جامعة المصطفی العالمیه کے سربراہ :

حجت الاسلام والمسلمین علی رضا اعرافی، جامعة المصطفی العالمیہ کے سربراہ رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے گفت و گو میں کہا : ولایت فقیہ کے اور بادشاہی نظام میں بہت زیادہ فاصلہ پایا جاتا ہے کیونکہ ولایت فقیہ کا نظام ارثی نہی ہے تا کہ ارث کے بنا پر کسی شخص کو حاصل ہو جائے اور تنہا ملاک ارث نہی ہے؛ بلکہ متعدد ملاک پائے جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہا : بادشاہ کے یہاں کوئی انتخاب نہی پایا جاتا؛ لیکن نظام ولایت فقیہ میں انتخاب ہے گر چہ وہ دو مرحلہ میں ہو ۔
حوزہ علمیہ قم کے جامعہ مدرسین کے ممبر نے اظہار خیال کیا : ولایت فقیہ کے نظام میں ولی فقیہ کا
فیصلہ عدالت اور علم کے ساتہ ملا ہوا ہوتا ہے اور باطنی مراقبت پائی جاتی ہے اس کے باوجود مجلس خبرگان رھبری بھی ہوتی ہے کہ جو ایک کلی نظارت ولایت فقیہ کے باب میں اعمال کرتا ہے ۔
ھمارے اتحاد نے دشمن کو ناکام بنادیا
ھمارے اتحاد نے دشمن کو ناکام بنادیا