ھندوستان

انہوں نے کہا : يہ وہ مظلوم امام ہيں جنھيں صرف 25 سال کي عمر ميں زھر دغا سے شھيد کر ديا گيا .
اسي سلسلےکي دوسري مجلس محلہ جعفراباد مين منعقد ہوئي جسے الحاج اکبر علي واعظ نے خطاب کيا.
اورايک تيسري مجلس محلہ عثمان پور ميں ہوئي جسے مولانا رمضان علي صابري نے خطاب کيا .
اپ نے اپني تقرير ميں اس امام مظلوم کے معجزات کا تذکرہ کيا اور اپ کے مصائب پڑھے ,
قابل ذکر ہے کہ مجالس کے بعد مومنين نے سينہ زني کي بچوں ، نوجوانوں اور بزرگوں کے ھمراہ جلوس ھاے علم مبارک نکالے گئے.
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے