
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، ديوانيه بغداد عراق کےخطيب جمعه حجت الاسلام و المسلمين سيد حسن زاملي نے نماز جمعه کے خطبه ميں جو مسجد امام حکيم برگزار ہوا پارليمنٹ اليکشن ميں کچھ اميدواروں کے رد صلاحيت ہونے پر اظھار نظر کرتے ہوئے کہا : بعض داخلي اور خارجي ميڈيا اوراسي طرح کچھ سياسي احزاب رد صلاحيت کے بعد مستقل پوري کوشش ميں لگے ہيں کہ پروپگنڈے اورافواہ کے ذريعہ بعث پارٹي کے افراد کو دوبارہ حکومت ميں لےائيں.
انہوں نے مزيد کہا : افسوس صالح المطلک و ظافر العاني جيسےکچھ پارليمنٹ نمائندے بعث پارٹي کادفاع کرکے صدام کے ھاتھوں مارے گئے لوگوں کي توھين اورعوام کےاحساسات سے کھلواڑ کررہے ہيں کہ جو عوام کے غصہ اور تنفر کا سبب ہوگا.
انہوں نے آميريکا کوعرق ميں بعث پارٹي کي حمايت کا پرچمداربتاتے ہوئے کہا : بعث پارٹي کے افراد رد کوصلاحيت کيا جانا سبب بنا کہ بيگانہ افراد کہ ان ميں سےاميريکا سر فھرست انہيں واپس لانے ميں کوئي کسر نہ چھوڑيں .
حجت الاسلام زاملي نے عوام کا قتل عام کرنے والوں کي بخشش کے سلسلے ميں کہا : کچھ لوگ تمام بعث پارٹي کے افراد کي بخشش کے خواھاں ہيں جبکہ ان ميں سے بہت ساروں نے عوام کے خلاف مختلف جنايتوں کا اعتراف بھي کيا ہے اور وہ اس انجام شدہ جنايت اورقتل عام پر افتخار کرتے ہيں.
ديوانيه کے خطيب جمعه نے حسن المجيد معروف به علي شيميايي کو پھانسي کے پھندے پر لٹکائے جانے کو يتيموں ، بيواوں اور ملت عراق کي خوشحالي کا سبب بيان کيا اور اپ نے ديگر جانيوں کو پھانسي کے پھندے پر لٹکائے جانے کي تاکيد کي .