20 November 2012 - 11:48
خبر کا کوڈ: 4809
فونت
شيعہ علماء کونسل پاکستان کي مرکزي محرم الحرام کميٹي؛
رسا نيوز ايجنسي ـ شيعہ علماء کونسل پاکستان کي مرکزي محرم الحرام کميٹي نے ماہ محرم کے دوران سيکورٹي کے تمام اختيارات پاک فوج کو دينے کا مطالبہ کيا ہے?
ماہ محرم کے دوران سيکورٹي کے تمام اختيارات پاک فوج کو ديا جائے

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق شيعہ علماء کونسل پاکستان کي مرکزي محرم الحرام کميٹي نے ماہ محرم کے دوران سيکورٹي کے تمام اختيارات پاک فوج کو دينے کا مطالبہ کيا ہے کيونکہ پاک آرمي ہي ايک ايسا ذريعہ ہے جو امن کے مقاصد اور اہداف کو کامياب سے حاصل کرسکتي ہے?

اس رپورٹ ميں بيان کيا گيا ہے : گذشتہ روز نيشنل پريس کلب اسلام آباد ميں پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شيعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزي سينئر نائب صدر اور مرکزي محرم الحرام کميٹي کے سربراہ سيد وزارت حسين نقوي ايڈووکيٹ اور ديگر رہنمائوں علامہ مشتاق ہمداني ، سيد محمود بخاري اور زاہد علي اخونزادہ نے بيان کيا : وطن عزيز پاکستان ميں ايک عرصے سے دہشت گردي، ڈاکہ زني، ٹارگٹ کلنگ اور ظلم و بربريت کے واقعات نے پاکستاني معاشرے کو خوني بناکر ايک ہولناک فضا قائم کي ہوئي ہے جس سے کوئي مسجد، امام بارگاہ ، نجي و سرکاي املاک، پبلک مقامات، بزرگان دين کے مزارات خون کي رنگيني سے محفو ظ نہيں? وزير آباد، قصور، لاہور اور گجرات سے گرفتار کئے جانے والے دہشت گردوں کے بيانات اور ان سے برآمد ہونے والے مہلک ہتھيار دہشت گردي کے ممکنہ خدشات کو مزيد تقويت ديتے ہيں?

سيد وزارت حسين نقوي ايڈووکيٹ نے صحافيوں کو بتايا کہ مرکزي محرم الحرام کميٹي کے اجلاس ميں موجود حالات کا تفصيلي جائزہ ليا گيا اجلاس ميں سول آرمڈ فورسز، پوليس، رينجرز، ايف سي اور ان سے وابستہ تمام اداروں کي محدود وسائل کے مطابق تمام کوششوں اور کاوشوں کو سراہا گيا ليکن سول آرمڈ فورسز کي تمام کوششوں کے باوجود دہشتگردي تھمنے کا نام نہيں لے رہي ہے اور يہ عمل تسلسل سے جاري ہے?

مرکزي کميٹي کي ميٹنگ ميں آئين پاکستان کے آرٹيکل 232 اور آرٹيکل 245 بھي زير بحث آئي، ايک طويل بحث کے بعد متفقہ طور پر فيصلہ کيا گيا کہ موجودہ مخدوش حالات ميں امن و امان قائم کرنے کيلئے پاک آرمي کي خدمات حاصل کي جائيں کيونکہ پاک آرمي ہي ايک ايسا ذريعہ ہے جو امن کے مقاصد اور اہداف کو کاميابي سے قائم کرسکتي ہي? ہم وفاقي حکومت، خصوصاً صدر پاکستان جناب آصف علي زرداري صاحب سے مطالبہ کرتے ہيں کہ محدود عرصہ ماہ محرم ميں پاک آرمي کو عملي طور پر يہ کام سپرد کيا جائے، يہي موجودہ حالات کا واحد حل ہے?

سول آرمڈ فورسز پاک آرمي کے مرتب کردہ سيکورٹي پلان کے تحت کام کريں اور کلي طور پر کمان پاک فوج کو حاصل ہو اگر ايسا نہ کيا گيا تو دہشت گردي کو روکنا کسي صورت ممکن نہيں?

وفاقي حکومت مرکزي محرم کميٹي کے فيصلہ کے مطابق پاک آرمي کي خدمات فوري طور پر حاصل کرے کيونکہ عشرہ محرم الحرام شروع ہوچکا ہے اس ميں تاخير ملک و ملت کيلئے خطرناک ہے?

سيد وزارت نقوي نے مزيد کہا : مرکزي محرم کميٹي نے حکومت سندھ کے اس فيصلہ کي بھي مذمت کي ہے جس ميں قائد ملت جعفريہ علامہ سيد ساجد علي نقوي پر صوبہ سندھ ميں داخلہ پر پابندي عائد کي گئي ہے ماضي و حال ميں قائد ملت جعفريہ نے کبھي بھي اپني کسي تقرير يا تحرير کے ذريعہ فرقہ واريت کي بات نہيں کي بلکہ ہميشہ تمام مکاتب فکر کو محبت، اخوت اور بھائي چارہ کا پيغام ديا، اتحاد بين المسلمين ہميشہ ان کا حدف رہا ہے، ملي يکجہتي کونسل اور متحدہ مجلس عمل اس کا واضح ثبوت ہے اورارض وطن ميں ہم اتحاد و حدت کي واضح علامت ہيں? ان حالات ميں مرکزي محرم کميٹي حکومت سندھ سے پر زور مطالبہ کرتي ہے کہ اس پابندي کو فوري طور پر ختم کيا جائے?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬