30 August 2012 - 18:24
خبر کا کوڈ: 4494
فونت
قائد انقلاب اسلامي:
رسا نيوزايجنسي – قائد انقلاب اسلامي نے ہندوستان کے وزير اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات ميں تاکيد کي: ہندوستان کے سلسلے ميں ملت ايران کا نقطہ نگاہ ہميشہ مثبت رہا ہے ?
قائد انقلاب اسلامي

رسا نيوز ايجنسي کي رھبر معظم انقلاب اسلامي کي خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے ہندوستان کے وزير اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات ميں ہندوستان کے سلسلے ميں ملت ايران کا نقطہ نگاہ مثبت ثابت کيا ?

رھبر معظم انقلاب اسلامي نے 29 اگست سنہ 2012 بدھ کي شام ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ اور ان کے ھمراہ وفد سے ملاقات ميں دونوں ملکوں کے ديرينہ ثقافتي، تاريخي، جذباتي اور تمدني رشتوں کا حوالہ ديتے ہوئے فرمايا : ہندوستان کے سلسلے ميں ملت ايران کا نقطہ نگاہ ہميشہ مثبت رہا ہے اور يہ تمام امور دونوں ملکوں کے باہمي تعلقات کے مزيد فروغ کے لئے بہت سازگار ماحول فراہم کرتے ہيں?

قائد انقلاب اسلامي نے ہندوستان کو سائنسي اور معاشي ترقيوں سے آراستہ ايک اہم اور بڑي طاقت قرار ديتے ہوئے فرمايا : ملت ايران نے اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد اور خاص طور پر حاليہ چند برسوں ميں سائنسي، معاشي اور سماجي شعبوں ميں نماياں کاميابياں حاصل کي ہيں جس کي شايد گزشتہ کئي صديوں ميں کوئي مثال نہيں ہے?

قائد انقلاب اسلامي نے يہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان اور ايران کے مابين تمام شعبوں ميں تعاون ميں گہرائي پيدا کرنے اور وسعت لانے کے لئے سازگار ماحول مہيا ہے فرمايا : تجارتي شعبے اور بنيادي تنصيبات کے ميدان ميں دونوں ملکوں کا تعاون بہت اطمينان بخش اور قابل اعتماد تعاون ہو سکتا ہے? قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے يہ بات زور ديکر کہي کہ بين الاقوامي شريکوں کے تعاون پر اعتماد نہيں کيا جا سکتا اور ان ناقابل اعتماد بين الاقوامي شريکوں ميں سے ايک امريکا ہے جو صرف ايک حکومت کا معتمد شريک کار ہے اور وہ صيہوني حکومت ہے?

قائد انقلاب اسلامي نے شام اور افغانستان جيسے علاقائي مسائل ميں ايران اور ہندوستان کے موقف کي يکسانيت کي نشاندہي کي اور فرمايا : علاقائي مسائل ميں دونوں ممالک اپنے تعاون کا دائرہ بڑھا سکتے ہيں?

قائد انقلاب اسلامي نے ہندوستان کے استحکام، خود مختاري اور قوت و طاقت کو اسلامي جمہوريہ کے لئے بہت اہم قرارديا اور اميد ظاہر کي کہ ناوابستہ تحريک کي سربراہي کے تين سالہ دور ميں ايران، ہندوستان کے تعاون سے اہم بين الاقوامي اور علاقائي مسائل ميں اس تحريک کے کردار کو موثر بنانے کي زمين ہموار کرنے ميں کامياب ہوگا?

اس موقعہ پر ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے بھي اپني خوشي کا اظھار کرتے ہوئے مختلف شعبوں ميں روابط بڑھانے کي تاکيد کي?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬