آيت الله جوادي آملي:

رسا نيوزايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مفسر کبير حضرت آيت الله عبد الله جوادي آملي نے ا?ج مسجد ا?عظم حرم مطھر حضرت معصومہ قم(س) ميں سورہ مبارکہ روم کي تفسير کرتے ہوئے کہا: اس سورہ ميں توحيد کے سلسلہ ميں متعدد ا?تيں ا?ئي ہيں ، کبھي زمين اور کبھي اھل زمين ، ا?سمان اور اھل ا?سمان کا ايک ہي جگہ تذکرہ ہے اور کبھي الگ الگ ان کا تذکرہ کيا گيا ہے ، اس کے بعد قيامت کا تذکرہ ہے اور پھر مقصد خلقت و نظام بيان کيا گيا ، اور ا?خرت ميں نيک انسانوں اور گناہ گاروں کے درميان موجود فرق کا ذکر ہوا ، ايک يہ دن دنيا مٹ جائے گي مگر انسانوں کے اعمال باقي رہيں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا ?
انہوں نے سورہ روم کي 25 ويں ا?يت « وَمِنْ آيَاتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنتُمْ تَخْرُجُونَ؛ اور اس کي نشانيوں ميں سے يہ بھي ہے کہ آسمان و زمين اسي کے حکم سے قائم ہيں اور اس کے بعد وہ جب تم سب کو طلب کرے گا تو سب زمين سے يکبارگي برآمد ہوجائيں گے » کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خداوند متعال نے سورہ فصلت ميں فرمايا کہ « ثُمَّ اسْتَوَى? إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ کَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ؛ اس کے بعد اس نے آسمان کا رخ کيا جو بالکل دھواں تھا اور اسے اور زمين کو حکم ديا کہ بخوشي يا بہ کراہت ہماري طرف آؤ تو دونوں نے عرض کي کہ ہم اطاعت گزار بن کر حاضر ہيں » يہ تمثيل نہيں ہے بلکہ يہ چيزيں ادراک رکھتي ہيں اور گواہي ديں گي ، زمين جانتي ہے کہ کن لوگوں نے اس پر عبادت کي ہے اور کن لوگوں نے گناہيں انجام دي ہيں ، مسجد جانتي ہے کہ کون پڑوسي ا?يا اور کون پڑوسي نہيں ا?يا ، خوش ہوکر يا مجبور ہوکر ا?نے کے حوالے ھمارے پاس کوئي ثبوت موجود نہيں ہے، «وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ کُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ ؛ آسمان و زمين ميں جو کچھ بھي ہے سب اسي کي ملکيت ہے اور سب اسي کے تابع فرمان ہيں » زمين وا?سمان ميں موجود تمام چيزيں اس کے سامنے سر بہ سجود ہيں ، لھذا يہ دو ا?يتيں اس بات کي بيان گر ہيں کہ تمام نظام ھستي خداوند متعال کي مطيع اور فرمانبردار ہيں ، قيامت کے دن جب خداوند متعال انسانوں کو بلائے گا تو سب اپني قبروں سے نکل کر اس کي بارگاہ ميں حاضر ہوں گے ?
قران کريم کے اس نامور مفسر نے مزيد کيا : ھم سے کہا گيا کہ ا?پ انبياء الھي کي باتوں پر عمل کريں تا کہ وہ اپ کو راستہ ديکھا سکيں ، نہ خود راستہ سے ہٹيں اور نہ کسي کے راستہ کا کانٹا بنيں ، بے دين عالم کا علم مختصر سي مدت ميں جنگ جھاني اول اور دوم کا سبب بنا ، اگر دين نے تاکيد کي ہے کہ ھرگز ايٹمي اور بڑے پيمانے پر تباہي پھيلانے والے اسلحوں کے درپہ نہ رہو اور اگر مراجع کرام نے اس طرح کے اسلحوں کو حرام کيا ہے تو وہ اسي دليل کي بنياد پر ہے ، ھم مسالمت ا?ميز جوھري توانائي حاصل کرنا چاھتے ہيں ، ان لوگوں نے اس قدر انسانوں کا قتل عام کيا ہے کہ اب تھک چکے ہيں ، اور پھر ديگر ممالک ميں جمھوريت پہونچانا چاھتے ہيں ، البتہ بزرگ انسان دنيا کے ھر کونے ميں اور ھر وقت موجود رہے ہيں ، اگر کسي نے انبيا کي باتيں ماني ہوتيں تو يہ جنگيں وجود ميں نہ ا?تيں ، مشرق وسطي ميں ؛ ميانمار ، بنگلاديش، سوريہ ، افغانستان اور پاکستان کے لوگ جس سے عرصہ دراز تک گرفتار رہے اور نيز 8 سال تک ھميں بھي اس ميں گرفتار کيا گيا ، خداوند متعال نے اس دنيا کو جنگوں کے لئے پيدا نہيں کيا بلکہ ايک دن وہ ا?ئے گا جب پوري دنيا پر عدل و انصاف کا دور و دورہ ہوگا ?
حضرت آيت الله جوادي آملي نے ا?يت « وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى? فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ ؛ اور وہي وہ ہے جو خلقت کي ابتدا کرتا ہے اور پھر دوبارہ بھي پيدا کرے گا اور يہ کام اس کے لئے بے حد آسان ہے اور اسي کے لئے آسمان اور زمين ميں سب سے بہترين مثال ہے اور وہي سب پر غالب آنے والا اور صاحب حکمت ہے » کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فطرتي نظام ميں سارا جھان خداوند متعال کے سامنے سر بہ سجود ہے ، خداوند متعال نے حضرت زکريا سے کہا کہ ھم نے تمھيں اس وقت پيدا کيا جب کہ کچھ بھي نہيں تھا ، خداوند متعال نے انسان کو عدم سے وجود بخشا اور اس کے بعد کہا کہ «هَلْ أَتَى? عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَکُن شَيْئًا مَّذْکُورًا ؛ يقينا انسان پر ايک ايسا وقت بھي آيا ہے کہ جب وہ کوئي قابل ذکر شے نہيں تھا » اور پھر اس بالاتر اس کي خلقت کے ديگر مراحل علقہ و مضغہ کا تذکرہ کيا ، موت کے بعد بھي تمام چيزيں موجود ہيں ، روح جو انسانوں کي اساس اور بنياد ہے ختم نہيں ہوگي ، عالم ميں انساني ذرات بھي موجود ہيں جسے خداوند متعال اکٹھا کرے گا اور ان کا واپس لوٹانا «وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» خلقت سے کہيں زيادہ ا?سان ہے ?
انہوں نے خداوند متعال کي بے انتہا قدرت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ کوئي کام اس کے لئے اسان ہے اور کوئي کام اس کے لئے اسان تر بے معني ہے کہا: اگر خداوند متعال پوري دنيا کو مٹانا چاھئے اور دوبارہ اسے خلق کرنا چاھے«ذَ?لِکَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ» يہ ايک دشوار کام ہے جس سے سخت کام تصور نہيں کيا جاسکتا ، اوراس سے اسان کام بھي موجود ہے کہ خداوند متعال سايہ کو اکٹھا کرتا ہے ، «ثُمَّ قَبَضْنَاهُ إِلَيْنَا قَبْضًا يَسِيرًا» فرمايا کہ سايہ کو جمع کرنا ھمارے لئے اسان ہے ، پوري دنيا کو مٹا دينا بھي ميرے لئے اسان ہے ، سورج کي کرنوں کو يکجا کرنا بھي اسان ہے ، لھذا خدا کي لامتناہي قدرت کے اگے يہ بات قابل تصور نہيں کہ کوئي کام اسان ہو يا کوئي کام دشوار ، بعض مفسرين کا کہنا ہے کہ اھون ھين کے معني ميں ہے ، يعني اھون افضليت کے معاني سے عاري ہے ، مگر عقلي راستہ کے سوا کے کوئي قرينہ موجود نہيں ہے ، «وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى?» يعني اگر کوئي صفت يا مثال بيان کي گئي تو وہ تمھيں سمجھانے کے لئے تھي کيوں کہ زمين و اسمان ميں برترين اوصاف اس کي ذات سے مخصوص ہيں ?
حوزہ علميہ قم ميں مدرسين کونسل کے رکن نے بيان کيا : اگر انسان زرق و برق اور ماديات سے لو لگالے اور ايک دوسرے پر خود کي برتري ظاھر کرنے کے درپہ ہوتو يہ زمين و اسمان تم سے بھي بڑے ہيں ، « لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ» تم کس چيز پر فخر کرنا چاھتے ہو ،«إِنَّکَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا» اور اگر يہي معنوي قدرت پر ہو تو پھر يہ فخر بحق ہے کيوں کہ زمين و اسمان ميں اس بوجھ کے اٹھانے کي طاقت نہيں «إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ؛ بيشک ہم نے امانت کو آسمانً زمين اور پہاڑ سب کے سامنے پيش کيا اور سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کيا اور خوف ظاہر کيا بس انسان نے اس بوجھ کو اٹھاليا کہ انسان اپنے حق ميں ظالم اور نادان ہے » ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے