آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے ايران ، قم المقدس کے مسجد اعظم ميں علما و طلاب کے درميان سورہ مبارکہ قصص کي تفسير بيان کرتے ہوئے کہا : جس طرح توحيد بالأصاله حق ہے نبوت بھي توحيد کے سايہ ميں حتمي و ضروري ہے نہ اس لئے کہ ايک اچھي چيز ہو ، عقل اس کے ساتھ کہ ضروري ہے ليکن کافي نہي ہے اور خود عقل کہتا ہے کہ وہ رہنمائي کا محتاج ہے ?
حوزہ علميہ قم کے مشہور و معروف استاد نے کہا : انسان اخلاقي ، قانوني ، معاشي ، سياسي اور ثقافتي مسائل ميں قانون کا محتاج ہے اور ضروري ہے کہ ايک عام بنيادي و اصولي سلسلہ کو قبول کرے تا کہ اس کے ذريعہ مطالب کو اس سے نکالے ، جيسے حوزات علميہ کا اصل کام فقہي استنباط ہے ، فقہ کے تين حصہ ہيں ، اس حصہ ميں سے ايک مواد شامل ہے جيسے واجب ، حرام ، مباح ، مکروه ، مستحب ، صحيح و باطل جو کہ توضيح المسائل ميں بيان کيا گيا ہے اور جو کہ ايک خاص اصول کے تحت اخذ کيا گيا ہے ، فقہي مباني وہي اصولي يا فقہي قواعد ہے جيسے قاعده فراق و تعارض و غيره اور يہ مباني بھي ايک منابع سے ليا جاتا ہے جو کہ کتاب و سنت اور عقل سے منحصر ہے ، اخلاقي ، قانوني ، معاشي ، سياسي اور ثقافتي مسائل کے سلسلہ ميں بھي اگر مجتھدانہ کام کيا جائے تو اس کا رستہ بھي يہي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے