آيتالله جوادي آملي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے مسجد اعظم ، قم ، ايران ميں علماء و طلاب کے درميان اپنے تفسير کے درس کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے سورہ مبارکہ قصص کي تفسير بيان کي ?
قرآن کريم کے مشہور مفسر نے آيہ شريفہ «وَ رَبُّکَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَ يَخْتَارُ مَا کَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللَّـهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِکُونَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : اس آيہ شريفہ ميں خلقت ناظر ہے کان تامہ پر اور «يختار» کان ناقصہ اور ربوبيت پر ناظر ہے يعني جو چيز بھي ہے مخلوق خدا ہے «اللَّـهُ خَالِقُ کُلِّ شَيْءٍ» اور وہ چيز جو کہ کان ناقصہ سے مربوط ہے يہ ہے کہ اس دنيا ميں جو بھي ہے وہ خوبصورت ہے ؛ «الَّذِي أَحْسَنَ کُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ» ، ايسا نہي کہا جا سکتا کہ اگر انسان يا فرشتہ يا پودھے ايسے ہوتے تو بہتر تھا ، کوئي بھي نظام اس نظام سے اچھا و بہتر فرض نہي کيا جا سکتا اور اگر اس کے علاوہ ہو سکتا تھا تو اس صورت ميں خالق کو صاحب عجز يا بخل يا جهل ہونا چاہيئے حالانکہ يہ تينوں صورت محال ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے