05 November 2012 - 17:39
خبر کا کوڈ: 4756
فونت
سيد عمار حکيم:
رسا نيوزايجنسي - اسلامي سپريم کونسل عراق کے رئيس نے يہ کہتے ہوئے کہ غدير فقط شيعوں سے متعلق نہيں ہے تاکيد کي: غدير پوري انسانيت کو اسلام کا پيغام ہے ?
سيد عمار حکيم

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، اسلامي سپريم کونسل عراق کے رئيس حجت الاسلام سيد عمار حکيم نے جشن عيد غدير ميں جو گذشتہ رات کونسل کي جانب سے بغداد ميں منعقد ہوا غدير کو پوري انسانيت سے متعلق جانا اور کہا: غدير کا پيغام کسي مخصوص قبيلہ اور حتي مسلمانوں سے بھي مخصوص نہيں ہے، غدير پوري انسانيت کو اسلام کا پيغام ہے اور دين اسلام غدير اور الھي ولايت کے ذريعہ مکمل ہوا ہے ?

انہوں نے مزيد کہا: غدير کا ايک پيغام يہ ہے کہ حکم اور ارادہ اسلامي نظريات کي بنيادوں ميں شمار کيا جاتا ہے اور يہ دين عوام کو فقط خدا سے مربوط نہيں کرتا بلکہ انساني حيات کو نظم عطا کرتا ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ اسلام دين حيات ہے ?

حجت الاسلام عمارحکيم نے واضح طور پر کہا: امام علي (ع) نہايت عظيم شخصيت تھے، مگر ان کا تعلق ايک مخصوص دورحيات سے ہي ہے اور دوسرے ائمہ اپ کي جگہ ہيں، مگر اس ميں جو بات اھم ہے وہ يہ ہے کہ ولايت کما في السابق باقي رہي اور جب تک دنيا قائم رہے گي ولايت بھي باقي رہے گي ، ولايت انساني زندگي ميں نہايت اھم کردار ادا کرتي ہے ، ولايت تمام ديني اصول کا راز اور اسلامي نشانيوں کے برجستہ ہونے کا سبب ہے ?

اسلامي سپريم کونسل عراق کے رئيس نے لوگوں کو اپني حيات ميں اميرالمومنين علي (ع) کو نمونہ حيات بنانے کي تاکيد کرتے ہوئے کہا: امام علي عليہ السلام کے طور طريقہ سے اگاہي اور برے کاموں سے دوري امام اول علي (ع) کا راستہ ہے جو انساني حيات ميں عزت اورکرامت اور اخرت کے سنورنے کا سبب ہے ?

انہوں نے ياد دہاني کي: غدير ميں بيان ہونے والي باتيں ھرگز قابل تغيير و تبديل اور تاويل نہيں ہيں اور اس طرح کے واضح کلمات ميں ھرگز تبديلي نہيں لائي جاسکتي، ولايت اسلام کے نظريات کي محافظ اور خدا کا حکم ہے اور انساني خواہشات سے کوسوں دور ہے ?

سيد عمار حکيم نے زمين پرخلافت الھي کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: حکومت، زمين پر انساني خلافت کا مکمل مفھوم ہے، لوگوں کے مسائل کا حل، جس قدر بھي ہو وہ حکومت اور خلافت الھي سے قربت کا سبب ہے ?

اسلامي سپريم کونسل عراق کے رئيس نے عراق کي موجود حکومت کا مفھوم بتاتے ہوئے کہا: اس کے باوجود کہ عراق کا موجودہ سياسي نظام اسلامي نظام نہيں ہے، مگر موجودہ نظام ايک ايسا سياسي نظام ہے جو اسلامي اقداروں کا احترام کا کرتا ہے اوروہ سياستمداران جو اسلام کا احترام کرتے ہيں وہي حکومت تک پہونچے ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬