے ہر شخص کو مساوي تقسيم کيا ? لوٹي ہوئي قومي دولت کو ہر صورت ميں واپس کرنے کے احتسابي عمل کي بنياد رکھي، قومي خزانے اور بيت المال کو اس انداز ميں صرف کيا کہ ہر شخص بلاامتياز اس سے استفادہ کرسکے، کسي کو بھي لوٹ مار کرنے اور بدعنواني کي اجازت نہ تھي، اس سلسلہ ميں آپ کا مشہور فرمان ہے کہ ''اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لوٹي ہوئي قومي دولت کئي ہاتھوں تک منتقل ہوچکي ہے تو اس کو تب بھي واپس قومي خزانے ميں پلٹا دوں گا?

حضرت نے حکمراني کو خدمت کا ذريعہ اور خداکي طرف سے عطا کردہ امانت قرار ديا اور اس کي ايسے ہي حفاظت کي جس طرح خدا کي امانتوں کي حفاظت کي جاتي ہے، اگردنيا کے تمام حکمران صرف عدل علي(ع) کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نظام حکومت کو آگے بڑھا ئيں تو کامياب ہوں گے ?

ہم امير المومنين حضرت علي ابن ابي طالب کي شہادت کي وجوہات کا جائزہ ليتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کواميرالمومنين کي ذات اور جسم سے دشمني نہيں تھي بلکہ ان کي فکر اور اصلاحات سے عدوات تھي جو کہ علي ابن ابي طالب نے سياسي، معاشي اور معاشرتي ميدانوں ميں کي تھيں، اور درحقيقت اميرالمومنين کي شہادت ايک شخص يا فرد کي نہيں ايک فکر اور نظريہ کي شہادت ہے?


تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬