20 July 2010 - 18:31
خبر کا کوڈ: 1605
فونت
حضرت امام حسین (دوسری قسط) :
علامہ مذکور بحوالہ حضرت شیخ مفید علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اس تہنیت کے سلسلہ میں جناب جبرئیل بے شمارفرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف آرہے تھے کہ ناگاہ ان کی نظرزمین کے ایک غیرمعروف طبقہ پرپڑی دیکھا کہ ایک فرشتہ زمین پرپڑا ہوا زار و قطار رو رہا ہے ، آپ اس کے قریب گئے اورآپ نے اس سے ماجرا پوچھا اس نے کہا اے جبرئیل میں وہی فرشتہ ہوں جوپہلے آسمان پرستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرتا تھا میرا نام فطرس ہے جبرئیل نے پوچھا تجھے کس جرم کی یہ سزاملی ہے اس نے عرض کی ، مرضی معبود کے سمجھنے میں ایک پل کی دیرکی تھی جس کی یہ سزابھگت رہا ہوں بال وپرجل گئے ہیں یہاں کنج تنہائی میں پڑاہوں ۔
روضہ امام حسين کربلا


ائے جبرئیل خدارا میری کچھ مدد کروابھی جبرئیل جواب نہ دینے پائے تھے کہ اس نے سوال کیا ائے روح الامین آپ کہاں جا رہے ہیں انہوں نے فرمایا : نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں ایک فرزند پیدا ہوا ہے جس کا نام حسین ہے میں خداکی طرف سے اس کی ادائے تہنیت کے لئے جا رہا ہوں، فطرس نے عرض کی اے جبرئیل خدا کے لئے مجھے اپنے ہمراہ لیتے چلو مجھے اسی در سے شفا اورنجات مل سکتی ہے جبرئیل اسے ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب امام حسین علیہ السلام آغوش رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جلوہ فرما تھے جبرئیل نے عرض حال کیا ، سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : فطرس کے جسم کوحسین کے گہوارے سے مس کر دو، شفا مل جائے گی جبرئیل نے ایسا ہی کیا اورفطرس کے بال وپراس طرح روئیدہ ہوگئے جس طرح پہلے تھے ۔

وہ صحت پانے کے بعد فخرومباہات کرتا ہوا اپنی منزل ”اصلی“ آسمان سوم پرجا پہنچا اورمثل سابق ستر ہزار فرشتوں کی قیادت کرنے لگا، یہاں تک کہ وہ زمانہ آیا جس دن امام حسین علیہ السلام نے شہادت پائی اوراسے حالات سے آگاہی ہوئی تواس نے بارگاہ احدیت میں عرض کی مالک مجھے اجازت دی جائے کہ میں زمین پرجا کردشمنان حسین سے جنگ کروں ارشاد ہوا کہ جنگ کی ضرورت نہیں البتہ تو ستر ہزار فرشتے لے کر زمین پر جا اوران کی قبرمبارک پرصبح وشام گریہ و ماتم کیا کر اوراس کا جو ثواب ہو اسے ان کے رونے والوں کے لیے ہدیہ کردے چنانچہ فطرس زمین کربلا پرجا پہنچا اورتا قیام قیامت شب و روز امام حسین علیہ السلام کے مظلومیت پر روتا رہے گا . (10)۔

امام حسین علیہ السلام رسول اقدس کے سینہ پرسوارہونا

صحابی رسول ابوہریرہ راوی حدیث کا بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ دیکھا ہے کہ رسول کریم لیٹے ہوئے اورامام حسین علیہ السلام نہایت کمسنی کے عالم میں ان کے سینہ مبارک پرہیں، ان کے دونوں ہاتھوں کوپکڑے ہوئے فرماتے ہیں اے حسین تومیرے سینے پرکود چنانچہ امام حسین علیہ السلام آپ کے سینہ مبارک پر کودنے لگے اس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کا منہ چوم کرخدا کی بارگاہ میں عرض کی اے میرے پالنے والے میں اسے بے حد چاہتا ہوں توبھی اسے محبوب رکھ، ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت امام حسین علیہ السلام کا لعاب دہن اوران کی زبان اس طرح چوستے تھے جس طرح کجھور چوسی جاتی ہے ۔ (11) ۔

عید کے دن اپ کے لئے جنت سے کپڑے آنا

امام حسن علیہ السلام اورا مام حسین علیہ السلام کا بچپنا تھا عید آنے والی تھی اور ان شہنشاہ عالم کے گھرمیں نئے کپڑے کا کیا ذکر پرانے کپڑے، بلکہ روٹی تک نہیں ہے بچوں نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں مادرگرامی مدینہ کے بچے عید کے دن نئے نئے کپڑے پہن کرنکلیں گے اورہمارے پاس نئے لباس نہیں ہے ہم کس طرح عید منائیں گے ماں نے کہا بچوگھبراؤ نہیں، تمہارے کپڑے درزی لائے گا عید کی رات آئی بچوں نے ماں سے پھرکپڑوں کا تقاضا کیا ، ماں نے وہی جواب دے کرنونہالوں کوخاموش کردیا ۔

ابھی صبح نہیں ہونے پائی تھی کہ ایک شخص نے دق الباب کیا، دروازہ کھٹکھٹایا فضہ دروازہ پرگئیں اس شخص نے ایک بقچہ لباس دیا، فضہ نے سیدہ عالم کی خدمت میں اسے پیش کیا اب جوکھولاتواس میں دوچھوٹے چھوٹے عمامے دوقبائیں،دوعبائیں غرض کہ تمام ضروری کپڑے موجود تھے ماں کا دل باغ باغ ہوگیا وہ توسمجھ گئیں کہ یہ کپڑے جنت سے آئے ہیں لیکن منہ سے کچھ نہیں کہا بچوں کوجگایا کپڑے دئے صبح ہوئی بچوں نے جب کپڑوں کے رنگ کی طرف توجہ کی توکہا مادرگرامی یہ توسفید کپڑے ہیں اطفال مدینہ رنگین کپڑے پہننے ہوں گے، والدہ گرامی ہمیں رنگین کپڑے چاہئیں ۔

حضور انورکواطلاع ملی، تشریف لائے، فرمایا گھبراؤ نہیں تمہارے کپڑے ابھی ابھی رنگین ہوجائیں گے اتنے میں جبرئیل ایک ظرف لئے ہوئے آ پہنچے انہوں نے پانی ڈالا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارادے سے کپڑے سبز اور سرخ ہوگئے سبز جوڑا حسن نے پہنا سرخ جوڑا حسین نے زیب تن کیا، ماں نے گلے لگا لیا باپ نے بوسے دئیے نانا نے اپنی پشت پرسوار کر کے مہار کے بدلے زلفیں ہاتھوں میں دیدیں اور کہا، میرے نونہالو، رسالت کی باگ ڈور تمہارے ہاتھوں میں ہے جدھر چاہو موڑ دو اورجہاں چاہو لے چلو ، (12) ۔

بعض علماء کا کہنا ہے کہ سرور کائنات بچوں کو پشت پر بٹھا کر دونوں ہاتھوں اور پیروں سے چلنے لگے اور بچوں کی فرمائش پر اونٹ کی آواز منہ سے نکال نے لگے ،(13)۔


امام حسین علیہ السلام کا سردار جنت ہونا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث مسلمات اور متواترات سے ہے کہ ” الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنة و ابوھما خیر منھما “ حسن اور حسین جوانان جنت کے سردارہیں اوران کے پدر بزرگواران دونوں سے بہترہیں (ابن ماجہ)
صحابی رسول جناب حذیفہ یمانی کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بے انتہا مسرور دیکھ کرپوچھا حضور، اس فراط مسرت کی کیا وجہ ہے فرمایا : اے حذیفہ آج ایک ایسا ملک نازل ہوا ہے جومیرے پاس اس سے قبل کبھی نہیں آیا تھا اس نے مجھے میرے بچوں کی سرداری جنت پرمبارک دی ہے اورکہا ہے کہ” ان فاطمة سیدة نساء اھل الجنة وان الحسن والحسین سیداشباب اھل الجنة “ فاطمة جنت کی عورتوں کی سردارہیں اورحسنین جنت کے مردوں کے سردارہیں (14) ۔

اس حدیث سے سیادت علویہ کامسئلہ بھی حل ہوگیا قطع نظراس سے کہ حضرت علی میں مثل نبی سیادت کا ذاتی شرف موجود تھا اورخود سرورکائنات نے بار بار آپ کی سیادت کی تصدیق سیدالعرب، سیدالمتقین، سیدالمومنین وغیرہ جیسے الفاظ سے فرمائی ہے حضرت علی کا سرداران جنت امام حسن اور امام حسین علیہ السلام سے بہتر ہونا واضح کرتا ہے کہ آپ کی سیادت مسلم ہی نہیں بلکہ بہت بلند درجہ رکھتی ہے .

امام حسین علیہ السلام کا عالم نمازمیں پشت رسول پر ھونا

خدا نے جو شرف امام حسن علیہ السلام اورامام حسین علیہ السلام کوعطا فرمایا ہے وہ اولاد رسول اورفرزندان علی میں آل محمد کے سواکسی کونصیب نہیں ان حضرات کا ذکرعبادت اوران کی محبت عبادت، یہ حضرات اگرپشت رسول پرعالم نمازمیں سوار ہو جائیں، تو نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا، اکثر ایسا ہوتا تھا کہ یہ نونہالان پشت رسالت پر عالم نمازمیں سوار ہو جایا کرتے تھے اور جب کوئی منع کرنا چاہتا تھا تو آپ اشارہ سے روک دیا کرتے تھے اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ سجدہ میں اس وقت تک مشغول ذکررہا کرتے تھے جب تک بچے آپ کی پشت سے خود نہ اترآئیں آپ فرمایا کرتے تھے خدایا میں انہیں دوست رکھتا ہوں توبھی ان سے محبت کر، کبھی ارشاد ہوتا تھا اے دنیا والو! اگرمجھے دوست رکھتے ہو تو میرے بچوں سے بھی محبت کرو(15) ۔

حدیث «حسین منی»
سرور کائنات نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں، کہ اے دنیا والو! بس مختصریہ سمجھ لو کہ ” حسین منی وانامن الحسین “ حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین سے ہوں ۔ خدا اسے دوست رکھے جوحسین کو دوست رکھے (16) .
...................................
 
10. روضة الشہدا صص ۲۳۶ تا ۲۳۸ طبع بمبئی ۱۳۸۵ ئھ وغنیة الطالبین شیخ عبدالقادر جیلانی
11. ارجح المطالب ص ۳۵۹ و ص ۳۶۱ ، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۴، اصابہ جلد ۲ ص ۱۱، کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۴، کنوزالحقائق ص ۵۹
12. روضة الشہداء ص ۱۸۹ بحارالانوار
13. کشف المحجوب
14. کنزالعمال جلد ۷ ص ۱۰۷، تاریخ الخلفاص ۱۲۳، اسدالغابہ ص ۱۲، اصابہ جلد ۲ ص ۱۲، ترمذی شریف، مطالب السول ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴
15. اصابہ ص ۱۲ جلد ۲ ومستدرک امام حاکم ومطالب السؤل ص ۲۲۳
16. مطالب السؤل ص ۲۴۲، صواعق محرقہ ص ۱۱۴، نورالابصار ص ۱۱۳ ،صحیح ترمذی جلد ۶ ص ۳۰۷ ،مستدرک امام حاکم جلد ۳ ص ۱۷۷ و مسند احمد جلد ۴ ص ۹۷۲، اسدالغابہ جلد ۲ ص ۹۱ ،کنزالعمال جلد ۴ ص ۲۲۱.
تبصرہ بھیجیں
captcha
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬