13 February 2013 - 14:08
خبر کا کوڈ: 5096
فونت
آيت ‌الله جوادي آملي نے بيان کيا :
رسا نيوز ايجنسي ـ حضرت آيت‌ الله جوادي آملي نے حوزار علميہ کو انساني علوم کي تبديلي و ترقي ميں کردار پيش کرنے کي تاکيد کرتے ہوئے بيان کيا : اس وقت کا اھم مسئلہ يونيورسيٹيوں کا اسلامي ہونا ہے اور انساني علوم ميں ترقي و تبديلي ہے ، جب مادي گرائي اور مادي فکر کي وجہ سے دين افسانہ و داستان ہو تو وہ علم ديني علم نہيں ہے ?
آيت ‌الله جوادي آملي

رسا نيوز ايجنسي کے رپورٹر کي رپورٹ کے مطابق حضرت آيت ‌الله عبدالله جوادي آملي نے ايران کے مقدس شہر قم کے مسجد اعظم ميں اپنے تفسير کے درس ميں سورہ مبارکہ روم کي تفسير کے سلسلہ کو جاري رکھتے ہوئے بيان کيا : بعض علوم ا?لہ کے طور پر ہيں اور بعض علوم عملي ہيں ، علم اصول اور اس کے جيسے علوم عمل کے لئے ہيں اور ذاتي طور پر ان کي ضرورت ہے ، بعض علوم خود اصلي و بنيادي ہيں جس کا حصول ضروري ہے ?

انہوں نے «فَأَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ ذَ?لِکَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـ?کِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» کي طرف اشارہ کرتے ہوئے بيان کيا : اس وقت کا اھم مسئلہ يونيورسيٹيوں کا اسلامي ہونا ہے اور انساني علوم ميں ترقي ہے ، جب مادي گرائي اور مادي فکر کي وجہ سے دين افسانہ و داستان ہو تو وہ علم ديني علم نہيں ہے ، ليکن توجہ کرني چاہيئے کہ ھم لوگ کے پاس غير ديني علم نہيں ہے ، جہان خلقت ہے اور معلوم ، خدا کا فعل ہے ، ھم لوگ خدا کے فعل ميں غرق ہيں ، کيا ايسا ممکن ہے کہ کوئي شخص خدا کے فعل کي معرفت رکھتا ہو اور اس کا خدا کي معرفت رکھنا ديني نہ ہو ، جب معصوم (ع) کے فعل و قول کے سلسلہ ميں بحث ديني ہے تب تو يقيني طور سے خداوند عالم کے فعل کے سلسلہ ميں بحث ديني ہوگا ?

حوزہ علميہ قم ميں درس خارج کے استاد نے بيان کيا : اس وقت انساني علوم ترقي کے محاذ پر ہيں حوزات علميہ اس کي بنياد و اصول کو ترتيب دے اور ايسے افراد کے ہاتھوں ميں سونپے جن کي کوشش يہ ہے کہ انساني علوم کو دين کے مطابق ڈيزائين کريں ، دوسرے لوگ توحيدي فکر نہيں رکھتے ہيں ان کي بنياد بغير کسي منبع و ذرايع کے ہيں ، خود اپنے فکر کا استعمال کرتے ہيں اور يہ فکر ہوا کے ساتھ ہوئي فکر ہے اسي وجہ سے اپني فکر کے مطابق اصول کا استخراج کرتے ہيں اور اس اصول کے مطابق مطالب جمع کرتے ہيں ، اس وقت اقوام متحدہ نے وٹو کا حق عالمي جنگ جيتنے والے کو ديا ہے ، کيا وٹو کا يہ حق «وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلَى?» کي بنياد پر ہے ؟ بلکہ ان کو يہ حق اس لئے ملا ہے کيونکہ يہ لوگ زيادہ مہلک ہتھيار رکھنے والے تھے اور زيادہ لوگوں کو قتل کرنے ميں کامياب ہوئے ہيں اور اس کي بنا پر وٹو کو حق حاصل کر ليا اور اس کو ايک قانوني اعتبار دے ديا ، حالانکہ وہ فلسطين مظلوم جو ?? سال سے بے گھر و بے وطني اور ا?وارگي کي زندگي گزار رہے ہيں ان کے حق کا خيال نہيں کيا گيا کيونکہ قانون بنانے والے مادي پرست انسان کے پاس کوئي منبع نہيں ہے انہوں نے اپني ھوس و مرضي کے بنا پر يہ قانون بنايا ہے اور اپنے اس مادي و ھوس کي بنياد کو تمام امور ميں پيش کرتے ہيں ?

تفسير کے مشہور و معروف استاد نے وضاحت کي : اگر کوئي چاہتا ہے انساني علوم کي بنياد کو تبديل کريں تو اس کو چاہيئے کہ وہ تحقيق کرے کہ اس دنيا ميں کتنے ذرايع و منابع پائے جاتے ہيں بعض افراد باطل الحادي فکر رکھتے ہيں اور کہتے ہيں تمام چيزوں کا انحصار ماديت پر ہے ، بعض لوگ مشرک ہيں ، يہ مشرک بتوں کو اپني شفاعت کرنے والا جانتے ہيں کہ وہ ان کي اقتصادي و معاشي حالات کو صحيح کرے گا ، اور بعض توحيد پر ايمان رکھتے ہيں توحيد کے مطابق جہان کو ديکھتے ہيں و انسان و دنيا کے درميان رابطہ توحيد کي بنياد پر ہے اس ميں سياست ، سماج ، معيشت ، ثقافت ، آرٹ اور اس کے جيسے تمام امور وحياني منبع سے حاصل کئے جائيں ، اگر ثابت ہو کہ انسان کي ابتدا خدا کے نام سے ہے اور اس کا خارتمہ بھي خدا کے نام سے ہے اور ايک بدن رکھتا ہے جو کہ مادي خلقت نظام کے ساتھ مل کر ہے اور ايک روح رکھتا ہے جو کہ ملکوتي نظام کے ساتھ مرتبت ہے ، اس وقت اس بنياد کے مطابق انساني علوم کي توليد کي جا سکتي ہے اگر سياست اور معاشيات اور سماجيات ، مينجمنٹ فنون اور ثقافت ہے تو اس کو ان اصولوں کي بنياد پر تيار کيا جا سکتا ہے ?

حضرت آيت‌الله جوادي آملي نے بيان کيا : اگر کوئي شخص کا اعتقاد اس پر ہو کہ انسان ايک خدا پر ايمان رکھتا ہے اور انسان اور جہان کے درميان کے رابطہ کو خدا نے نظم دي ہے اور انسان مسافر ہے اور موت کے ذريعہ وہ مرتا ہے اور اس سفر کے لئے سامان کي ضرورت ہے تو اگر سياست ہے تو اس کا اس وجود سے ارتباط ضروري ہے ، معيشت و اقتصاد بھي ايسا ہي ہو ، دنيا ربا کے اصول پر کھومتي ہے ليکن دين ربا کو جنون کا درجہ ديتا ہے اسي طرح سوپر پاور کے لئے وٹو کا حق ايک غلط رواج ہے ، سود لينا اور دينا بھي غلط کام ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قرض الحسنہ صدقہ سے بھي بلند رتبہ رکھتا ہے ?
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬