آيت الله نوري همداني:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مراجع تقليد قم ميں سے حضرت آيت الله حسين نوري همداني نے اج ظھر سے پہلے مواصلات اور ٹيکنالوجي کے اھلکاروں سے ملاقات ميں تاکيد کي : کربلا وہ کتاب ہے جس سے ھرزمانہ ميں استفادہ کيا جاسکتا ہے ?
انہوں نے مزيد کہا: دين و اهل بيت(ع) کي کوشش رہي ہے کہ ھم ھميشہ عاشورا کي ياد ميں رہيں اور اس سے مربوط رہيں ?
اس مرجع تقليد نے مزيد کہا: نوزائيدہ بچے کے منھ ميں خاک شفا دينا ، سفر ميں خاک شفا کا رکھنا، حضرت امام حسين عليہ السلام کي ياد ميں پاني پينا اور اپ کي تربيت پرسجدے کرنا، کربلائے معلي کا سفر اور امام حسين عليہ السلام سے رابطہ قائم رکھنے کے لئے کفن ميں خاک شفا رکھنا اس واقعہ کو باقي رکھنے کي علامتيں ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا: اهل بيت اطھار(ع) کے سلسلے ميں پيغمبر اسلام(ص) کي تاکيد کے با وجود واقعہ کربلا کا رونما ہونا ، اسے سمجھنے کے لئے ضروري ہے کہ اس کے اسباب پر غور و خوض کيا جائے ?
حضرت آيت الله نوري همداني نے تاکيد کي: امام حسين(ع) مکہ جانا چاھتے ہيں مگر اپ سے بيعت کا مطالبہ ہے اور انہيں دھمکياں دي جارہي ہيں اور مدينہ سے روانگي کے وقت اھل مدينہ کو اپ کو رخصت کرنے بھي نہيں گئے ?
انہوں نے بيان کيا: 8 ذي الحجہ ، جس دن لوگ حج کي ادائيگي کے لئے مکہ پہونچتے ہيں امام حسين عليہ السلام اسي دن مکہ چھوڑ ديتے ہيں مگر کچھ مخصوص لوگوں کے سوا کسي نے بھي امام سے سوال نہيں کيا کہ کيوں اس وقت مکہ سے روانہ ہورہے ہيں ?
انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ امام حسين(ع) کے ھمراہ ان کے اھل حرم بھي تھے کہا: امام حسين(ع) نے فرمايا؛ ميں ديکھ رہا ہوں کہ ميرے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائيں گے مگر ميں شھادت کا منتظر ہوں اور جو بھي ھمارے ساتھ شھيد ہونا چاھتا ہے وہ ھمارے ساتھ ہوجائے ?
اس مرجع تقليد نے مزيد کہا: زمانہ پيغمبر اسلام(ص) سے ليکر زمانہ امام حسين(ع) تک دين اسلام ميں بہت ساري تبديلياں رونما ہوئيں اور بدعتيں قائم کي گئيں جس کي بنياد رسول اسلام(ص) کي وفات کے خلافت کا اھل بيت رسول کے گھر سے باھر نکل جانا ہے ?
انہوں نے مزيد کہا: اس عظيم سانحہ کا اھم سبب سياسي شخصيتوں کي نگاہ اور بيان ميں دين و سياست ميں جدائي ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے