چامسکی نے جنوب لبنان کے جنگی علاقہ کا معاینہ کیا :

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق شیخ نبیل قاووق جنوب لبنان میں حزب اللہ کے ذمہ دار نے گذشتہ روز اپنے آفس جو جنوب لبنان کے شھر صور میں ہے نوآم چامسکی امریکا کے مفکر و مشہور زبان شناس سے ملاقات کی اور علاقہ اور عالمی مسائل پر گفت و گو اور اظہار خیال کیا ۔
چامسکی اس ملاقات میں لبنان کے خلاف صھیونی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ۲۰۰۶ میں اسرائیل کا لبنان کے خلاف جنگ امریکا کی طرف سے ملے گرین سیگنل اور واشنگٹن کے مشورہ اور مدد کے ساتھ شروع ہوا تھا یہ ۲۰۰۶ کا یہ جنگ وہ تھا جو صرف امریکا کے فیصلہ و حکم سے شروع ہوا تھا ۔
امریکا کے اس متفکر نے اس تاکید کے ساتھ کہ امریکا کی سیاست خاورمیانہ میں یکساں ہونا چاہیئے اور اس کی سیاست تبدیل نہ ہوعیسائیوں پر صھیونیستی قدرت کے اثرات بڑھتی جا رہی ہے اور حکومت امریکا کے فیصلہ پر صھیونی لوبی کے اثرات کو موجب پریشان و اضطراب جانا ہے اور کہا : یہ کام امریکا کے لئے اندرون و بیرون امریکا سے برے نتائج پیش کریگا ۔
قابل ذکر ہے کہ چامسکی گذشتہ روز جنوب لبنان کے دیھات اور مختلف علاقہ میں جیسے بنت جبیل، مارون الراس و الخیام کا معاینہ کیا اور حزب اللہ لبنان کے مجاھدوں کا اسرائیلی فوجی کے ساتھ ہوئے جنگ کے حالات دریافت کئے ۔
چامسکی اس ملاقات میں لبنان کے خلاف صھیونی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ۲۰۰۶ میں اسرائیل کا لبنان کے خلاف جنگ امریکا کی طرف سے ملے گرین سیگنل اور واشنگٹن کے مشورہ اور مدد کے ساتھ شروع ہوا تھا یہ ۲۰۰۶ کا یہ جنگ وہ تھا جو صرف امریکا کے فیصلہ و حکم سے شروع ہوا تھا ۔
امریکا کے اس متفکر نے اس تاکید کے ساتھ کہ امریکا کی سیاست خاورمیانہ میں یکساں ہونا چاہیئے اور اس کی سیاست تبدیل نہ ہوعیسائیوں پر صھیونیستی قدرت کے اثرات بڑھتی جا رہی ہے اور حکومت امریکا کے فیصلہ پر صھیونی لوبی کے اثرات کو موجب پریشان و اضطراب جانا ہے اور کہا : یہ کام امریکا کے لئے اندرون و بیرون امریکا سے برے نتائج پیش کریگا ۔
قابل ذکر ہے کہ چامسکی گذشتہ روز جنوب لبنان کے دیھات اور مختلف علاقہ میں جیسے بنت جبیل، مارون الراس و الخیام کا معاینہ کیا اور حزب اللہ لبنان کے مجاھدوں کا اسرائیلی فوجی کے ساتھ ہوئے جنگ کے حالات دریافت کئے ۔
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے