آيتالله جوادي آملي :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيتالله عبدالله جوادي آملي نے مسجد اعظم قم ايران ميں اپنے درس تفسير ميں سورہ مبارکہ عنکبوت کي سلسلہ وار درس تفسير ميں بيان کيا : اس سورہ کے ابتدا ميں امتحان خدا کے سلسلہ ميں بيان کيا گيا ہے اس سورہ کے انتہا تک جو بيان کيا گيا ہے وہ الھي امتحانات ہے امتحانات کے سلسلہ ميں بھي کہا کہ انسان جب تک زندہ ہے وہ الھي امتحان ميں مبتلي ہے ، بعض لوگ بيماري ميں مبتلي ہيں اور بعض سالم ہيں ، بعض فقر ميں گرفتار ہيں تو بعض غني ہيں ، بعض جہل ميں مبتلي ہيں تو بعض علم ، سورہ مبارکہ فجر کي ا?يات ميں بھي يہي مضامين ہيں يہيں سے سلامت و مرض کا مسئلہ معلوم ہوا ، وہ شخص جو ہسپتال ميں ہيں مريض ہيں ، الھي امتحانات ميں فرق ہے بعض ھر روز مريض ہيں تو بعض سال ميں ايک مرتبہ اس ميں مبتلي ہوتے ہيں ?
انہوں نے وضاحت کي : جو شخص ايمان خدا کے راہ ميں کوشش کرتا ہے خداوند عالم اس کو مقصد تک پہوچنے کا راستہ دکھاتا ہے، نہ تشريعي بلکہ تکويني يعني مطلوب تک پہوچاتا ہے «وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّـهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ» مجاھدين کو خاص راستہ دکھاتا ہے ، ان کے قلب ميں ايک رجحان پيدا کرتا ہے اور وسائل فراھم کرتا ہے اس کي بنا پر وہ جلد اس راستہ کو طے کرتا ہے اور منزل تک پہوچ جاتا ہے مگر قرا?ن بھي خود ھدايت ہے چاہے مجاھد ہو يا غير مجاھد ، اس لحاظ سے کہ جہاد و کوشش اهتدا في سبيل الله کے ساتھ ہو ، يہ اس چيز کي علامت ہے کہ يہ اھتدا جہاد سے الگ ہے اور جہاد افضل ہے اھتدي سے ، يہ اھتدي تکويني الھي راستہ ہے اور يہ اھتدا جہاد ابتدائي مجاھد سے اعلي ہے کيونکہ نتيجہ کي صورت ميں ذکر ہوتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے