17 November 2012 - 15:48
خبر کا کوڈ: 4799
فونت
سيد ساجد علي نقوي:
رسا نيوزايجنسي – شيعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے حضرت امام حسين(ع) کي شھادت کو انسانيت کي بقا کي ضامن جانا ?
سيد ساجد علي نقوي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، شيعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي نے محرم الحرام 1434 ھجري کے ا?مد پر ارسال کردہ پيغام ميں مجلس حسين(ع) سے عظيم درس لينے کي تاکيد کي ?

اس پيغام کا تفصيلي متن يہ ہے :

نواسہ رسول حضر ت امام حسين عليہ السلام نے صحرائے کربلا ميں اپنے اصحاب و انصار سميت شہادت کے درجے پر فائز ہوکر اسلام اور انسانيت کي بقاء کا انتظام فرماديا، آپ کي جدوجہد اور مشن کا مرکزي نکتہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر اور دين محمدي کو يذيدي فکر، يذيدي اقدامات اور يذيدي نظام سے محفوظ رکھنا تھا?

يہي وجہ ہے کہ مدينہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا کے سفر کے دوران متعدد خطبات ميں آپ نے اپنے قيام کے مقاصد اور اپنے سفر کي وجوہات کا تفصيل سے تذکرہ فرمايا تا کہ دنيائے انسانيت اس غلط فہمي ميں نہ رہے کہ امام عالي مقام اپني ذاتي خواہشات يا خانداني و گروہي مفادات کے لئے برسرپيکارہيں بلکہ دين اسلام، شريعت محمدي ، انساني اقدار اور عوامي حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل اور پرعزم ہيں اور اپنے موقف و نظريے ميں اس قدر راسخ ہيں کہ تمام دنياوي مشکلات حتي کہ شہادت بھي قبول کرنے کے لئے آمادہ و تيار ہيں?

انہوں نے مزيد کہا کہ آپ کے اعلي مقاصد اور پاکيزہ اہداف کا بغور مطالعہ کيا جائے تو يہ بات صراحت کے ساتھ واضح ہوجاتي ہے کہ آپ کي جدوجہد فقط اسلام يا مسلمين کے لئے نہيں بلکہ بلا تفريق مذہب و مسلک پوري انسانيت کے لئے تھي اور آپ کي شہادت کے بعد ظاہر ہونے والے اثرات اور حالات سے يہ بات نماياں طور پر سامنے آتي ہے کہ آپ نے پوري انسانيت کو اپنے کردار، سيرت اور عمل کے ذريعے نہ صرف متاثر کيا بلکہ اپني پيروي پر مجبور کيا ?

يہي وجہ ہے کہ آج زمانہ آپ کو محسن انسانيت کے نام سے ياد کرتا ہے? امام حسين کي ذات اقدس ہر حوالہ ، ہر زاويہ اور ہر پہلو سے ہمارے لئے باعث رہبري و رہنمائي ہے?

آغوش رسالت ميں آنکھ کھولنے والا حسين کس طرح رسول اکرم کي نيابت کا حق دار نہيں ہوسکتا ؟ امير المومنين کے سايہ عاطفت ميں تربيت پانے والا حسين کيسے امت کو اور دين کو فسق و فجور کے طوفان ميں تنہا چھوڑ سکتا ہي؟ سيدہ خاتون جنت کي پاکيزہ گود ميں پرورش پانے والا حسين کيسے دين خدا اور شريعت محمدي پر ملوکيت کے سائے برداشت کرسکتا ہي؟ امام حسن جيسے کريم و شفيق اور امن کي علامت شخصيت کا بھائي حسين بھلا کيسے امت ميں فتنہ و فساد برپا ہونے پر خاموش رہ سکتا ہي؟

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کي ذمہ داري ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہري کو اجازت ديں وہ شہدائے کربلا کے حضور خراج عقيدت پيش کرسکيں ?

عوام کو ان کے ساتھ شہري، آئيني اور مذہبي حقوق کي آزادي ہو تاکہ وہ پورے جوش و خروش اور عقيدت کے ساتھ مراسم عزاء انجام دے سکيں?

بات طے ہے کہ عزاداري سيد الشہداء کے انعقاد کے لئے لائسنس، اجازت نامي، روٹ پرمٹ اور ان جيسي ديگر بلا جواز پابنديوں سے عوام کے حقوق اور شہري آزاديوں کي نفي ہوتي ہے، اس لئے انہيں ختم کيا جانا چاہئے اور عوام کو آزادي ديني چاہئے کہ وہ کرفيو کے عالم اور سنگينوں کے سائے تلے عزاداري منانے کي بجائے کھلے ماحول ميں عزاداري کي محافل منعقد کرسکيں?

جلوس ہائے عزاء کے روٹ کو محدود کرنا يا تبديل کرنا ، مجالس عزا کے انعقاد ميں رکاوٹيں ڈالنا، مجالس کے پروگرام ختم يا تبديل کرنے اور لائسنس ، پرمٹ يا اجازت نامہ کو منسوخ کرنے جيسے اقدامات سے مکمل اجتناب برتنا ضروري ہے?

منفي صور ت حال کا خاتمہ کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کي ذمہ داري ہے? اسي طرح ايام محرم الحرام کے دوران تمام مسالک کے علماء ، خطباء ، مقررين، ذاکرين ، رہنمائوں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اتحاد بين المسلمين، وحدت امت اور امن و امان کي طرف متوجہ کريں اور ايک دوسرے کے عقائد و نظريات کا احترام کرنے کو ملحوظ خاطر رکھيں?

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬