
رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے اپنے تفسير کے درس ميں جو علماء و طلاب کي شرکت کے ساتھ قم ايران کے مسجد اعظم ميں منعقد ہوئي ، جس ميں سورہ مبارکہ قصص کي تفسير کے تسلسل ميں انہوں نے بيان کيا : اس کوہ طور کے وادي ميں ايک خاص مقام تھا جہان ايک درخت لگا ہوا تھا وہاں سے حضرت موسي سلام الله عليہ پر وحي کا نزول ہوا ، سورہ مبارکہ طہ کے ?? ا?يات کے بعد دين کے کلي اصول ، نماز کے بارے ميں ، توحيد ، وحي اور نبوت کے سلسلہ ميں حضرت موسي پر وحي کے ذريعہ بيان ہوئي ، ليکن اس سورہ مبارکہ ميں صرف اصل توحيد کي طرف اشارہ ہوا ہے «إني أنا الله رب العالمين» ?
حوزہ علميہ قم ميں تفسير کے مشہور استاد نے کہا : حضرت موسي کا دو معجزہ عصا اور يد بيضا سورہ طہ ميں سوال و جواب کي صورت ميں پيش کي گئي ہے اور اس سورہ ميں براہ راست بيان کيا «ألق عصاک» ?
انہوں نے بيان کيا : يد بيضا کے سلسلہ ميں بھي ممکن ہے کبھي کسي مرض کي وجہ سے ہاتھ سفيد ہو جائے ليکن يہاں پر ايک کرامت ، معجزہ ہے جيسا کہ حضرت زکريا عليہ السلام کہ جن کي زبان تين روز تک بند تھي «قَالَ آيَتُکَ أَلَّا تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا» خدا وند عالم نے ان سے فرمايا ا?پ صحيح و سالم ہيں جس کي دليل يہ ہے کہ ذکر خدا کرتے ہيں اور خدا کے ساتھ مناجات کرتے ہيں ليکن لوگوں سے گفت و گو نہي کر سکتے اور يہاں پر بھي خداوند عالم فرماتا ہے «اسْلُکْ يَدَکَ فِي جَيْبِکَ تَخْرُجْ بَيْضَاء مِنْ غَيْرِ سُوءٍ» ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے