امريکہ ميں پاکستان کي سابق سفير:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، پاکستان کي سينئر سياستداں سيدہ عابدہ حسين نے تہران ميں ناوابستہ تحريک کے اجلاس کو خاص اہميتوں کا حامل جانا ?
انہوں نے ايران کے صدر جمھوريہ ڈاکٹر محمود احمدي نژاد کي باتوں پر" دنيا کو مہلک ہتھياروں سے پاک کر دينا چاہئے" خوشي کا اظھار کرتے ہوئے کہا: جب تک ايٹمي ہتھيار چند رياستوں کے پاس رہيں گے يہ رياستيں دوسرے ممالک پر پابندياں عائد کرتي رہيں گي?
عابدہ حسين نے يہ کہتے ہوئے کہ ايٹمي ٹيکنالوجي کا تعلق علم سے ہے جس کي کوئي سرحد نہيں ہوتي اورعلم و دانش پرکوئي پابندياں بھي عائد نہيں کي جا سکتيں کہا: ناوابستہ تحريک ميں ايک خاص انرجي اور توانائي ہے لہذا ناوابستہ تحريک کو عالمي تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا?
پاکستان کي سابق وفاقي وزيرنے آئندہ تين سال کے لئے ايران کے پاس آنے والي ناوابستہ تحريک کي سربراہي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب تک اس تحريک کي سربراہي کا تاج ايران کے سر پر رہے گا يہ بڑا خاص اور اہم دور ہوگا جس ميں ايران دوسرے رکن ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ موضوعات مثلا صنعت، تجارت، علم اور ٹيکنالوجي و غيرہ پر زور دے کر اور اس تحريک کے ذريعہ دنيا ميں باہمي اتحاد اور برادري کا سامان مہيا کر سکتا ہے، اسي طرح ناوابستہ تحريک بہت ہي موثر ثابت ہو سکتي ہے اور اس کاميابي کا سہرہ بھي يقينا ايران کے سر پر ہوگا?
پاکستان کي معروف سياستدان نے يہ کہتے ہوئے کہ ايک سو بيس سے زائد رکن ممالک پر مشتمل ناوابستہ تحريک، اقوام متحدہ کے بعد دنيا کا دوسرا سب سے بڑا بين الاقوامي ادارہ ہے لہذا وہ موجودہ مسائل، من جملہ اقتصادي اور سياسي کشيدگيوں کے حل ميں نماياں کردار ادا کر سکتا ہے کہا: اس وقت عالمي سرمايہ دارانہ نظام رو بہ زوال ہے، بہت سے مغربي ممالک شديد اقتصادي بحران کا شکار ہيں بعض يورپي ممالک تو ديواليہ بھي ہو چکے ہيں اور ان کا اقتصادي نظام مکمل طور پر بحران کا شکار ہے، ايسے ميں ناوابستہ تحريک اس زوال پذير اقتصادي نظام کے مقابلے ميں متبادل مضبوط نظام پيش کر سکتا ہے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ اگر نئے عالمي اقتصادي نظام ميں اسلامي اقتصادي نظام کوشامل کيا جائے تو دنيا کي بہت ساري اقتصادي مشکلات ختم ہو سکتي ہے کہا: ناوابستہ تحريک، نئے اقتصادي نظام کے نفاذ ميں نہايت بنيادي کردار ادا کرسکتي ہے اورايران کي سربراہي اس ميں ايک نئي جان ڈال سکتي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے