آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق قرآن کريم کے مشہور و معروف مفسر و استاد حضرت آيتالله عبدالله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں سورہ مبارکہ ?? آيہ کي قرائت کے ساتھ تفسير بيان کرتے ہوئے کہا : اس کے بعد ذات اقدس الہ کلامي و اعتقادي مسائل کا جواب دينے کے بعد کچھ فاصلہ اختيار کيا اور اقتصادي ، سماجي و ثقافتي اور سياسي موضوع بيان کيا ، کيونکہ مدينہ کے مشرکين کہتے تھے کہ اگر ميں آپ پہ ايمان لاتا ہوں تو تمام مشرکين کے سربراہ ھم پر اقتصادي و سيکورٹي پابندي لگا دينگے ، وہ لوگ فساد و غارت کرنے والے ہيں اور امنيت ان کے ہاتھ ميں ہے ہم لوگوں کي امنيت اور رزق پر قبضہ کر لينگے ، يہ ان مشرکين کا کہنا تھا ?
انہوں نے وضاحت کي : ذات اقدس الہ نے اب مشرکوں کے بہانہ بنانے کا اس طرح جواب ديا ، سب سے پہلے يہ کہ زندگي ميں اصل اعتقاد ہے نہ اقتصاد ، اقتصاد تمام فراز و نشيني سے گزرتا ہے ، وہ چيزيں جو انسان کے دنيا و آخرت ميں کاميابي کا سبب بنتا ہے وہ اعتقاد ہے ?
انہوں نے ذات اقدس الہ کي طرف سے مشرکوں کے بہانہ بنانے کا جواب دوم ميں وضاحت کي : تم لوگ مکہ ميں زندگي بسر کر رہے ہو اور مکہ اقتصادي اور سلامتي اعتبار سے پوري طور سے محفوط ہے « فليعبدوا رب هذا البيت، الذي اطعمهم من جوع و امنهم من خوف » اس گھر يعني خانہ کعبہ کي برکت کي وجہ سے خداوند عالم نے اھل مکہ کے لئے اقتصاد اور نيز سلامتي بھي فراہم کي ہے ، مکہ نہ صنعت کي جگہ تھي اور نہ وہاں کاشت کاري ہوتي تھي نہ جانوروں کي پرورش ، حضرت ابراہيم خليل اللہ نے بھي پروردگار کي خدمت ميں عرض کيا «ربنا إني أسکنت من ذريتي بواد غير ذي زرع عند بيتک المحرم» يعني ميں آپ کے حکم کي بنا پر اپنے بيوي بچے کو اس جگہ لايا ہوں داير و باير و لم يزرع نہي ہے بلکہ غير ذي زرع ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے