
اس کے جواب ميں کہ '' علم بہتر ہے يا دولت '' اس موضوع پر دو رخ سے نگاہ ڈالا جا سکتا ہے ? پہلي نگاہ محض حقيقت گرائي نگاہ ہے اگر اس رخ سے موضوع کي طرف نگاہ کرتے ہيں تو کسي بھي طرح علم کي دوسري چيزوں سے موازنہ نہيں کرايا جا سکتا اور ہماري اسلامي و ديني تعليمات ميں علم و عالم کي اھميت کي بہت زيادہ تاکيد کي گئي ہے ? ليکن اگر ہم اپني نگاہ کو واقعيت گرا نگاہ کر ليں يعني وہ چيز جو واقعا رونما ہو رہي ہے اس کي طرف نگاہ کريں تو تلخ واقعہ سے رو برو ہونا پڑے گا جو کہ کلي طور پر حقيقت کے ساتھ تعارض ہے ?
يہاں تک کہ اس زمانہ ميں علم کي ترويج اور تعليم و تعلم کو ايک اقتصادي ميدان کي طرح استعمال کيا جانے لگا ? ھمارا معاشرا جس ميں علم ايک عبادت کي طور پر اور استاد کا درجہ ايک مقدس درجہ ہوتا تھا استاد تعليم دے کر بچوں کي تربيت کر کے عبادت کيا کرتے تھے وہيں طالب علم اپنے استاد سے علم حاصل کرنے کے بعد ان سے تربيت پا کر اپنے آپ کو استاد کا غلام و فرزند جانتے تھے اور ان کي بے پناہ عزت کيا کرتے تھے مگر جب مغرب زمين کي طرف سے ٹکنلوجي کي طوفان اٹھي تو اس نے صرف اس تعلم کو ايک اقتصادي ميدان ہي نہيں بلکہ استاد و شاگرد کے پاک رشتہ کو بھي مادي بنا ديا ، ان کے درميان کے روحاني رابطہ بھي مادي دولت کے بھيٹ چڑھ گئي اور استاد کا وہ عظيم مقام جہاں فرشتہ کي رسائي ممکن نہيں تھي اب شيطان کي آماجگاہ بن چکي ہے جہاں صرف دولت اور مال کي اھميت و عزت ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے