
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وزارت خارجه کے ترجمان رامین مهمان پرست نے اھل مڈیا کے ساتھ اج اپنی ھفتہ وار نشست میں مرجع عظیم تقلید مکتب تشیع حضرت آیت الله سیستانی کی شهر ریاض عربستان کے وهابی امام جمعه محمد العریفی کے توسط توھین کے اعتراض میں اظھار کیا : حضرت آیت الله سیستانی شیعوں کے علاوہ اهل سنت کے بھی مورد احترام ہے اور یہ اھانت دنیا کے تمام مسلمانوں کی نگاہ سے مذموم ہے .
انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ اس طرح کے ناپسند اقدامات عربستان کےمذبھی اورکفریہ مراکز سے انجام پاتے ہیں کہا: توقع ہے کہ ھم ائندہ اس طرح کی باتوں کے شاھد نہ ہو.
وزارت خارجه کے ترجمان نے یمن میں امیریکا کی مداخلت اورسعودیہ کی مشارکت کی وجہ سے عوام کے قتل عام کی جانب شارہ کرتے ہوئے کہا : ھم علاقہ اورعلاقہ سے باہر کی ھر طاقت کی ملک کے داخلی مسائل میں ھر قسم کی مداخلت کو اچھا نہی سمجھتے خصوصا اس سلسلے میں فوجی اقدام کو نااکر امد جانتے ہیں چونکہ اختلافات کی زیادتی کا سبب ہے.
انہوں نے کہا : ممالک لشکر کشی کے بجائے کوشش کریں کہ یمن کی اقتصادی مشکلات کا حل نکالیں اور اس ملک کے دھشت گردی کے زمینہ کو ختم کریں .