گذشتہ دنوں عزادروں کي شھادت پر؛

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے صو بہ اتر پرديش کي دارالحکو مت لکھنئو ميں پچھلے دنوں ايک مجلس کے بعد عزاداروں پر ہوئے حملے کے ملزموں کي گرفتا ري و ديگر مانگوں کو ليکر آج علما ء و ذاکرين نے درگا ہ حضرت عبا س ميں ايک جلسہ کا انعقاد کيا ?
جلسہ ميں بڑي تعداد ميں لو گو ں نے شرکت کر عزاداروں پر ہو ئے حملہ کے مجرمو ں کي گرفتا رنہ ہو نے پر افسوس کا اظہا ر کيا ?
اس مو قع پر علما و ژاکرين کو جا نب سے وزير گنج ميں عزاداروں پر فائرنگ کي جانچ ايس آئي ٹي سے ہٹاکر اے ٹي ايس يا ايس ٹي ايف سے کرائے جانے، فائرنگ ميں شہيد شانو کي بيوي کو وزير اعلي? کے ذريعے خود آکر معاوضے کي رقم سونپي جانے، فائرنگ ميں مفرور لوگوں پر اين ايس اے لگائے جانے، دائود، ساجد، مقصود کي فوراً گرفتاري سميت کئي تجويز آج درگاہ حضرت عباس ميں ہوئے جلسے ميں پاس کئے گئے?
مولانا کلب جواد کے ذريعے بلائے گئے اس جلسے ميں قوم کے مسئلے پر مولانا حميدالحسن، مولانا کلب جواد، مولانا آغا روحي، مولانا يعسوب عباس، مولانا ظہير افتخاري، مولانا ميثم زيدي، مولانا فريدالحسن، مولانا عباس ارشاد، مولانا صدف جون پوري، مولانا ثقلين عابدي، مولانا رضا حسين، مولانا فيروز حسين، مولانا مسيب ،مو لا نا شبا ہت حسين رضوي ،,سميت کئي مولانا آج ايک ساتھ اسٹيج پر نظر آئے اس جلسے کا آغاز تلاوت قرآن مجيد سے ہوا?
اس جلسے کو خطاب کرتے ہوئے مولانا حميد الحسن نے اتني تعداد ميں علماء اور عوام کي موجودگي کو ايک انقلابي جلسہ بتايا اور بيان کيا : عزاداري پر قربانياں کبھي ناکام نہيں ہوئيں بلکہ دشمنانِ عزا ہي ناکام ہوئے?
انہوں نے کہا : اس جلسے ميں موجود علماء کي تعداد سے يہ واضح ہوگيا ہے کہ ان ميں آپسي اختلاف تو ہوسکتے ہيں ليکن مذہب اور عزاداري کے نام پر سب ايک ہيں?
مولانا حميد الحسن نے صاف طور پر کہا : آپسي اختلاف اب اخبار، مجالس يا جلسوں ميں بيان نہيں ہوں گے، جس کو جس سے بھي شکايت ہوگي سب مل بيٹھ کر حل کر لينگے?
انہوں نے کہا : موجودہ حالات کافي تشويشناک ہے جن پر ايک اسٹينڈنگ کميٹي بناکر لائحہ عمل طے کر حل کيا جائے گا?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے