30 December 2012 - 20:43
خبر کا کوڈ: 4946
فونت
حجت‌الاسلام والمسلمين فاطمي ‌نيا :
رسا نيوز ايجنسي ـ حجت‌الاسلام والمسلمين فاطمي ‌نيا نے کہا : جو شخص دين ميں اعتدال نہيں رکھتا ہے وہ گمراہ ہو جاتا ہے جيسے اسماعيليہ فرقہ جنہوں نے دين کو تاويل کي ہے اور شيعت سے منحرف ہو گئے ?
حجت‌الاسلام والمسلمين فاطمي ‌نيا

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حوزہ علميہ کے استاد حجت ‌الاسلام والمسلمين سيد عبدالله فاطمي ‌نيا نے مسجد اعظم ميں تقرير کرتے ہوئے بيان کيا : جب قرآن کريم ، اھل بيت عليہ السلام کي روايت اور بزرگ فقہا دين کي طرف توجہ کرتے ہيں تو مشاھدہ ہوتا ہے کہ دين اسلام ظاھر اور باطن دونوں کا مالک ہے ?

انہوں نے وضاحت کي : جو لوگ يہ فکر کرتے ہيں کہ دين اسلام صرف ظاھر پر تمام ہوتا ہے اس کو علمي اعتبار سے ملعون شخص ميں شمار کيا جاتا ہے ?

حوزہ علميہ کے نمايا خطيب نے اس بيان کے ساتھ کہ صحيح راستہ کا حصول دين ميں اعتدال کے ساتھ ہونے سے حاصل ہوتا ہے اظہار کيا : جو شخص دين ميں اعتدال نہيں رکھتا ہے وہ گمراہ ہو جاتا ہے جيسے اسماعيليہ فرقہ جنہوں نے دين کو تاويل کي ہے اور شيعت سے منحرف ہو گئے اور دين سے بھي سے خارج ہو گئے ?

انہوں نے بيان کيا : قرآن اور روايت سے جو حاصل ہوتا ہے يہ ہے کہ دين اسلام ظاھر اور باطن دونوں کا مالک ہے اور اگر اسلام ظاھر پر تمام ہوتا تو امام حسين عليہ السلام قيام نہيں کرتے کيونکہ اگر اسلام صرف ظاھر پر ہوتا تو امام حسين عليہ السلام کا قيام بے معني ہوتا ?

حجت‌الاسلام والمسلمين فاطمي‌نيا نے امام سجاد عليہ السلام سے ايک روايت (جو کہ امير المومنين علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے ھم لوگوں سے وصيت کي ہے کہ علم کے باطن کو جاہلوں کو بيان نہ کرو ) کي طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کيا : اگر دين ميں باطن نہيں ہوتا تو اھل بيت عليہ السلام اس طرح کي گفت و گو نہيں کرتے کيونکہ علوم کو مخفي رکھنا مثل صرف و نحو معني نہيں رکھتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬