24 December 2012 - 13:05
خبر کا کوڈ: 4923
فونت
حجت الاسلام و المسلمين حاجتي:
رسا نيوزايجنسي – حوزہ علميہ خوزستان کے پرنسپل حجت الاسلام و المسلمين حاجتي نے دنيا کي تباہي کے شوروغل کو عوام کے لئے فريب بتاتے ہوئے کہا: در حقيقت يہ افواہ عالمي جنگ کے ا?غاز کا منظرنامہ تھا ?
حجت الاسلام و المسلمين حاجتي

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي شھر اھواز سے رپورٹ کے مطابق، حوزہ علميہ خوزستان کے پرنسپل حجت الاسلام و المسلمين مير احمد رضا حاجتي نے کل شام انجمن فاطميون کے اراکين سے ملاقات ميں دنيا ميں بڑھتے ظلم وفساد کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: انساني معاشرہ ميں بڑھتے مظالم کي بنياد پيغمبراسلام(ص) کي اخلاقي سفارشات پر سنجديدگي سے عمل نہ کرنا ہے ، پيغمبراسلام(ص) نے بارہا و بارہا فرمايا «حُبُّ الدُّنيا رَاءْسُ کُلُّ خَطيئَةٍ ؛ دنيا سے محبت تمام خطاوں کي بنياد ہے » اي انسان اپنے نفس سے ہوشيار رہ ، کيوں کہ نفس پر کنٹرول نہ ہونا انسانوں کو گمراہي کي جانب کھچنے کا سبب ہوگا ?

حجت الاسلام و المسلمين حاجتي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ فتنہ پرور افراد «حب مقام» کے لحاظ سے اسرائيليوں کے ھم پلہ ہيں کہا: ايسے لوگ اپني مفاد کي تکميل ميں قوم و اسلامي اقدار کے مقابل کھڑے ہوتے ہيں کہ حقيقتا سخت سزاوں کے مستحق ہيں ?

انہوں نے پيغمبر اسلام (ص) سے منقول ايک روايت کے ائينے ميں کہ حضرت(ص) نے جنگ سے لوٹے سپاہيوں سے خطاب ميں کہا: خدا کي رحمتوں کے سايہ ميں رہو ، جہاد اصغر سے واپس لوٹنے والوں کا جہاد اکبر ابھي باقي ہے ، اور جب رسول اسلام(ص) سے جہاد اکبر کے معني معلوم کئے گئے تو حضرت(ص) نے فرمايا جہاد بالنفس جہاد اکبر ہے ?
حوزہ علميہ خوزستان کے پرنسپل نے دنيا کے ختم ہونے کي افواہ کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اھل ميکسيکو کي جانب سے دنيا کي تباہي کي پيش گوئي دنيا ميں فريب دينے کے برابر ہے اور درحقيقت اس کا مقصد کچھ اور ہي ہے ?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ دنيا کے ختم ہونے کي تاريخ کے اعلان ميں ، عالمي سامراجيت کي جانب سے ايک عظيم تحريک کے چلائے جانے کا مقصد پوشيدہ تھا کہا: سن 1945ء ميں مغرب کے دسيوں ريسرچ سنٹر اور 36 سے بھي زيادہ علمي گروپ نے امريکا اور مغربي ايشيا کے ممالک ميں اسلام کي شناخت اور اسلامي تعليمات کے اثرات کو ختم کرنے کي غرض سے اپني فعاليتوں کا ا?غاز کيا اور ان کا مقصد امريکي تہذيب کو دنيا کي نئي اور ترقي يافتہ تہذيب معرفي کرنا تھا ?

ايران کے نامور دانشور نے مزيد کہا: ان لوگوں نے صھيونيت کي عالمي حکومت کا پروگرام بنايا تھا اس طرح کہ اسرائيل کي پارليمنٹ کے گيٹ پرتحرير تھا «اے اسرائيل تيري حديں نيل سے فرات تک ہيں ...» اور اسي بنياد پر بيروت لبنان ميں ايک خاص پروگرام کے تحت عظيم امريکن يونيورسٹي کا افتتاح کيا گيا اور رضا شاہ پہلوي کے زمانہ حکومت ميں ايران ميں بھي فعاليتوں ميں توسعہ ديا گيا ?

حوزہ علميہ خوزستان کے پرنسپل نے کہا: امريکا کے سابق صدر جمھوريہ کارٹر کا بيان ہے کہ ايران ميں موجود امريکي سفارت ميں 1100 لوگ کام کرتے تھے اور اگر امام خميني(ره) اور اس زمانہ کے علما نہ ہوتے تو ا?ج ايران اور دنيا پر ھمارا قبضہ ہوتا ?

حجت الاسلام و المسلمين حاجتي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ دشمنوں نے اپنے اھداف کو جامہ عمل پہنانے کے لئے 21 دسامبر 2012ء کي تاريخ دي تھي کہا: کچھ برس پہلے سے اعلان کيا جانا کہ 21 دسامبر 2012ء کو دنيا ختم ہوجائے گي در حقيقت عالمي جنگ کے ا?غاز کا منظرنامہ تھا جس ميں قتل عام ہوتا کہ الحمد للہ وہ لوگ اپنے اھداف ميں کامياب نہ ہوسکے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬