آيت الله جوادي آملي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حوزہ علميہ قم ايران ميں درس خارج کے مشہور و معروف استاد حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے ا?ج مسجد اعظم قم ميں علماء و افاضيل و طلاب کي شرکت کہ ساتھ سورہ مبارکہ عنکبوت کي تفسير بيان کي ?
تفسير قرا?ن کے استاد نے ا?يہ شريفہ «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِن جَاهَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِي مَا لَيْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُکُمْ فَأُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ» کے اشارہ کے ساتھ بيان کيا : ماں و باپ کے احترام کے سلسلہ ميں کلمہ جہاد بيان کيا گيا ہے يعني تمہارے عقيدہ سے تم کو الگ کرنے کے لئے ماں و باپ جتني بھي کوشش کريں تم ان کي اطاعت مت کرنا اور اگر جہاد اور ان کي تمام تلاش و کوشش اس راستہ ميں ہو اس کو چھوڑ ديا جانا چاہيئے اس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کم ہونے کي صورت ميں بھي انسان کو اپنے دين کي حفاظت کرني چاہيئے ?
قرا?ن کريم کے مشہور مفسر نے ا?يہ شريفہ «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : «الصالحين» سے مراد معاشرہ اور صالح قوم نہي ہے بلکہ مراد يہ ہے کہ ايمان اور عمل صالح کے ساتھ قيامت کے روز صالحين کے ھمراہ محشور ہونگے ?
حوزہ علميہ قم کے استاد نے ا?يہ شريفہ «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّـهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّـهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللَّـهِ وَلَئِن جَاءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّکَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ أَوَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : يہ کہ خداوند متعال فرماتا ہے ( لوگوں ميں بعض ايسے ہيں جو کہتے ہيں ھم مسلمان ہيں ) يعني لفظي مسلمان ہيں ليکن وہ کافر ہيں اس کي علامت يہ ہے کہ دنيا کي چھوٹي سي نقصان کو ا?خرت کے عذاب جيسا جانتے ہيں ، يعني جس طرح عذاب الہي ڈرانے والا اور کفر کي رکاوٹ ہے يہ لوگ دنيوي نقصان کو ايمان کي رکاوٹ سمجھتے ہيں کيونکہ وہ حقيقي مومن نہيں ہين فرمايا «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا» و نفرمود «و من المؤمنين» ?
حضرت آيت الله جوادي نے «جهاد في الله» و «جهاد في سبيل الله» کے فرق کو بيان کرتے ہوئے «أُوذِيَ فِي اللَّـهِ» کي طرف اشارہ کيا اور وضاحت کي : «أُوذِيَ فِي اللَّـهِ» «فِي سَبيل اللَّـهِ» سے الگ ہے ، جہاد ميں شرکت کرنا ايذاء في سبيل ہے ليکن اگر اصل ايمان کي وجہ سے اذيت ہو تو «في الله» ہے اس سورہ کے ا?خر ميں بھي بيان کيا گيا ہے «وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا» کيونکہ جهاد في الله و في سبيل الله اس ا?يت ميں ايک ساتھ ذکر ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ يہاں دو چيز مراد ہے ورنہ يہ تکرار ہے ، اگر جہاد اصل ميں ايمان ہوتا مثل جہاد اوسط و جہاد اکبر ، تب جو شخص من عرف نفسه فقد عرف ربہ کے مطابق مجاهدت کرتا ہے يا چاہتا ہے کہ جہاد اوسط کے ذريعہ جہاد اکبر تک پہونچے في للہ جہاد ہے ليکن کوئي شخص الھي حکومت کي مدد کر رہا ہے ، دفاع کر رہا ہے دشمن سے مقابلہ کر رہا ہے تو اس شخص نے جہاد في سبيل اللہ کي ہے ، خداوند عالم فرماتا ہے جو بھي ميري طرف ا?نا چاہتا ہے ميں اس کے لئے راستہ فراھم کرتا ہوں «لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا» ليکن اگر کوئي في سبيل اللہ جہاد کرے اس کي مدد کرتا ہوں «إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْکُمْ»، جهاد في الله کا نتيجہ خدا کي طرف ھداہت ہے ، فرمايا اگر کوئي ميرے پاس ا?نا چاہتا ہے تو ميں اس کو راستہ دکھاتا ہوں، يہ بہت فرق کرتا ہے اس کے ساتھ جو شخص چاہتا ہے خدا کے راہ ميں جہاد کرے کہ خدا سبحان اس کي مدد کرتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے