12 December 2012 - 18:15
خبر کا کوڈ: 4884
فونت
آيت الله کعبي :
رسا نيوزايجنسي - مدرسين حوزہ علميہ قم کے رکن آيت الله عباس کعبي نے اسلامي حکومت کو اسلامي طرز زندگي کا جامہ عمل پہنانے کا وسيلہ جانا اور کہا: اسلامي طرز زندگي ، اسلامي نظام اور اسلامي حکومت کے دائرے ميں بہتر ہوسکتي ہے ?
آيت الله کعبي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مدرسين حوزہ علميہ قم کے رکن آيت الله عباس کعبي نے مدرسہ علميہ شهيد آيت الله صدوقي ميں اھل حوزہ اور رضاکار فورس کے اراکين کے اجلاس خطاب کرتے ہوئے امام حضرت علي ابن الحسين(ع) کے رسالہ حقوق کي جانب اشارہ کيا اور کہا : اسلامي طرز زندگي کا ايک اھم عنصر خدا کي بندگي ہے ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے انسانوں کي گردنوں پر خداوند متعال کا اھم حق اس کي بندگي جانا اور کہا: اسي بنياد پرامام چھارم(ع) نے فرمايا « و اما حق الله الاکبر ان تعبده و لا تشرک به شي شيئا فاذا فعلت ذلک جعل لک علي نفسه ان يکفيک هم الدنيا و الآخره» کہ اس کي بنياد پر خدا کي بندگي انسان کو مقام خليف? اللهي تک پہونچا سکتي ہے ?

انہوں نے امام سجاد عليہ السلام کي فعاليتوں ميں ا?مريت سے مقابلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: حضرت (ع) دعا کے لہجے ميں اخلاقيات اور اسلامي طرز زندگي سے لوگوں کو ا?شنا کرتے تھے تاکہ حالات کا رخ موڑ سکيں ?

آيت الله کعبي نے امام چھارم (ع) کي دعاي «مکارم اخلاق» اور صحيفہ سجاديہ(ع) ميں موجود ديگر دعاوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ان دعاوں ميں حضرت کے مخاطبين معاشرے کے خواص اور ممتازين ہيں ، کسي معاشرہ ميں موجودہ تہذيب کو بدلنے کے لئے ممتازين کا اھم کردار ہے کہ اگر وہ مثبت طريقہ سے بدل جائيں تو معاشرہ بھي بدلے گا کہ اس کے برخلاف اگر يہ فاسد ہوگئے تو معاشرہ بھي فاسد ہوگا ?

انہوں نے بيان کيا: معاشرے کے ممتازين نے حضرت رسول(ص) کے ھمراہ رہ کفر کا مقابلہ کيا جيسا کہ قرا?ن کريم نے فرمايا : « مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْکُفَّارِ ؛ محمد خدا کے رسول اور ان کے ساتھي کفار کے حق ميں سخت ہيں » ?

حوزہ علميہ قم کے اس نامور استاد نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ رسول اسلام(ص) کي رحلت کے بعد معاشرے کے خواص کے انحراف نے امام حسين (ع) کي جان لے لي کہا: موت کا خوف ، جانثاري سے پرھيز اور اسلام کے غلط مفھوم نے انہيں اس منزل تک پہونچا ديا کہ واجبات کي انجام دہي کے ساتھ حرام کاموں کي بھي عادت کرليں ?

انہوں نے امام سجاد عليہ السلام کي دعاوں کے ديگر فقروں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ « خدايا ميں تيري حمد کرتا ہوں اس بات کے لئے کہ تو نے اپني راہ ميں شھادت کے لئے ھميں دشمنوں کي شمشيروں کا نشانہ قرار ديا » کہا : امام (ع) نے دعا کے دوسرے فقرے ميں بيان کيا کہ « خدايا تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ کوئي مظلوم مورد ستم قرار پائے اور ميں اس کي مدد نہ کرسکوں » يہ جملہ معاشرے کي اصلاح ميں حضرت (ع) کي زبان سے نکلے ہوئے جملہ ہيں ?

آيت الله کعبي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ ائمہ عليھم السلام اپني شھادت وقت ، اپنے بعد کے امام کو منصب امامت حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ بعد کے امام کو زباني وصيتيں بھي کرتے تھے ، کربلا کے واقعہ اور امام حسين (ع) کي امام سجاد (ع) کو وصيت کي جانب اشارہ کيا اور کہا: امام محمد باقر(ع) فرماتے ہيں کہ ميرے والد بزرگوار نے مجھ سے فرمايا کہ جب ا?خري رخصت کو امام حسين (ع) ميرے پاس ا?ئے تو ا?پ نے منصب امامت ميرے حوالہ کيا اور مجھ سے وصيت کي کہ «يا بني اياک و ظلم من لا يجد عليک ناصرا الا الله ؛ ميرے بيٹے بے ياور و مددگار پر ظلم کرنے سے پرھز کرو »
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬