حجت الاسلام ناظرعباس تقوي:

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، شيعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام ناظر عباس تقوي نے صحافيوں سے ملاقات ميں پوري شيعہ قوم مطالبہ کيا : اپني عزت اور تحفظ ناموس کے لئے، عزاداري سيد الشہداء کے تحفظ کے لئے اور کراچي ميں جاري ٹارگٹ کلنگ کے خلاف بھرپور طريقے سے احتجاج کي درخواست کي ?
ناظر عباس تقوي نے يہ کہتے ہوئے کہ ميں قوم کے کسي فرد کو خواب غفلت ميں نہيں رکھنا چاہتا، کسي سے کوئي ايسا کوئي ايسا واعدہ نہيں کرنا چاہتا جس پر پورا نہ اتر سکيں? ہم پہلے سے کہہ رہے ہيں کہ عصرحاضرکي کربلا ميں کھڑے ہيں اور اپني جان کا نذرانہ لے کر اپنے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتے ہيں کہا: ہمارے نزديک جان زيادہ اہميت نہيں رکھتي بلکہ مذھب اور ہمارے اہداف اور عقائد اہم ہيں اور ھم اس کے تحفظ کے لئے نکلے ہيں ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ اگر ہميں جان بھي ديني پڑجائے تو اپنے مکتب کے تحفظ کے اس سے گريز نہيں کريں گے کيوں کہ اب اپني قوم کو اپنے پيروں پرکھڑا کرنے کا وقت آگيا ہے کہا: ميں تمام علماء کرام، اکابرين ملت، ديني مذہبي اور سماجي شخصيات، اسکالر اور دانشور، تمام تنظيموں و انجمنوں کے سربراہان و کارکنان کو دعوت ديتا ہوں اور فردا فردا بھي ہرايک کے پاس جا رہے ہيں ?
حجت الاسلام ناظرعباس تقوي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ وہ ہي قوميں اس ملک ميں زندہ رہ سکتي ہيں جو اپنے حقوق چھيننے کي طاقت و قوت رکھتي ہوں ، جس قوم کے اندر اپنے حقوق چھيننے کي صلاحيت ہے وہ ہي اس ملک اور اس شہر ميں زنده رہ سکتي ہے اور جو قوميں حق چھيننے کي طاقت نہيں رکھتيں تو تاريخ گواہ ہے کہ سرنگوني اس کا مقدر بن گئي کہا: سيدالشہداء نے کربلا کے ميدان ميں پيغام ديا تھا کہ ذلت کي زندگي سے عزت کي موت بہتر ہے ، آج ہم اس دورانيہ ميں آچکے ہيں کہ دشمن ہميں بار بار ذليل کر رہا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے