17 December 2012 - 15:59
خبر کا کوڈ: 4899
فونت
آيت الله جوادي آملي:
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت الله جوادي آملي نے تاکيد کي: مشرک اور ملحد پر بھروسہ کرنا مکڑيوں کے گھروں پر تکيہ کرنے کے برابر ہے ، اگر کوئي اسلامي نظام سے فرار کرکے بيگانہ ممالک ميں پناہ گزيں ہو تو بيت العنکبوت سے متمسک ہونے والي ا?يت کا مصداق ہے کہا: فراري افراد خيال کرتے ہيں کہ وہاں سکوں سے رہ سکيں گے اور وہاں ان کي زندگي ارام کي کٹے گي جب کہ يہ خدا کے علاوہ کسي اور پر تکيہ کرنا ہے ، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قران کے بيان ميں تازگي ہے ?
آيت‌الله جوادي آملي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق، مفسر کبير حضرت آيت الله عبدالله جوادي آملي نے اج طلاب و افاضل حوزہ علميہ قم کے مجمع ميں مسجد اعظم قم ميں سوره مبارکه عنکبوت کي تفسير کرتے ہوئے کہا: سوره مبارکہ عنکبوت کا ايک بنيادي عنوان سے ا?غاز ہوا اور وہ عام انسانوں کا امتحان ہے جيسا کہ فرمايا : «أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَکُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ؛ کيا لوگ يہ گمان کرتے ہيں کہ ان کے اقرار ايمان کے بعد انہيں چھوڑ ديا جائے گا اور ان کا امتحان نہيں ليا جائے گا» اور پھر اس نے گذشتہ امتوں سے لئے گئے امتحانات کا تذکرہ کيا اور پھر پانچ ا?يتوں کے بعد پيغمبراسلام (ص) کے واقعہ کا تذکرہ کيا اور اخر کي چالسويں ايت ميں مطلب کا خلاصہ بيان کرتے ہوئے فرمايا کہ جن لوگوں نے انبياء الھي کے ساتھ برا برتاو کيا وہ لوگ عذاب اليم ميں گرفتار ہوں گے ، اور انہيں ا?سماني ، زميني اور دريائي عذابوں سے دوچار کيا جائے گا ، اور پھر بيان کيا کہ انسان نياز مند اور اسے ايک پشت پناہ کي ضرورت ہے ، کوئي بھي نہيں کہ سکتا ہے کہ ھميں ضرورت نہيں ، گھر بار ، کھانا پينا، پہننا اور اوڑھنا ، چين وسکون اور اس طرح کے ديگر مسائل انسان کي ضرورتوں ميں سے ہيں ?

حوزہ علميہ قم ميں درس تفسير کے اس استاد نے ايت شريفه «مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ أَوْلِيَاءَ کَمَثَلِ الْعَنکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنکَبُوتِ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ ؛ جن لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنالئے ہيں ان کي مثال مکڑي جيسي ہے کہ اس نے گھر تو بناليا ليکن سب سے کمزور گھر مکڑي کا گھر ہوتا ہے اگر ان لوگوں کے پاس علم و ادراک ہو » کہا: جو لوگ ملحد اور انسان پرست ہيں خيال کرتے ہيں کہ انسان بے نياز ہے اور اپني ضرورتوں کو خود پوري کرسکتا ہے ان کا معبود ان کا نفس ہے «أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـهَهُ هَوَاهُ ؛ کيا تم نے ديکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے نفس کو اپنا معبود بنا ليا » جہاں تک بھي اس کي فکر کي رسائي ہوسکي وہي حق رہا يہ ملحد ہے اور مشرک وہ ہے جس نے بتوں سے لو لگائي ، دونوں گروہوں کي پہلي تشخيص صحيح کہ انسان محتاج ہے مگر دوسري تشخيص غلط ہے کيوں کہ ھواي و ھوس اور بت پرستي اور صنم پرستي سے کاميابي نہيں ملنے والي ، کيوں کہ يہ کام نہ انسان کے بس کا ہے اور نہ بتوں کے بس کا ، خدا کے علاوہ کسي پر بھي تکيہ بيت النعکبوت کے مانند ہے اور مکڑي کے گھر سے زيادہ کمزور کوئي گھر نہيں ، خدا کے علاوہ کوئي بھي انسان کي بقا ميں موثر کردار ادا نہيں کرسکتا ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬