پاکستان کے مختلف شھروں ميں؛

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمين پاکستان ، شيعہ علماء کونسل پاکستان ، جعفريہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن اور جعفريہ يوتھ کراچي نے پاکستان کي حاليہ شيعہ نسل کشي ، بدلتي حالت زار اور حکومت کي خاموشي کے خلاف گذشتہ روز نماز جمعہ کے بعد پاکستان کے مختلف شھروں ميں متعدد احتجاجي جلوس نکالے ?
پاکستان کے دارالحکومت اسلام ا?باد ميں مجلس وحدت مسلمين اسلام آباد کي طرف سے سانحہ مستونگ کيخلاف امام بارگاہ اثناء عشري سے احتجاجي ريلي نکالي گئي جو چائنہ چوک پہنچ کراختتام پذير ہوگئي ?
ريلي ميں مرکزي عہدہ داروں کے علاوہ رياست پنڈي اور اسلام آباد کے عہدہ داران بھي شامل تھے، ريلي ميں شرکاء نے بينرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر دہشتگردي کيخلاف نعرے درج تھے اور حکومتي بے حسي کو نماياں کيا گيا تھا?
ايم ڈبليو ايم پنجاب کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام اصغر عسکري، مرکزي سکريٹري جوانان حجت الاسلام اعجاز حسين بہشتي، مرکزي رابطہ عامہ ملک اقرار حسين، دارالحکومت کے سکريٹري جوانان ظہير عباس نقوي نے کراچي اور بلوچستان کو فوري طور پر فوج کے حوالے کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: سانحہ مستونگ ميں ملوث افراد کو کيفر کردار تک پہنچايا جائے، بلوچستان کے حالات کو بہتر بنانے کيلئے نااہل وزيراعلي? بلوچستان نواب اسلم رئيساني کو اس کي نااھلي اور دہشتگردي کي سرپرستي کي بنياد پر صوبے ميں گورنر راج لاگو کيا جائے ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ نواب اسلم رئيساني کے خود اپنے علاقہ مستونگ ميں دہشتگردي کي يہ تيسري بدترين واردات ہے جس ميں 19 افراد کو شہيد کر ديا گيا، جبکہ درجنوں اب بھي زخمي ہيں تاکيد کي : پورا ملک تباہي کے دہانے پر پہنچ گيا ہے ، آئے روز ملک ميں کبھي ٹارگٹ کلنگ تو کبھي زائرين کي بسوں کو نشانہ بنايا جارہا ہے جس کے باعث اب تک سينکڑوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہيں ليکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کانوں پر جوں تک نہيں رينگتي ?
دوسري جانب سرزمين پاکستان کي محترم و محبوب شخصيت ، شيعہ علما کونسل کے سربراہ کي اپيل پر جعفريہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن گلگت ڈويژن دنيور يونٹ کے زير اہتمام سانحہ مستونگ کيخلاف نماز جمعہ کے بعد مرکزي اماميہ جامع مسجد دنيور سے علمدار چوک تک نکالي گئي جس ميں کثير تعداد ميں مومينن نے شرکت کي ?
مقررين نے احتجاجي ريلي کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ملک کے اندر ا?ئے روز بے گناہ شيعہ مومنين کو دهشت گردي کا نشانہ بنايا جا رہا ہے اور حکومت خاموش تماشائي ہے ?
انہوں نے کوئٹہ ميں زائرين کے بسوں کو دہشت گردي کا نشانا بنانے کي شديد الفاظ ميں مذمت اور بے گناہ شيعہ زائرين کي المناک شہادتوں کو کربلا کا تسلسل قرار ديتے ہوئے کہا: دہشت گرد ا?ئے روز دہشت گردي سے پاکستان کے استحکام کو خراب کرنا چاہتے ہيں مگر رياستي ادارے محب وطن مومنين کو تحفظ فراہم کرنے ميں ناکام ہو چکے ہيں ?
انہوں نے حکومت اور رياستي اداروں سے محب وطن عوام کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: سانحہ مستونگ اور ديگر حوادث کے ملزمان اور دہشت گردوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے ميں لايا جائے ?
شيعہ علماء کونسل حيدرآباد نے بھي سانحہ مستونگ اور پاکستان کے ديگر حلقوں ميں شيعہ نسل کشي اور حکمرانوں کي خاموشي کے خلاف نماز جمعہ کے بعد قدم گاہ مولا علي (ع) کے سامنے شديد احتجاجي مظاہرہ کيا ?
مظاہرے ميں شريک افراد ہاتھوں ميں بينرز اٹھائے حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے?
شيعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزي جنرل سکريٹري حجت الاسلام عارف حسين واحدي نے مظاھرين سے خطاب ميں يہ کہتے ہوئے گذشتہ کئي سالوں سے بلوچستان ميں زائرين کي بسوں پر مسلسل حملے کئے جا رہے ہيں جس کے نتيجے ميں اب تک دسيوں گھرانے سوگورا ہيں کہا : کراچي اور کوئٹہ ميں بھي شيعہ افراد کي ٹارگٹ کلنگ کي جارہي ہے ليکن حکومت دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے خاموش تماشائي کا کردار ادا کررہي ہے?
مظاہرين نے حکومت سے زائرين پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کرکے قرار واقعي سزا دئے جانے کا مطالبہ کيا ?
جعفريہ يوتھ کراچي ڈويژن نے بھي ديگر شيعہ تنظيموں کے ھم صدا ہوتے ہوئے کراچي ميں نماز جمعہ کے بعد جامعہ مسجد مصطفي? سے ابوالحسن اصفہاني روڈ تک احتجاجي ريلي کا انعقاد کيا گيا جس ميں بڑي تعداد ميں لوگوں نے شرکت کي اور سانحہ کي شديد الفاظ ميں مذمت کي اور ملوث عناصر کي في الفور گرفتاري اور سزا دينے کا مطالبہ کيا-
ريلي ميں شيعہ علماء کونسل کراچي کے رہنما مولانا صفدر حسين الحسيني، مولانا احمد حسين، مولانا عباس مجاہدي، مولانا احمد اقبال رضوي جعفريہ يوتھ کراچي کے رہنماء محمد رضا عابدي، احمد ترابي ، ذيشان علي نے خطاب کيا ?
مقررين نے اپنے خطاب ميں يہ کہتے ہوئے کہ کوئٹہ کے نزديک مستونگ بائي پاس پر زائرين کي بس کو دہشت گردي کا نشانہ بنانے کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے سانحہ ميں بڑي تعداد ميں مومنين کي شہادت پر لواحقين سے اظہار افسوس کيا اور کہا: گزشتہ کئي سالوں سے کوئٹہ ميں منظم انداز ميں ايران جانے والے شيعہ زائرين کو دہشت گردي کا نشانہ بنايا جارہا ہے ليکن آج تک ايک بھي قاتل کو گرفتار نہيں کيا گيا ?
انہوں نے بيان کرتے ہوئے کہ دہشت گرد عناصر يہ سمجھتے ہيں کہ وہ اس طرح کي بزدلانہ کاروائياں کرکے زائرين کے شوق زيارت کو کم کرديں گے تو يہ ان کي غلط فہمي ہے کہا: حکومت بلوچستان دہشت گردوں آگے بے بس نظر آتي ہے ايسے وآقعات حکوت کي نااہلي کا منہ بولتا ثبوت ہيں ?
انہوں نے مزيد کہا : ملک ميں گذشتہ کئي برسوں سے کالعدم انتہا پسند عناصر ملت جعفريہ کے معصوم لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا رہے ہيں ليکن اب تک ايک بھي قاتل گرفتار نہيں ہوا حکومت کي جانب سے کھوکھلے دعوؤں کے باوجود کوئي اقدامات نہيں کئے جا رہے حکومت سب کچھ جانتے بوجھتے خاموش تماشائي بني ہوئي ہے? سزا يافتہ مجرمان جيلوں ميں پل رہے ہيں مگر ان کي سزاؤں پر عملدرآمد نہيں ہوتا? ان کي سزاؤں پر عملدرآمد ميں کون سي قوت رکاوٹ ہے ؟ جو ايک سواليہ نشان ہے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ ملک ميں تسلسل کے ساتھ ايک مخصوص فرقے کو دہشت گردي کا نشانہ بنايا جا رہا ہے ، بار بار کي اپيل کے با وجود نہ کسي سانحے پر کوئي اعلي? عدالتي کميشن بنتا ہے نہ قاتل بے نقاب ہوتے ہيں کہا: ہم حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہيں کہ وہ ملک ميں جاري لا قانونيت اور دہشت گردي کو بند کر نے کے ليے ٹھوس اور عملي اقدامات اٹھائيں ، ملک ميں جاري شيعہ مسلمانوں کے قتلِ عام کو روکا جائے اور سزا يافتہ مجرموں کو جيل ميں پالنے کے بجائے ان کي سزاؤں پر عملدر آمد کروا کر ان ظالم دہشت گردوں کو کيفر کردار تک پہونچايا جائے?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے