06 November 2012 - 12:43
خبر کا کوڈ: 4758
فونت
آيت الله جوادي آملي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت الله جوادي آملي نے کہا : قرا?ن فرماتا ہے اگر خدا چاہتا تو تمہارے دشمن سے انتقام لے ليتا ، ليکن اس جہان کا نظام امتحان و ا?زما?ش پر ہے تا کہ ديکھيں سامراج و صہيونيت کے ساتھ کيا کر رہے ہو ، اگر چہ دعا ، فيض خدا ، خدا کي طرف سے منظوري اور اس کے فرشتہ کي طرف سے منظوري ہے ليکن تکليفي نکتہ نظر سے عوامي قيام بے نظير ہے ?
آيت الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں علماء و طلاب کے درميان سورہ مبارکہ قصص کي تفسيري درس کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے اس سورہ مبارکہ کے بعض ا?يات کي تفسير بيان کي ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج کے استاد نے اس ا?يہ شريفہ «وَهُوَ اللَّـهُ لَا إِلَـهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُکْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کچھ لوگوں نے کہا ہے «اليه» کي ضمير حکم کي طرف پلٹتي ہے يعني (الي حکم الله ترجعون) ، ا?يات «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» و «فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» کي ضمير بھي اسي طرح پلٹتي ہے يعني خدا کے حکم کي طرف رجوع کرتے ہيں ليکن يہ منافات نہي رکھتا ہے کہ انسان خدا کے پاس پہوچ جائے ، ھر انسان اپني صلاحيت کے مطابق خدا کے بعض جمال کو اور خدا کے بعض جلال کو ديکھتا ہے اور دونوں حکم خدا کا حکام ہے کيونکہ ا?يہ «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلَى رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلَاقِيهِ» لازم نہيں ہے کہ تخصيص پذير يا توجيہ پذير ہو سب کے سب خدا تک پہوچتے ہيں اور کہتے ہيں «ربنا أبصرنا و سمعنا» مگر بعض کے لئے جنت کا حکم ہے تو بعض کے لئے دوزخ کا حکم ?

قرا?ن کريم کے معروف مفسر نے ايک ا?يت کے تفسير ميں قارون کے واقعہ کو بيان کرتے ہوئے وضاحت کي : قارون منکر فعل کو انجام ديتا اور معروف کو ترک کيا کرتا تھا ، احسان بھي نہيں کرتا تھا ليکن فساد کيا کرتا تھا ، اس کي قوم نے بھي اس کو امر بالمعروف «ابْتَغِ فِيمَا آتَاکَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ» اور نهي عن المنکر «وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ» کے لئے تاکيد کي ، ليکن قارون نے جواب ديا کہ ميں خود عالم ہوں اور مجھے اپنے علم پر تسلط بھي ہے اور يہ صلاحيت حاصل کر چکا ہوں ? اس ديکھاوٹي مال پر دو گروہ نے نظر ديا ہے ، جو لوگ دنيا طلب تھے ليکن وہ ا?خرت کا نکار کرنے والے نہيں تھے مگر دنيا مدار تھے اور اپنے کاموں کو دنيا کي بنياد پر انجام ديتے تھے کہتے ہيں کاش ھم لوگوں کے پاس بھي يہ مال ہوتا چونکہ قارون کے پاس مال کا بہت بڑا حصہ ہے ، يہ کم نظروں کا نظريہ تھا ?

انہوں نے بيان کيا : دوسرا گروہ صاحب علم تھا «وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَکُمْ ثَوَابُ اللَّـهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ» معلوم ہوتا ہے کہ وہ علم نافع ہے جو کہ جانتا ہے کہ حظ عظيم کيا ہے ، کہا گيا کہ لعنت ہو تم پر ، ثواب خدا خير ہے نہ يہ مال جو قارون کے پاس ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬