26 December 2012 - 13:48
خبر کا کوڈ: 4927
فونت
آيت‌الله جوادي آملي :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت‌الله جوادي آملي نے اس تاکيد کے ساتھ کہ کثرتيت و پلوراليسم مذھبي صحيح نہيں ہے بيان کيا : قرا?ني ثقافت ميں عمل صالح اس عمل کو کہتے ہيں جو عمل حجت عصر کے مطابق ہو ، نماز اپني تمام فضيلت کے ساتھ اگر بيت المقدس کي طرف پڑھي جائے تو وہ عمل ، صالح عمل نہيں ہے ?
آيت‌الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت‌الله عبدالله جوادي آملي نے اپنے سلسلہ وار درس ميں سورہ مبارکہ عنکبوت کي تفسير کرتے ہوئے بيان کيا : يہ سورہ مبارک جو کہ مکہ ميں نازل ہوا اس سورہ مبارکہ ميں وحي و نبوت کے اصول اور انبيا کے قصہ يہ تين امور تھے جو ذکر کئے گئے ہيں ، پيامبر اکرم (ص) کے واقعات اس سورہ کے تيسرے بخش ميں بيان کيا گيا ہے ?

انہوں نے وضاحت کي : اس سورہ ميں نظريہ اور ديکھنے کے سلسلہ ميں گفت و گو کي گئي ہے : «قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا» نظر کريں يعني نظريہ بيان کريں فکر کريں تا کہ ناظم تک پہونچا جا سکے ، پہلے نظريہ ہے اس کے بعد رؤيت ، دوسرے ا?يہ ميں ارشاد فرماتا ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا کَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ» انسان نظريہ کے ذريعہ توحيد تک پہوچتا ہے اور توحيد کے بعد انبياء کے قصہ ہيں اور فرمايا کہ لوگوں کے لئے ايک خدا اور ايک قيامت ہے اور ايک ماخذ و قيامت کے درميان کا راستہ ہے ، ماخذ اور معاد تک ايک سے زيادہ راہ نہيں ہے اس راہ کے ذيلي شاخہ کا نام منہاج و شريعہ ہے جو ھر قوم و گروہ کے لئے ھر زمانہ ميں مختلف ہے جيسے حضرت عيسي عليہ السلام کے فروعي دين حضرت موسي عليہ السلام اور پيغمبر اکرم (ص) کے دين ميں فرق ہے ?

قرا?ن کريم کے مشہور مفسر نے سورہ مبارکہ بقرہ کي ا?يہ ?? «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : اس ا?يت اور اس سے مشابہ مضمون والے ا?يت سے تمسک کرنے والوں کا نظريہ ہے کہ کثرتيت و پلوراليسم صحيح ہے حالانکہ اسي سورہ کے ا?يہ ??? ميں اس سلسلہ کے مطالب موجود ہيں ، قرا?ني ثقافت ميں عمل صالح اس عمل کو کہتے ہيں جو عمل حجت عصر کے مطابق ہو ، نماز اپني تمام فضيلت کے ساتھ اگر بيت المقدس کي طرف پڑھي جائے تو وہ عمل ، صالح عمل نہيں ہے عمل صالح وہ عمل ہے جو اس زمانہ کے پيغمبر کے حکم کے مطابق ہو اس طرح نہيں ہے کہ اگر کوئي گذشتہ زمانہ کے پيغمبر کے حکم کے مطابق منسوخ عمل پر عمل کرے تو وہ صالح عمل ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬