26 January 2010 - 14:47
خبر کا کوڈ: 858
فونت
رسا نیوزایجنسی - حسنی مبارک نے ایک خطاب میں کہا کہ علاقائی اور عرب طاقتیں مصر کا استحصال کررہی ہیں.
مصر



رسا نیوزایجنسی کی عالمی خبار سے منقولہ رپورٹ کے مطابق مصر کے صدر حسنی مبارک نے عرب اور علاقائی قوتوں کے سلسلے میں کہا ہے کہ وہ مشرق وسطی امن مذاکرات کی نگرانی کرنے پر قاہرہ کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اتوار کے روز قاہرہ میں پولیس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مصر کی سلامتی کے بارے میں کسی قسم کا تساہل نہیں برتیں گے۔ "ہمارے ارگرد عرب، افریقا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں فرقہ وارانہ رجحانات میں اضافے سے پہلو تہی نہیں برتی جا سکتی۔"



حسنی مبارک نے مصر پر دباؤ ڈال کر اس کے استحصال کرنے کے حربوں کی مذمت کی اور کہا ہم اپنی سرحد پر افراتفری اور اپنی سرزمین کو دہشت گردی اور تباہی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔



انہوں نے اس امر کی جانب اشارہ کیا "کہ مصر کے پاس اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ کون اس کی سرحدوں پر میلے ٹھیلوں لگا کر اس کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ اپنے شیشے کے گھر میں بیٹھ کر مصر جیسے برادر ملک پر سنگ باری کرنے والوں کو ہم اس کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا مصر کی مشرقی سرحد پر سیکیورٹی سہولیات کی تعمیر ہمارا سیادتی حق ہے۔ اس میں ہم کسی کو مداخلت کا حق نہیں دے سکتے، نہ ہی ہم سے متنازعہ بنانے کی اجازت دیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی اتحاد کو نقصان پہنچانے، مسلمانوں اور قبطیوں کے درمیان فرقہ وارانہ فتنہ پردازی کی کوشش کرنے والوں سے سختی سے نپٹا جائے گا۔

انہوں نے کہ شیوخ جامعہ الازھر اور گرجا گرہوں کے بشپ پر زور دیا کہ وہ مصری ہم وطنوں کو اپنے روشن خطبات میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کریں کہ "دین اللہ کے لئے ہے جبکہ ملک سب کے لئے۔"انہوں نے کہا کہ مصر کو علاقے میں دیگر چیلنجوں کے ساتھ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ منافرت جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے۔

حسنی مبارک نے کہا کہ فلسطینی وفاق اور مشرق وسطی امن مذاکرات کو از سر نو دوبارہ شروع کرنے کی مصری کوششوں کی وجہ سے قاہرہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ تنقید عرب ملکوں کی طرف سے کی جا رہی ہے کہ جنہوں نے ایک دن بھی فلسطین کے لئے وہ قربانی نہیں دی جو ہم ایک عرصے سے فلسطینی عوام کی خاطر دیتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ لوگ فلسطینیوں کی مشکلات کو اپنے مخصوص مفادات کے لئے کیش کرا رہے ہیں۔

 

تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬