12 November 2012 - 13:29
خبر کا کوڈ: 4769
فونت
سيد اشھد حسين نقوي:
رسا نيوزايجنسي – اگر توسل کے سلسلہ ميں وہابيت کے نظريات مان لئے جائيں تو نجد کے وھابيوں سوا ابتداء اسلام سے ا?ج تک کے تمام مسلمانوں کو مشرک مانا جانا چاھئے، جبکہ ا?يات قران کريم ، شيعہ اور سني روايتوں کے مطالعہ ، صحابہ کا عمل اور پوري تاريخ ميں مسلمانوں کي سيرت سے بخوبي معلوم ہوتا ہے کہ انبياء الھي، ائمہ معصومين اور اولياء الھي سے توسل نہ فقط جائز اور تمام مسلمانوں ميں مرسوم رہا ہے بلکہ تمام اسلامي فرقوں ميں ايک طرح کي تھذيب اور ثقافت کا بيان گر رہا ہے ?
وہابيت

مگر وہابي جنکا وجودي فلسفہ مسلمانوں ميں تفرقہ اندازي اور اختلاف کے علاوہ کچھ اور نہيں، خدا کي وحدانيت اور شرک کا الٹا مفھوم بيان کرکے تمام مسلمانوں کو کفر کے فتوے ديتے ہيں اور اسي بہانہ امت مسلمہ کے قتل کے احکامات بھي صادر کرتے رہتے ہيں ?

وہابي، دنيا کے مسلمانوں خصوصا شيعوں پر پيغمبر خدا(ص) ، مرسلين، ائمہ طاھرين اور اولياء الھي سے توسل کے بہانہ شرک کا الزام لگاتے ہيں، انہيں کافر کہتے ہيں اور ان کے جان و مال کو مباح جانتے ہيں ?

ابن تيمہ حنبلي حراني، انبيا الھي(ص) اور مومنين کي قبروں کے قريب جانے ، ان سے اپني حاجتوں کے طلب کرنے، ان سے متوسل ہونے، اور ان سے مدد مانگنے کو شرک کے کھلے مصاديق شمار کرتے ہيں ، وہ معتقد ہيں کہ اس گناہ کے مرتکب ہونے والوں کو مسلمان توبہ کرائيں اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو تمام مسلمانوں کي ذمہ داري ہے کہ اسے قتل کرديں، ابن تيميہ معتقد ہيں کہ جو لوگ انبياء الھي، اور اولياء خدا کي قربت کے بہانے ان سے توسل کريں وہ گمراہ اور مشرک ہيں ? [1]

محمد بن عبد الوهاب بھي ابن تيميہ کي افکار کي اطاعت کرتے ہوئے لکھتے ہيں : ملائکہ، انبياء اور اولياء الھي سے متوسل ہونے والے ، انہيں واسطہ قرار دينے والے ، ان کے ذريعہ خدا سے قربت حاصل کرنے والے مرتد اور کافر ہيں، ان کي جان و مال مباح ہے ، کيوں کہ وہ انبياء اور اولياء الھي کو وسيلہ بنا کر خدا پر بدگماني قائم کرتے ہيں وہ لکھتے ہيں : پيغمبراسلام (صلى‏الله‏عليه ‏و‏آله وسلم) نے بت پرستوں اور اولياء الھي سے مرادوں کے مانگنے والوں کے درميان کسي قسم کا فرق نہيں رکھا اور حضرت نے دونوں کو گروہوں کو يکساں کافر جانا ہے اور اپ نے دونوں گروہوں سے جنگ کي ہے ?

محمد بن عبد الوهاب انبياء اور اولياء الھي سے توسل کو خدا کي وحدانيت کے خلاف جانتے ہيں اور اسي بنا پر اسلام پر ايمان لانے والوں کے لئے انبياء اور اولياء الھي سے متوسل ہونے والوں سے برائت کو ضروري سمجھتے ہيں ? [2]

" بن‏باز" نے ايک سوال کے جواب ميں جس ميں ان سے توسل کے سلسلے پوچھا گيا تھا لکھتے ہيں : پيغمبر اسلام (صلى‏الله‏عليه ‏و‏آله وسلم) کے مقام و منزلت ، ان کي ذات گرامي اور صفات سے توسل جائز نہيں ہے، کيوں کہ اس توسل کي ھمارے پاس کوئي دليل موجود نہيں ہے ، وسائل سے اس طرح کا توسل کرنا شرک ہے اور پيغمبر اسلام (صلى‏الله‏عليه ‏و‏آله وسلم) کے حق ميں غلو کا سبب ہے ، وہ لکھتے ہيں صحابہ نے بھي اس طرح کا توسل نہيں کيا اور اگر اس طرح کا توسل جائز ہوتا تو صحابہ ھم سے پيش پيش ہوتے ?

پيغمبر اسلام (صلى‏الله ‏عليه ‏و‏آله وسلم) کے مقام و منزلت ، ان کي ذات گرامي اور صفات سے توسل شرعي دلائل کے مطابق بھي نہيں ہے کيوں کہ خداوند متعال نے قران کريم ميں فرمايا: «وَ لِلَّهِ الأَسمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا». تمام نيک اسماء ذات الھي سے مخصوص ہيں تم اسي کے ذريعہ خدا سے رابطہ کرو ? [3]

وھابي شيعھ لڑکوں سے سني لڑکيوں کي شادياں بھي شيعوں کو ائمہ طاھرين اور اھلبيت عليھم السلام سے متوسل ہونے کي بنا پر ناجائز جانتے ہيں اور حتي شادي ہونے کي صورت ميں اس شادي کو باطل کہتے ہيں ?

سعوديہ کي فتوا کميٹي نے شيعہ کے ساتھ شادي کے ايک استفتاء کے جواب ميں لکھا: سني لڑکيوں کي شيعہ لڑکوں سے شادي ناجائز ہے اور يہ شادي ہو بھي جائے تو بھي شادي باطل ہے کيوں کہ شيعہ اهل ‌بيت (عليهم‏السلام) سے متوسل ہوتے ہيں اور ان سے مدد کے طلبگار ہوتے ہيں، اور اھلبيت (عليھم السلام) سے متوسل ہونا، ان سے مدد مانگنا شرک کے کھلے مصاديق ميں سے ہے ? [4]

اس کميٹي نے اسي سلسلے کے ايک دوسرے استفتاء کے جواب ميں لکھا: سوال ميں جو کچھ بھي لکھا گيا ہے اس کے صحيح ہونے کي صورت ميں ، وہ جو حضرت على و امام حسن و امام حسين (عليهم‏السلام) سے متوسل ہوتے ہيں اور زمين سے اٹھتے بيٹھتے «يا على»، «يا حسن» و «يا حسين» کہتے ہيں مشرک ہيں اور اسلام کے دائرے سے باہر ہيں ، سني لڑکيوں اور عورتوں کي اِن مردوں کے ساتھ شادي ناجائز ہے اور سني مرد بھي ان کي لڑکيوں سے شادي نہيں کرسکتے اور ان کا ذبيحہ کھانا بھي حرام ہے ? [5]

سعودي کي اس فتوي کميٹي نے اسي سلسلے ميں ايک دوسرے استفتاء کے جواب ميں حضرت على، امام حسن و امام حسين (عليهم‏السلام) کو شيعوں کے بزرگان اور سروسالار ميں شمار کرتے ہوئے پيروان ائمہ طاھرين کو اهل بيت (عليهم‏السلام) سے توسل کے جرم ميں مشرک اور مرتد اور ان کے ذبيحہ کو ناجائز جانا ہے ? [6]

بہت ہي افسوس کا مقام ہے کہ اسي کميٹي کے ارکان، يھود اور نصاري جن کا خداوند متعال نے قران کريم ميں شرک ا?لود چہرہ پيش کيا ہے اور ان کے سلسلے ميں خدا کا فرمان ہے : « وَ قَالَتِ اليَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَ قَالَتِ النَّصَـرَى المَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِکَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَـهِـ?ونَ قَولَ الَّذِينَ کَفَرُوا مِن قَبْلُ قَـتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَکُونَ »[7] (اور يھود کہتے ہيں کہ عزير خدا کے بيٹے ہيں اور نصاري کہتے ہيں کہ مسيح اللہ کے بيٹے ہيں يہ ان کي زبانوں کي گفتگو ہے وہ گذشتہ کفار کي باتوں کي تکرار کررہے ہيں، خدا انہيں ہلاک کرے وہ کدھر الٹے جارہے ہيں ) سے شادي جائز جانتے ہيں مگر شيعہ جو خدا کي وحدانيت اور رسول کي رسالت کي گواہي ديتے ہيں ، کعبہ کي سمت رخ کرکے نماز پڑھتے ہيں اور تمام اسلامي احکامات بجالاتے ہيں ان سے شادياں جائز نہيں سمجھتے ?

واضح رہے کہ وہابيت کا مسلمانوں سے اختلاف، انبياء اور اولياء الھي سے توسل ان کي رحلت کے بعد ہے، وہابي متعقد ہيں کہ انبياء اور اولياء الھي کا رحلت کے بعد اس فاني دنيا سے رابطہ ختم ہوجاتا ہے اور وہ کسي کام کے انجام دينے کي توانائي نہيں رکھتے اورعاجز و ناتوان انسانوں سے توسل عقلا باطل اور شرک کا موجب ہے ?

مفسر زمان آلوسى اپني تفسير ميں انبياء اور اولياء الھي سے توسل کے سلسلے ميں تحرير کرتے ہيں : زندہ انسانوں سے استغاثہ اور توسل ميں کوئي ھرج نہيں مگر مرجانے اور دنيا سے اٹھ جانے يا غيب مں رہنے والے انسان سے توسل کرنا اور مدد مانگنا بدعت اور ناجائز ہے ? [8]

--------------------------------------------------------------------------------
حوالے:

[1] . زيارة القبور و الإستنجاد بالمقبور: ص 17 و 21، حکم من يأتي إلى قبر نبي أو صالح و يسأله و يستنجد به.
[2] . مجموع مؤلفات الشيخ محمد بن عبدالوهاب: ج 6، ص 115، رسالة کشف الشبهات و ج 5، ص 241 و ج 6، ص 146، 147، 213، 227، 232 و 242.
[3] . مجموع فتاوى و مقالات متنوعة: ج 7، ص 67. أسئلة على العقيدة و أجوبتها، السؤال الخامس.
[4] . فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلميّة و الإفتاء: ج 18، ص 299، کتاب النکاح 1، الفتوى رقم 20011.
[5] . فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية و الافتاء: ج 2، ص 373، حکم أکل ذبائح من يدعون الحسن و الحسين و عليّاً عند الشدائد، السؤال الأوّل من الفتوى رقم 3008.
[6] . وہي، ص 372، حکم أکل ذبائح من يدعون الحسن و الحسين و عليّاً عند الشدائد، فتوى رقم 1661.
[7] . سوره توبه، آيه 30.
[8] . روح المعاني فى تفسير القرآن العظيم و السبع المثاني: ج 6، ص 402 ـ 403، ذيل تفسير آيه 35 سوره مائده.
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬