آيتالله جوادي آملي کي شفارش طلاب سے :

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيتالله عبدالله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں سورہ مبارکہ عنکبوت کي سلسلہ وار تفسير کو جاري رکھتے ہوئے بيان کيا : خداند عالم «أَنَّهُ عَلَى کُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ» اس بنا پر ہے کہ وہ «إِنَّهُ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» ہے وہ جو کہ سماوات و ارض کا عالم ہے اس کو قرا?ن اور اس کتاب کو نازل کرنا چاہيئے ، انسان کو قانون کي ضرورت ہے اور قانون دنيا کے حقا?ئق کے مطابق اور انسان سے موافق ہو ، صرف وہ اس عالم کے اسرار سے با خبر ہے جو اس دنيا و جہان کا پيدا کرنے والا ہے اس طرف سے «أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» جو شخص عالم ہے اس کو قرا?ن نازل کرنا چاہيئے اور جو جانتا ہے ، اس کو گواہي دينا چاہيئے ، اس کے اچھے ہونے کي وجہ اس کي روش ہے کہ بت اور اصنام کا نام بيان نہيں کيا ہے کلي تور پر فرمايا «وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ» بت پرست کو مؤمن اور ايمان لانے والا نہيں کہا جاتا مگر يہ کہ قرينہ پايا جاتا ہو ، ايسا نہيں ہے کہ مشرکين مؤمن ہوں يا ايمان لانے والوں ميں سے ہوں ?
انہوں نے ا?يہ « وَيَسْتَعْجِلُونَکَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : اگر کوئي غلط عمل انجام ديتا ہو اور ايک دورانديش عالم اس سے کہے کہ تم تيزي سے جہنم کے عذاب کي طرف بڑھ رہے ہو ، يہ « وَيَسْتَعْجِلُونَکَ» کا فعلي معني ہے اگر اس کا معني قول ہو تو اس کا مقصد استہزاء ہے ليکن اگر فعلي ہو تا يہ معني ہے کہ گناہگار عذاب کي طرف جا رہے ہيں ?
قرا?ن کريم کے مشہور و معروف مفسر نے ا?يہ «وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْکَافِرِينَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کي : يہ جہنم کافروں کے لئے ابھي ہے وہ اسي جہنم ميں زندگي بسر کر رہے ہيں ليکن قيامت کے روز حقيقي جہنم ظاہر ہوگا ، سورہ نساء کے ابتدا ميں بيان ہوا ہے کہ جو لوگ يتيم کا مال کھاتے ہيں ان کے بيٹ ميں ا?گ ہے جو اس معني کي طرف اشارہ کر رہي ہے يعني وہي ا?گ ان کے بيٹ ميں ہے اور وہ اس کا احساس نہيں کر رہے ہيں کيونکہ وہ کاموں ميں مشغول ہيں اس کي طرف توجہ نہيں کرتے اگر جوئي اس طرف توجہ کرے تو درد کا احساس کرے گا ?
انہوں نے وضاحت کي : خداوند اگر چاہے تمام گنہگاروں پر عذاب نازل کرے «مَّا تَرَکَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍ» ليکن خداوند عالم بہت سارے لغزش کو نظر انداز کر جاتا ہے ، اگر جو گناہ بھي کيا فورا خدا اس کي سزا دے تو پھر اس زمين پر کوئي باقي نہيں رہے گا ، خداوند عالم نے سب لوگوں کو توبہ کا موقع ديا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے