آيتالله جوادي آملي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق قرا?ن کريم کے مشہور و معروف استاد آيتالله عبدالله جوادي آملي نے حوزہ علميہ قم ايران کے اسلامي تبليغات ادراہ کي طرف سے عالمي وحياني اسراء ادارہ ميں ممتاز مبلغان اجلاس کے درميان بيان کيا : علماء دين انبياء کے وارث ہيں «العماء ورثة الأنبياء» يہ جملہ ا?ئمہ عليہم السلام کے ذات سے نسبت جملہ خبري است ليکن دوسروں کے لئے وہ کوشش کريں کہ انبياء کے وارث ہوں ?
انہوں نے وضاحت کي : مالي ارث ميں جب تک مورث موت کي ا?غوش ميں سوتا نہي ہے وارث کو کچھ نہيں ملتا ليکن علمي ارث ميں جب تک وارث حقيقي معني ميں نہيں مرتا کچھ اس کو نہيں ديا جاتا ہے کيونکہ فرمايا گيا ہے «موتوا قبل أن تموتوا» ?
حوزہ علميہ قم ايران ميں تفسير کے استاد نے نهجالبلاغہ کے خطبہ اول کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : نهجالبلاغہ کے خطبہ اول ميں بيان کيا گيا ہے کہ انبياء ا?ئے ہيں تا کہ معاشرہ کو عقلاني جامعہ پہنائيں «ليثيروا لهم دفائن العقول» مبلغان کو بھي چاہيئے جامعہ کو عقلانيت کي طرف لے جائيں ?
انہوں نے اس تاکيد کے ساتھ وضاحت کي : عقلاني معاشرہ وھم ، خيال اور خرافات کي کوشش ميں نہيں ہے ، کھي بھي عقلاني معاشرہ کو سٹرلائيٹ چائنل کے ذريعہ منحرف نہيں کيا جا سکتا ، عقل کو عقل کہا جاتا ہے اس لئے کہ خيال اور شہوت کو عقال کہتے ہيں نہ انديشہ کو پلٹاتا ہے اور نہ ہي انگيزہ کو چھوڑتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے