حجتالاسلام آقا تهراني :

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ايران کے اسلامي پارليہ مينٹ ميں تہران کے نمائندہ حجتالاسلام مرتضي آقا تهراني نے شب ساتويں محرم ميں امام حسين عليہ السلام کي عزاداروں کے درميان قم کے مسجد ملا صادق ميں نوزاد بچوں کے کان ميں آزان و اقامت کہنے کو اسلامي طرز زندگي کا نمونہ جانا ہے اور کہا : اسلامي طرز زندگي ميں سے ايک نوزاد بچوں کے طالو کے لئے کربلا کا خاک اور آب زمزم اور بعض لوگ فراط کا پاني بھي استعمال کرتے ہيں ?
انہوں نے اپني گفت گو کو جاري رکھتے ہوئے اسلامي اور مغرب کي طرز زندگي کا موازنہ کرتے ہوئے مغربي لوگوں کے لئے حصول سکون اور مشکلات سے آزادي کے اعتقاد کي وضاحت کرتے ہوئے وضاحت کي : ان لوگوں کے نظر ميں مشکلات سے نجات مادي وسائل کا حصول يعني مال کا ہونا ، اچھي زندگي بسر کرنا ، بيمہ اور اچھا گھر ہونے سے ہے ?
حجتالاسلام آقا تهراني نے اس اشارہ کے ساتھ کہ اسلام کے نظر ميں سکون و اطمينان کا حصول خدا کي ياد سے ہے ، اس وقت اسلامي معاشرے کے حالات کو مغربي نظريہ کي طرف تمايل جانا ہے اور بيان کيا : جو قدم امام حسين عليہ السلام نے اٹھايا ہے اگر مغرب کي نگاہ سے ديکھا جائے تو خوف و وحشت کے علاوہ کچھ نہيں دکھے گا ليکن يہي راستہ اھل خدا کے لئے «ما رأيتُ إلّا جميلاً» ہے ?
انہوں نے اميرالمومنين حضرت علي عليہ السلام کي طرف سے جنگ صفين ميں معاويہ کو بھيجے گئے خط کي طرف اشارہ کرتے ہوئے دنيا اور مال کو بعض لوگوں کے لئے سکون کا سبب جانا اور وضاحت کي : اگر انسان خدا کے علاوہ کسي چيز پر بھروسہ کرے تو وہ مشرک ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے