13 December 2012 - 13:07
خبر کا کوڈ: 4887
فونت
آيت‌الله جوادي آملي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت‌الله جوادي آملي نے کہا : مصر سے بحرين ، بحرين سے مصر تک ھر طرف کربلا کي صدا «‌هيهات من الذله» گونج رہي ہے يہ حسين ابن علي عليہ السلام کا اثر ہے شايد ممکن ہے اس ميں ذرا اختلاف پايا جاتا ہو وہ يہ کہ ان ميں بعض شيعہ نہيں ہيں مگر امام حسين عليہ السلام کے مبارک نام کو ان لوگوں نے زندہ کر رکھا ہے ?
آيت‌الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت‎ الله عبدالله جوادي آملي نے مسجد اعظم قم ايران ميں سورہ مبارکہ عنکبوت کي سلسلہ وار اپنے درس تفسير ميں بيان کيا : خداوند عالم نے سورہ مبارکہ عنکبوت کي پچيسويں ا?يت ميں فرمايا قيامت کے روز بعض لوگ ايک دوسرے پر لعنت بھيج رہے ہونگے ، بعض لوگ ايک دوسرے کا انکار کرے نگے ، بت اور بت کي عبادت کرنے والے ايک دوسرے سے دوري اختيار کرے نگے ، سورہ بقرہ کي ا?يہ نمبر ا?? ميں فرمايا « إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ» يہاں پر بت پرستي کي حقيقت اور اس کا باطل ہونا واضح ہوتا ہے اور تابع و متبوع ايک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہيں «کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا» سورہ اعراف ميں ان لوگوں کے لعن کو بيان کيا گيا ہے ، جہنمي جب جہنم ميں ڈالے جائے نگے ھر گروہ ايک دوسرے پر لعنت بھيجے نگے اور ايک دوسرے کو مجرم کہے نگے ، متقين کے علاوہ « الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ» ?

انہوں نے اس ا?يت «وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي کَانُوا يَعْمَلُونَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : ابھي تک کئي مرتبہ يہ مطالب بيان کي جا چکي ہے ، احسن (افعل تفضيل) ہے ليکن کبھي کبھي يہ (افعل تفضيل) اضافہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور کبھي (من) کے ساتھ ، ايک مرتبہ کہا جائے گا «افضل منه» يا «افضل منهم» اس معني ميں کہ بہتر ہے اور برتر ہے ، کبھي کہا جائے گا افضل الانبياء کذا، يعني بہترين انبياء يہ ہيں ، «افضل منه» و «افضل الانبياء» کے درميان فرق پايا جاتا ہے ، جب کہا جائے گا «افضل الاعمال احمزها» يعني بہترين اعمال اس کي مشکلات ميں ہے ، يہاں پہ فرمايا «أَحْسَنَ الَّذِي کَانُوا يَعْمَلُونَ» ، يہ نہي فرمايا : «احسن من الذي کانوا يعملون» کہ ان کے اچھے اعمال پر ثواب دو نگا ، يعني ان کو ان کے اچھے اعمال اور اچھا کام جو انجام ديا ہے اس کي بنا پر جزا دو نگا ، جزا «احسن مما کانو يعملون» نہيں ہے ورنہ سورہ نور ميں بيان نہيں کرتا : «لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ» يہ لوگ اگر ايک سو عمل انجام ديتے ہيں تو اس ميں سے کچھ عمل قابل تحسين ہيں ، ھم ان کے اعمال کو سب سے اھم اعمال ميں شمار کرے نگے اور اس کو اس کي جزا دے نگے اور کبھي اس کے اس جزا ميں اضافہ بھي کرتے ہيں ، اگر «احسن مما کانوا يعملون» ہے تو جزا کا اضافہ کرنا معني نہي رکھتا ہے ?

قرا?ن کريم کے مشہور مفسر نے وضاحت کي : خداوند عالم رسالت کے سلسلہ ميں کبھي کبھي لفظ «ارسلنا» بيان کيا ہے تو کبھي «رسل» کہا ہے سورہ حديد کے پچيسويں ا?يت ميں بيان کرتا ہے «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ»، اس اصل کے ضمن ميں فرماتا ہے : «وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا» ، پہلے فرمايا «لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا» اس کے بعد ا?يت بعدي ميں اس کبري کو صغري کے عنوان سے فرمايا « وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ» اور اس سورہ کي ا?يہ 163 و 164 ميں ان سب کو مرسلين کے جز ميں جانا ، يہ وہ شرائط ہيں کہ قرا?ن حضرت ابراھيم عليہ السلام کے رسالت کے سلسلہ ميں رکھتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬