محمد امين شہيدي:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے ڈپٹي جنرل سکريٹري حجت الاسلام محمد امين شہيدي نے عباس ٹاؤن کراچي ميں امام بارگاہ و جامع مسجد مصطف?ي (ص) کے قريب بم دھماکے کي شديد الفاظ ميں مذمت کي ?
محمد امين شہيدي نے يہ کہتے ہوئے کہ ہم حکومت کو مسلسل اگاہ کرتے چلے آرہے ہيں کہ محرم الحرام کے امن کو خراب کرنے کي کوشش کي جائے گي لہذا حکومت اور سکيورٹي کے ذمہ دار ادارے سنجيدگي سے دہشتگردوں خلاف ايکشن ليں کہا: حکومت نے زباني اور کلامي نعرے تو لگائے، ليکن عملي طور پر کوئي سنجيدہ قدم نہيں اٹھايا ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ انتظاميہ کي ڈھيل سے کالعدم اور فرقہ پرستوں گروہوں کو کھلي چھٹي مل گئي ہے کہا: ملک ميں قتل و غارت کا بازار گرم ہے اور يکم محرم کو ريلياں نکال کر شيعت کے خلاف غلط زبان استعمال کرتے رہے اور کراچي شہر کے امن کو خراب کرنے کي پوري کوشش کي گئي?
محمد امين شہيدي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ ملک کا امن خراب کرنے کوشش صرف کراچي ہي نہيں بلکہ ملک کے ديگر شہروں ميں بھي يہ سلسلہ جاري ہے کہا: جن اداروں کي ذمہ داري تھي کہ وہ امن و امان کو قائم رکھتے، انہوں نے کما حقہ اپني ذمہ داري پوري نہيں کيں? اس کے نتيجے ميں محرم کي دوسري تاريخ کو ہميں دہشت گردي کا تحفہ دے ديا گيا جو حکومت کي ناکامي کا منہ بولتا ثبوت ہے?
انہوں نے حکومت کو خبردار کيا کہ اگر اس موقع پر بھي سنجيدگي کا مظاہرہ نہ کيا گيا اور ايسے عناصر کو آہني ہاتھوں سے روکنے کي کوشش نہيں کي تو حالات اس سے بدتر ہوسکتے ہيں کہا: ہمارے دشمن پاکستان کے اندر شيعہ سني اختلافات کي بيج بونے ميں مصروف ہيں ?
مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے ڈپٹي جنرل سکريٹري نے کراچي سانحہ کے شہيدوں ميں دو اہل سنت برادران کي شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: زخميوں ميں بھي بڑي تعداد اہل سنت برادران کي ہے، جو يہ اس بات کا بيان گر ہے کہ پاکستان کے اندر شيعہ سني کا کوئي مسئلہ نہيں ہے?
محمد امين شہيدي نے يہ کہتے ہوئے کہ ہمارا اصلي دشمن امريکي سامراج اور تيل کے پيسوں پر پاکستان ميں دہشتگردي کو رواج دينے والے امريکي ايجنٹ ہيں اپيل کي : شيعہ سني مکمل اتحاد و وحدت سے ان مقدس ايام کو منائيں اور وہ عناصر جو دنيا بھر ميں فرقہ واريت کو فروغ دينا چاہتے ہيں، ان کے ان مذموم مقاصد کو خاک ميں ملا ديں?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ امام حسين (ع) اسلام کا سرمايہ ہيں، لہ?ذا سب مسلمانوں کو چاہئے کہ ان ايام کو بھرپور طريقے سے منائيں کہا: امام حسين (ع) ايک ايسي ہستي ہيں کہ جن پر تمام مسلمان اکٹھے ہوسکتے ہيں اور کربلا سے درس لے کر آج کي يزيديت کو شکست سے دچار کيا جاسکتا ہے، چاہے وہ يزيديت ، طالبان دہشت گردوں کي شکل ميں ہو يا امريکہ کي شکل ميں ہو?
محمد امين شہيدي نے اخر ميں کہا: ہم ان ايام کو رسول اللہ (ص) کي حرمت کي پاسداري کے طور پر منائيں گے اور ہم اس بات سے بھي آگاہ ہيں کہ دشمن کو يہ بات کسي قيمت بھي نہيں بھائے گي، لہذا وہ اس طرح کي کوششيں اور واقعات سے تفرقہ ڈالنے کي کوشش کرے گا?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے