
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، نجف اشرف کے مراجع تقلید میں سے حضرت آیتالله علی سیستانی نے ایک استفتاء کے جواب میں جو ریڈیو معارف کے شعبہ فقه و سیرت کے زمزم احکام پروگرام میں سامعین کے دوسوال کے جواب میں جو اپ کے نمائندہ حجت الاسلام جواد محمودی کے ذریعہ جواب دیا گیا اپ نے کہا کہ انہوں نے بیگانوں کی سائٹ اور ڈیش سے استفادہ اور ملک کی رپورٹ کو انہیں دینا جائز نہی جانا .
سوال کا متن اور حضرت آیتالله سیستانی کا جواب مندرجہ ذیل ہے :
سؤال: کیا ھم بیگانوں کی سائٹ ، ڈیش اور دیگر ارتباتی وسائل سے استفادہ کرسکتے ہیں اورکیا انہیں اپنی باتوں کے جریان میں قرار دے سکتے ہیں؟
جواب: وہ سائٹیں ، ڈیش اور دیگر ارتباتی وسائل جو بیگانوں کے زیر نظر ہیں ان سے معلومات کا حاصل کرنا چاھے وہ مشروع ہی کیوں نہ ہوں اس لحاظ سے عام اورمعاشرے کے اخلاق کے خلاف اوراجتماعی قوانین کے بھی مخالف ہے حضرت آیتالله سیستانی ان وسائل سے استفاد ہ جائز نہی جانتے.
سؤال: اگر ھم بیگانوں کے ارتباتی وسائل رابطہ برقرار کرنا چاھیں اورایمیل ، اس ام اس ،سائٹ یا ڈیش کے ذریعہ ملک کے مسائل سے انہیں اگاہ کرنا چاھیں تو شرعا اس کا حکم ہے.
جواب: ایمیل ، اس ام اس ،سائٹ یا ڈیش کے ذریعہ ملک کے مسائل سے انہیں اگاہ کرنا چونکہ اسلام ومسلمین اور نظام کی مصلحت کے خلاف ہے حضرت آیتالله سیستانی اس بات کی بھی اجازت نہی دیتے اورجائز نہی ہے .