
رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، دلائي لامہ کي خاموشي اور بے توجہي کوئي نئي چيز نہيں ہے ? کچھ روز پہلے ميانمار ميں دوبارہ مسلمانوں کے قتل عام کي خبر شايع ہوئي اور ھميشہ کي طرح مغربي ميڈيہ اور خاص کر صہيونيوں سے منسلک عالمي ميڈيہ نے اس خبر کو سينسر کرنے اور اس عظيم استبدادي و سفاکانہ حادثہ کو کم اھميت ديکھانے ميں مشغول ہو گئي ، اس سے بے تجہي کے ساتھ کہ ميانمار ميں اس قتل و غارت کي وجہ کيا ہے مغربي ميڈيہ نے لکھا ہے اس حادثہ ميں ايک فکر کي طرف توجہ اھم جس کي طرف غور کرنا ضروري ہے اور وہ فکر ميانمار کے بوديسٹ کي ہے اور ان کي مغربي رھبريت ہے اور ان لوگوں کے نظريہ اور عمل ميں تناقض کا پايا جانا ہے ?
سچ ميں ديکھا جائے تو يہ دلائي لامہ جو کہ صدام کے پھانسي کي مخالفت کر رہا تھا جس کے اعتراض کو تمام ميڈيہ والوں نے منظم طور سے اشاعت کي تھي اور ان کو ايک معنوي فرد اور انساني حقوق کا مدافع کا مقام عنايت کيا تھا ، مگر کيا بات ہو گئي کہ وہي معنوي شخصيت نے ميانمار کے قتل عام پر ابھي تک زباني اعتراض بھي نہيں کيا ؟ يہ قابل غور ہے کہ مغرب کے سب سے بڑے معنوي رھبر کيوں ميانمار ميں قتل عام کے بعد اپنے آپ کو گوشہ نشين کر ليا ہے اور اپنے آپ کو سامنے لانے کي خواہش نہي کرتے ؟
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے