شيخ عيسي قاسم:

رسا نيوزايجنسي کي صوت المنامہ سے رپورٹ کے مطابق، بحرين کے شيعہ عالم دين اور ليڈر آيت الله شيخ عيسي قاسم نے گذشتہ روز نماز جمعہ کے خطبے ميں جو مسجد امام صادق(ع) ميں سيکڑوں مومنين کي شرکت ميں منعقد ہوا آل خليفہ کي سياسي سامراجيت کو بحرين کي بنيادي مشکلات سبب جانا ?
آيت الله شيخ عيسي قاسم نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ افسوس موجودہ نظام اج بھي اپنے طور و طريقہ پر مصر ہے کہ اور ملک کو بحرانوں سے نکلنے کے لئے مناسب راستوں کے انتخاب سے پرھيز کررہا ہے تاکيد کي: گورمنٹ قانوني دھشت گردي پر مصر ہے اور انقلابيوں کے کچلنے کو بہترين راستہ سمجھتي ہے ، العکر علاقہ کا گذشتہ دنوں سے محاصرہ اور مہزه علاقہ ميں بھي اسي اقدام کي تکرار ، حکومتي دھشت گردي کا بيان گر ہے ?
آيت الله عيسي قاسم نے مزيد کہا: ماتمي جلوسوں پر حملہ ور ہونا ، ذاکرين اور انجمنوں کے ذمہ داروں کا پوليس چوکيوں پر احضار ، ايت کريمہ اور حضرت اباعبدالله الحسين(ع) کے کلام کو بيان کرنا جرم سمجھنا بھي اس نظام کے فاسد ہونے کي دليليں ہيں ?
بحرين کے شيعہ عالم دين نے بحرين کے حالات کي خرابي کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حکومت حقائق سے پردہ اٹھانے والي کميٹي کا احترام کرنے ، ملت کے خلاف جنايتوں کے انجام دينے والے مجرمين کو سزائيں دينے ، راتوں کے حملہ سے پرھيز کرينے ، نوکري پيشہ افراد کو واپس لوٹانے اور مظاھرے کا لائسنس دينے کے بجائے راتوں ميں عورتوں کي گرفتاري ميں مصروف ہے ?
انہوں نے العمل پارٹي بحرين کے ليڈرس کے خلاف جاري ہونے والے احکامات ميں کمي کي جانب اشارہ کيا اور کہا: اگر چہ اس پارٹي کے بعض ليڈرس کي سزا ميں کمي ائي ہے مگر ھماري توقع ہے کہ بحرين کي ايک فرد بھي جيليوں ميں نہ رہے کيوں کہ کسي شھري کو اس کے افکار بيان کرنے اور اس کے حقوق کے مطالبہ کے جرم ميں جيل کي سلاخوں کے پيچھے نہيں ڈالا جاسکتا ?
بحرين کے اس شيعہ عالم دين نے بحريني قوم کو اتحاد کي دعوت ديتے ہوئے کہا: الحمدللہ بحريني اتحاد سے متمسک رہے ہيں اور انہوں نے سمجھ بوجھ کر قدم اٹھايا ہے ، مگر افسوس ھم اب ھم ديکھ رہيں ہے کہ يہ اتحاد کمزور ہوتا جارہا ہے ، مصر و تيونس و ليبي کي عوام بھي بحرانوں سے روبرو ہے اور بحريني ميڈيا بھي پوري کوشش ميں ہے کہ مذھبي اور مسلکي فتنہ کي اگ بھڑکا کر سکون کي سانس لے سکے مگر ابھي تک انہيں کاميابي نہيں مل سکي ہے ?
شيخ عيسي قاسم نے بيان کيا: افسوس دين وحق و عدالت کي زبان ان اختلاف سے ختم ہوجائے گي ، انساني اقدار ميں کمي ائے گي ، رشتہ ٹوٹيں گے اور انسانوں کا خون بے حيثيت ہوجائے گا ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے