14 August 2012 - 18:53
خبر کا کوڈ: 4449
فونت
آيت الله صافي گلپائگاني:
رسا نيوزايجنسي - آيت الله صافي گلپائگاني نے قران کريم پرعمل نہ کرنے کو معاشرے ميں پھيلتي ہوئي برائيوں کي بنياد جانا ?
آيت‌الله صافي گلپايگاني

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله صافي گلپائگاني نے گذشتہ روز نمائشگاہ قران کريم کي اتظاميہ کميٹي کے اراکين سے ملاقات ميں قران کے حوالے سے ان کي فعاليتوں کي سراہتے ہوئے کہا : لازم ہے کہ ھم زيادہ سے زيادہ قران کريم سے اشنا ہوں اورھمارا رابطہ قران کريم سے بڑھے ?

انہوں نے بيان کيا : قران کريم کے معارف، حقيقي معارف ہيں، پيغمبراسلام (ص) نے فرمايا «إني تارِکُم فيکُمُ الثَّقَلَين کِتابَ اللّه وَ عِترَتي،ما إن تَمَسَکتُم بِهِما لَن تَزِلّوُا اَبَداً وَ إنَهُما لَن يَفتَرِقَا حَتي يَريدَا عَلَي الحَوض؛ ميں تمھارے درميان دو گراں قدر چيزيں چھوڑے جا رہا ہوں ، ايک کتاب خدا اور دوسرے ھمارے اھلبيت(ع) ، کہ اگر ان سے متمسک رہوگے تو ھرگز گمراہ نہ ہوگے ، يہ دونوں ايک دوسرے سے الگ نہيں ہوں گے يہاں تک کہ حوض کوثر پرھم سے جا مليں» ?

اس مرجع تقليد نے مزيد کہا : يہ دونوں عظيم امانتيں قيامت تک مسلمانوں کي ھدايت کے کافي ہيں ، اورپيغمبراسلام (ص) اس لحاظ سے کہ وہ امت کے لئے ھرلحاظ سے ھادي ورھبر تھے، اپ نے اس حديث کو ارشاد فرمايا اور مسلمانوں سے تاکيد کي کہ اگر کامياب ہونا چاھتے ہيں تو قران عترت کا دامن ھرگز نہ چھوڑيں ?

انہوں نے بيان کيا : مذھبي اوراسلامي معاشرے کے لئے لازم ہے کہ قران کريم اوراھلبيت(ع) کي ھدايتوں سے مستفيد ہوں، انسان غورکرے تو اگاہ ہوگا کہ قران کريم کي ايتيں نوراني ہيں ?

حضرت آيت الله صافي نے مزيد کہا : قران کي تمام ايتيں نور ہيں، يہ اسماني کتاب، خدا اور بندے کا اپسي رابطہ ہے، جو کسي اور کتاب ميں يہ خصوصيت موجود نہيں، علماء اس بات پر متفق ہيں کہ قران کي ايتيں انسان کو خدا کي وحدانيت کي جانب راھنمائي کرتي ہيں ، يعني جن سچے معارف سے انسان اگاہ ہونا چاھتا ہے قران نے اسے ايات کے ضمن ميں بيان کيا ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ قران کي ايتوں ميں حريت اور معنوي ازادي کا پيغام ہے کہا : قرام کريم ميں اخلاقيات موجود ہيں جسے پڑھنا، تلاوت کرنا اور تکرار کيا جائے اور ان مطالب کو ھميشہ اپنے سينے ميں محفوظ رکھا جائے ، قران کريم پيغام رکھتا ہے جسا کہ سوره حجرات کي تيرھويں آيت ميں ايا ہے : « يا أيُّهَا النّاسُ إِنَّا خَلَقناکُم مَن ذَکَرٍ وَ أُنثَي وَ جَعَنَاکُم شُعُوباً وقَبَائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَکرَمَکُم عِندَاللّهِ أَتقَاکُم إِنَّ اللهَ عَليم خبير؛اي انسانوں اگاہ رہو کہ ھم نے تمھيں جوڑا بنا کر پيدا کيا ، اور پھر قبائل اور خاندان بنائے تاکہ ايک دوسروے کو پہچان سکو، اگاہ رہو کہ خدا کے نزديک تم ميں سے سب بہتر وہ ہے جو تقوي الھي اختيار کرے »?

اس مرجع تقليد نے مزيد کہا : بہر صورت ھم زيادہ سے زيادہ قران سے اشنا ہونے کي کوشش کريں ، ھمارا معاشرہ ، يونيورسٹيزاور ديگر مراکز قران کريم سے اشنا ہوں تو کمال کي منزلوں اور قران کے مقصد کي طرف گام زن ہيں ، حوزات علميہ بھي اس مقدس کتاب سے مربوط رہيں ، قران کي شناخت عظيم کام ہے ، فقط مولائے کائنات اميرالمومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام جسي شخصيت کے بارے ميں کہا جسا سکتا ہے کہ وہ قران کي مکمل شناخت رکھتے تھے ?

انہوں نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ معاشرہ ، حکومت ، قوم وملت اور پارليمنٹ قراني ہوکہا : اگر مراکز قران کريم سے فاصلہ اختيار کرليں تو ان کے اندر بہت بڑا خلع رونما ہوگا ، ان ميں سے ايک معاشرے ميں پھيلتي ہوئي برائياں ہيں،اج معاشرے ميں قران سے دوري کے سبب طلاق تيزي سے بڑھتا جا رہا ہے جو ھمارے بچپن ميں ھرگز نہ تھا ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬