آيت الله جوادي آملي:

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں اپنے تفسير کے سلسلہ وار درس ميں سورہ مبارکہ قصص کي آيات کي تفسير بيان کرتے ہوئے کہا : ذات اقدس الہي حضرت موسي عليہ السلام کي زندگي کے بعض حصہ کو بيان کرنے کے بعد حجاز کے مسلمانوں کي اندروني حالات کو بيان کرتے ہوئے فرمايا عوام ميں سے ايک گروہ نے حضرت موسي کليم اللہ کے توريت پر ايمان نہيں لائے اور حضرت موسي و حضرت ھارون پر جادوگر کا الزام لگايا تھا اور تويت و قرآن کريم پر بھي جادو کي نسبت دي ، ليکن اھل کتاب کے ايک گروہ نے توريت يعني وہي قديمي آسماني کتاب پر ايمان لائے اور ان کے ايمان لانے کي دليل يہ تھي کہ توريت اللہ کے پاس تھي اور جو چيز بھي خدا کے پاس ہے وہ حق ہے اور ھم لوگ اس پر ايمان رکھتے ہيں ?
انہوں نے اپني تفسير ميں بيان کيا : سورہ مبارکہ مائدہ ميں خدا متعال فرماتا ہے «و إذا سمعوا الي ما انزل الي الرسول تري أعينهم تفيض من الدمع مما عرفوا من الحق يقولون أمنا فاکتبنا مع الشاهدين» ( يہ وہ لوگ ہيں جو بے صبري کے ساتھ قرآن کريم کے نزول کے منتظر ہيں اور جب ان پر قرآم مجيد کے آيات کي تلاوت ہوتي ہے تو ان کي آنکھوں سے شوق کے اشک جاري ہو جاتے ( ايک وقت انسان آنسو بہاتا ہے «سلاحه البکاء» ہے ، ايک زمانہ ہے کہ بہت زيادہ آنسو بہاتا ہے کہ يہ آنسو اس طرح سے بہتا ہے کہ «عبرات» سے ياد کيا جاتا ہے يعني آبشار کي طرح آنسو بہ رہے ہيں ، اس حد آنکھ کو پر کرتا ہے کہ کہنا چاہيئے کہ آنکھ بہ رہا ہے ايسے موقع پر مثال پيش کي جاتي ہے کہ آنکح بہ رہا ہے «تري أعينهم تفيض» بيان کيا ان کي آنکھ بہ رہي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے