17 December 2012 - 13:39
خبر کا کوڈ: 4896
فونت
سيد اشھد حسين نقوي:
رسا نيوز ايجنسي - سلسلہ حکومت اموي کي پہلي کڑي معاويہ کے انتقال کے بعد جب يزيد نے زمام حکومت سنبھالا تو گذشتہ حکمرانوں کي طرح سرداران قبائل، بااثر شخصيات اور عوام سے بيعت کا مطالبہ کيا گيا ?
روضہ امام حسين عليہ السلام
 
وقت کے اموي بادشاہ يزيد کي حکمراني شامي باشندوں اور خطہ عرب کے کچھ نمک خواروں اور سادہ لوح عوام کي جانب سے مان لئے جانے کے باوجود بعض صحابہ کرام اور با اثر شخصيتوں کي جانب سے مخالفت سے روبرو ہوئي جن ميں سے حسين ابن علي عليھما السلام کي شخصيت نماياں ہے ?

محققين اور صاحبان فکر و نظر امام حسين عليہ السلام کي يزيد سے بيعت اور حکومت وقت کي مخالفت کے تين اہم اسباب بيان کرتے ہيں:

?? يزيد کا مستحق خلافت نہ ہونا اور خلافت کي اہليت نہ رکھنا ، جيسا کہ امام عليہ السلام مدينہ کے دارالحکومت ميں جب ان سے مطالبہ بيعت کيا گيا تو اپ نے برجستہ فرمايا : مثلي لايبايع مثلہ ، ميرا جيسا کہ اس جيسے کي بعت نہيں کرسکتا? [1]

امام حسين عليہ السلام نے اس بيان ميں شخصيت کو مورد تنقيد قرار ديا کہ يزيد کے صفات اسلامي مملکت کي حکمراني اور تخت خلافت کے شايان شان نہيں ?

?? صلح امام حسن عليہ السلام ميں جو معاہدہ کيا گيا تھا اور جس پر معاويہ نے دستخط بھي کئے تھے وہ پورا ہوچکا تھا کيونکہ يزيد کے والد، معاويہ سے يہ طے پايا تھا کہ معاويہ کي موت کے بعد خلافت ، امام حسن عليہ السلام ہي کے پاس رہے گي اور اگر امام حسن عليہ کے لئے کوئي ناخوشگوار حادثہ پيش آگيا تو ان کے بعد حق خلافت ان کے بھائي امام حسين عليہ السلام کو ہوگا، لہ?ذا يزيد کے والد کو اپنے بعد کسي کو خليفہ معين کرنے کا کوئي حق نہيں تھا? [2]

اس کا مطلب يہ ہے کہ يزيد کے والد معاويہ کے انتقال کے ساتھ ہي امام حسين عليہ السلام در حقيقت صاحب خلافت تھے ?

?? اس وقت کے حالات کچھ اس طرح کے تھے کہ ايسے حالات ميں قيام کرنا واجب ہوجاتا ہے کيونکہ خود آپ نے ايک حديث ميں اس طرح اشارہ کيا ہے:

”اني لم اخرج بطراً و لااشراً ولامفسداً ولاظالماً وانما خرجت اطلب الصلاح في امہ جدي محمد صلي اللہ عليہ وسلم اريد ان آمر بالمعروف وانہي? عن المنکر“ [3]

(ميں کسي فتنہ و فساد اور ظلم کے لئے نہيں نکل رہا ہوں بلکہ ميں اپنے جد رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کي امت کي اصلاح کے لئے نکل رہا ہوں اور ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنا چاہتا ہوں)

اسي طرح ا?پ نے اپنے شيعوں کے نام ايک خط ميں فرمايا: ”فلعمري ما الامام الا الحاکم بالکتاب، القائم بالقسط، الدائن بدين الحق، الحاسب نفسہ علي ذات اللہ ؛ خدا کي قسم امام کي ذمہ داري يہ ہوتي ہے کہ قرآن کے مطابق حکم کرے، عدالت قائم کرے، دين حق کي طرف دعوت دے اور پروردگار کے سامنے اپنے نفس کا حساب کرے “[4]

حکومت شام نے حسين ابن علي عليھما السلام کے سامنے فقط دو راستہ رکھے ، پہلا راستہ تو عام اور جنرل راستہ کہ سب کي طرح اپ بھي يزيد کي بيعت کريں اور دوسرا راستہ بيعت نہ کرنے کي صورت ميں جان کا نذرانہ پيش کريں ?

اسلامي احکام کے دائرے ميں جيسا کہ ھم ديکھتے ہيں کہ اسلام نے جان کي حفاظت ھرحال ميں ضروري جاني ہے جيسا کہ نبي (ص) کي حيات ميں جب بعض صحابہ کرام کو کفار نے گھير کر ان کي جان بخشي نبي کو برا بھلا کہنے پر مشروط کيا تو انہوں نے کفار کے احکامات کي اطاعت کي اور پھر نبي (ص) کو حقيقت سے اگاہ کيا تو نبي (ص) نے نہ يہ کہ ان کي سرزنش نہيں کي بلکہ انہيں سراہا اور ان کے اس اقدام کو تقيہ کا نام ديا ?

واقعہ کربلا ميں بھي ايسے ہي ديکھنے کو ملا کہ جب عصر عاشور بيبيوں کے سروں سے چادريں چھين لي گئيں اور خيام حسيني ميں ا?گ لگادي گئي تو حضرت زينب (س) نے حضرت امام سجاد (ع) سے اپنا وظيفہ دريافت تو اپ نے فرمايا کہ پھوپھي جان، جان کا بچانا ضروري ہے اپ سبھي خيمہ سے باہر نکل جائيں ?

ايسے احکام کے باوجود صاحب و وارث مسند رسالت ہے کيسے ناممکن ہے کہ خود اس پر عمل نہ اور بظاھر ان احکامات کي مخالفت کرے ؟

ليکن جہاں حيات کا مقصد دين کي نابودي اور موت کا مقصد دين کي حفاظت ہو وہاں حيات دين کا فديہ قرار پاتي ہے ، اور انہيں اسباب کي بنياد پر شريعت نے شھيدوں کي منزلتيں عظيم رکھيں ہيں ?

دشت کربلا ميں رونما ہونے والي اس حق و باطل کي جنگ ميں بھي اس بات پر غور کرنا ضروري ہے کہ جس مقصد کے تحت حسين عليہ السلام اور ان کے حق پرست باوفا اصحاب نے موت کو گلے لگايا اور راہِ حق اور رضائے خدا ميں اپنا سب کچھ قربان کرديا اس ميں کامياب ہوئے يا ناکام ؟ يا بني اميہ کا خونخوار نمائندہ يزيد اور اس کا دنيا پرست لشکر کامياب ہوا ؟

اگر کاميابي و ناکامي اور فتح و شکست کے صحيح معني اور مفہوم کي طرف توجہ کي جائے تو اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے، فتح و کاميابي يہ نہيں کہ انسان ميدانِ جنگ ميں اپني جان بچا لے يا دشمن کو ہلاک کر دے بلکہ فتح و کامراني يہ ہے کہ انسان اپنے ہدف و مقصد کو محفوظ کرکے آگے بڑھا سکے اور دشمن کو اس کے مقصد ميں کامياب نہ ہونے دے اگر فتح و کامراني اور شکست و ناکامي کے يہ معني سامنے رکھے جائيں تو معرکہ کربلا کا نتيجہ بلکل واضح ہو جاتا ہے ، کربلا کي جنگ کے بعد شام کے دربار ميں سيد سجاد عليہ السلام کے خطبے کو روکنے کے لئے نہ اعلان الھويت و وحدانيت ہونا چاھئے تھا اورنہ کسي نبي کي نبوت کا اقرار ، حسين (ع) نے يزيد کے انکار نزول قران اور ارسال رسل کے مقابل قيام کيا تھا اور جب خود يزيد کے دربار سے صداي اقرار نبوت گونج اٹھے تو پھر حسين کي کاميابي پر اس سے بہتر ثبوت فراھمي کيا ?

يہ صحيح ہے کہ امام حسين عليہ اسلام اور ان کے اصحاب باوفا شہيد ہو گئے ليکن انہوں نے اس شہادت سے اپنا مقدس ہدف و مقصد حاصل کر ليا، ہدف يہ تھا کہ بني اميہ کي اس مذموم اور اسلام دشمن سازش کو بے نقاب کيا جائے اور اس کا اصلي چہرہ لوگوں کے سامنے لايا جائے مسلمانوں کي فکر بيدار ہو اور ان کو زمانہ جاہليت ، زمانہ کفر اور بت پرستي کے مبلغين سے آگاہ کيا جائے اور يہ مقصد و ہدف بہترين طريقے سے حاصل ہوا?

امام حسين عليہ السلام اور ان کے اصحاب با وفا نے اپنے مقدس خون سے بني اميہ کے ظلم کے درخت کي جڑيں ہلا کر رکھ ديں، انہوں نے اپني قرباني سے بني اميہ کي ظالم و جابر حکومت کي بنيادوں کو ہلا کر رکھ ديا ، اور ان کا منحوس سايہ مسلمانوں کے سر سے ختم کر ديا ، حسين عليہ السلام جگر گوشہ رسول صلي اللہ عليہ وآلہ و سلم اور ان کے باوفا اصحاب کو شہادت اور ان کے اھل حر م پر رونما ہونے مظالم نے يزيد کے اصلي اور مکروہ چہرے کو سب پر ظاہر کرديا اور واقعہ کربلا نے مسلمانوں کے سوئے ہوئے ضمير کو جھنجھوڑ کر بيدار کرکے رکھ ديا ?

دس محرم سن ساٹھ ھجري کے بعد تمام رونما ہونے والے انقلاب ، شہدائے کربلا کے انتقام کے نام سے شروع ہوئے اور بالاتفاق سب کا نعرہ يہ تھا کہ ہم شہدائے کربلا کا انتقام ليں گے ، حتي? بني عباس نے بھي اسي نام سے اپنے قيام کا ا?غاز کيا اورانہوں نے انتقام خونِ حسين عليہ اسلام کے بہانے سے ہي حکومت حاصل کي ، اگرچہ وہ حکومت حاصل کرنے کے بعد ا?ل محمد پر ظلم و ستم روا رکھنے ميں بني اميہ سے بھي دوگام اگے نکل گئے ?

شہدائے کربلا کے لئے اس سے بڑھ کر اور کاميابي ہو سکتي ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مقدس مقصد تک پہنچ گئے بلکہ ظلم و ستم ميں جکڑے تمام انسانوں کو درسِ حريت دے گئے?
حسين والوں نے حسينيت کو ظلم و بربريت اور حقوق کي پائمالي کے خلاف ايک انقلابي فلسفہ بنا کر پيش کيا جس سے اہل حق رہتي دنيا تک سبق حاصل کرکے کاميابي حاصل کرتے رہيں گے، اور يزيديت کو ظلم و بربريت و آمريت پر مبني ايک فلسفہ ثابت کرديا جس کي دنيا کے ہر نظريہ ميں مخالفت و مذمت کي جاتي رہے گي اور اسکے علمبرداروں کي گردنوں ميں دنيا و آخرت ميں لعنتوں طوق پہنايا جاتا رہے گا ?

ان اسباب کے تذکرے سے ان لوگوں کا نظريہ باطل ہوجاتا ہے جن کي نظر ميں امام حسين عليہ السلام خطا کار ہيں ، کيونکہ وہ کہتے ہيں کہ امام حسين عليہ السلام کے لئے يزيد کي بيعت کرکے خاموش ہوجانا بہتر تھا?[5]

امام حسين عليہ السلام کے لئے کيسے يہ بہتر تھا کہ يزيد کي بيعت کرکے خاموش ہوجاتے جبکہ امام حسين عليہ السلام قيام کرنے کو واجب ديکھ رہے تھے اور خود يزيد کے والد معاويہ کي صلح نامہ امام حسن (ع) پر دستخط کے مطابق امام حسين عليہ السلام کو بيعت نہ کرنے اور سکوت اختيار نہ کرنے کا حق تھا?

لہ?ذا حضرت امام حسين عليہ السلام تاريخ کے اوراق پر فاتح اکبر کے نام سے مشہور ہيں اگرچہ کربلا کے ميدان ميں ظاہري طور پر آپ کو اور آپ کے لشکر کو تہہ تيغ کرديا گيا جبکہ ان کے قاتلوں پر ہميشہ تاريخ لعنت کرتي چلي آرہي ہے، اگرچہ دشمن نے اپني جنگ ميں غلبہ حاصل کيا ?

تاريخ ميں ايسي کوئي مثال نہيں ملتي کہ جس ميں جنگ ميں ظاہري غلبہ پانے والوں پر دنيا نے اس طرح لعنت و ملامت کي ہو جس طرح قاتلين امام حسين عليہ السلام پر کي گئي ہے? [6]

?????????????????????????????????????????????
حوالجات
1 - موسوع? کلمات الامام الحسين، ص ??? ?
2 - صلح حسن، ص??? ?
3 - المناقب ج? ،ص ??? ?
4 - الارشاد ، ص ??? ?
5 -العواصم من القواصم، ص ????
6 - نظري? الامام?، ص ????

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬